جموں// جموں وکشمیر میں حال ہی میں انسپکٹر جنرل آف پولیس ٹریک کا عہدہ سنبھالنے والے بسنت کمار رتھ نے ریاست کے ٹرانسپورٹروں کو سرکار کی طرف سے منظور شدہ کرایہ ناموں کو اپنی گاڑیوں اور اسٹینڈوں میں نمایاں جگہوں پر آویزاں کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایسا نہ کرنے والوں اور منظورہ شدہ کرایہ سے زیادہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ بسنت رتھ نے جمعرات کو اس حوالے سے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ’تمام متعلقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مسافر کرایوں کی فہرست کو گاڑیوں ، بس اسٹینڈوں، میٹا ڈور اسٹینڈوں، سومو اسٹینڈوں اور آٹو رکشا اسٹینڈوںمیں نمایاں مقامات پر لگائیں‘۔ انہوں نے ٹرانسپورٹروں کو مسافروں سے منظورہ شدہ کرایہ ہی وصول کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے ’انہیں مزید ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سختی کے ساتھ متعلقہ حکام کے منظور شدہ کرایہ ہی چارج کریں۔ زائد کرایہ کی کسی بھی شکایت کو سختی سے دیکھا جائے گا اور قانون کے تحت مناسب کاروائی کی جائے گی‘۔ واضح رہے کہ بسنت رتھ نے سڑکوں پر اپنی ڈیوٹی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ بالخصوص فیس بک اور ٹویٹر پر اپنی پیار بھری دھمکیوں سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے عادی افراد کی نیندیں پہلے ہی حرام کردی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محض 13 روز قبل یعنی 9 فروری کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے والے آئی پی ایس افسر بسنت رتھ نے اس قلیل عرصہ کے دوران ہزاروں لوگوں کو اپنا مداح اور درجنوں بااثر افراد بشمول سیاستدانوں اور اعلیٰ پولیس افسروں کو ناراض کردیا ہے۔ بسنت رتھ نے وی وی آئی پی کلچر کے حوالے سے اپنی ایک فیس بک پوسٹ اور ٹویٹ میں اپنا ارادہ صاف کیاہے کہ’ میری کتاب میں وی وی آئی پی مریض کو اسپتال لے جانے والی ایمبولنس ہے‘۔انہوں نے ٹرانسفر کے خواہشمند ٹریفک پولیس اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ کسی سیاستدان کی سفارش کے بجائے انہیں بذات خود ٹیکسٹ مسیج بھیجیں۔ بسنت رتھ کا تعلق ریاست اڑیسہ سے ہے۔ وہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ دی وائر اور انڈین ایکسپریس کے لئے کالم لکھنے کے علاوہ انگریزی زبان میں شاعری بھی لکھتے ہیں۔