تبصرے اور تاثرات
پروفیسر رفیع الدین ناصر
ڈاکٹر عبدالعزیز عرفاؔن اپنی چالیس سالہ تدریسی خدمات ، ادب اطفال ، تانیثی ادب،افسانچہ نگاری، تراجم ، تاریخ و تنقید پر مشتمل ادبی خدمات کی وجہ سے علاقائی اور قومی سطح پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ اسی وجہ سے ملک کی تمام اردو اکیڈمیوں اور دیگر اداروں نے انہیں مختلف ایوارڈس سے سرفراز کیا ،قومی کونسل دہلی نے ان کے دو تحقیقی پراجیکٹس کو منظوری دی ہے، جس کو انھوں نے پائے تکمیل تک پہنچایا۔77 سال کے نوجوان چاک وچوبند قلم کار کی حیثیت سے وہ ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں ،ان کی رشحات قلم سے نکلی ہوئی تحریریں معلومات سے پر، دلچسپی اور تجسس سے بھری ہوتی ہیں۔
حال ہی میں ان کی پچاس ویں کتاب بعنوان’’ گلہائے ادب۔ اپنے رنگ و بو میں‘‘ شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالعزیز عرؔفان کی یہ کتاب ادب کا وہ گلدستہ ہے ،جس میں فاضل مصنف نے ادب کے مختلف رنگوں کو یکجا کر کے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ ٹائٹل پر بنگلور کے بوٹنیکل گارڈن کے گلوں سے بھری ہوئی تصویر پہلی ہی نظر میں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ جب قاری اس کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے تو بیک کور پر ایجوکیشن ایکسپو 2023 میں ان کا معروف قلم کار کی حیثیت سے استقبال کئے جانے کی تصویر قاری کو مصنف کی گراں قدر خدمات کا احساس دلاتی ہے ۔
کتاب’’ گلہائےادب۔اپنے رنگ و بو میں‘‘ یہ ڈاکٹر عزیز عرفاؔن کی مختلف رسائل و اخبارات و جرائد میں شائع کتابوں پر تبصروں اور قلم کاروں کی خدمات کی تحریروں پر مشتمل ہے جس میں کل بیس نثری وشعری مجموعوں پر تبصرے اور تصورات کا جامع انداز میں اظہار کیا گیا ہے، جس کے بارے میں ڈاکٹر عبدالعزیز عرفاؔن بذات خود ‘پیش گفتار میں رقمطراز ہیں کہ ’’زیر نظر کتاب میں مختلف شعراء اور ادباء کی تصانیف پر اپنے خیالات کا اظہار تبصروں ، تاثرات اور پیش لفظ کی صورت میں سپرد قلم کیا ہوں۔ یہ فن پارے واقعی گلہائے ادب میں بیش بہا اضافہ کرتے ہیں۔ ان فنکاروں میں صاحب تصانیف اور نامور شعرا اور ادبا حضرات کی کتب کی شمولیت ہے۔‘‘ ہم جب کتاب کی ورق گردانی کرتے ہیں تو مختلف ادبی رازوں سے واقفیت ہوتی ہے۔
کتاب کے پہلے باب میں ڈاکٹر انوراحمد خان (شیگاؤں) کی کتاب ‘اشعاعت اقبال پر تبصرہ ہے ،جس کے بارے میں ڈاکٹر عبدالعزیز عرفاؔن نے تحریر کیا ہے کہ زیر نظر کتاب اقبال شناسی میں ایک اہم اضافہ ہے۔ دوسرا باب مصطفٰی جمیؔل بالا پوری کی شعری مجموعے’’ عکس در عکس‘‘ پر ہے، جس کی ابتدا فاضل مصنف نے مصطفٰی جمیؔل کے اس شعر سے کی ہے ؎
آگیا راس مجھ کو عکس جمؔیل
عکس در عکس ہے سخن میرا
اسی شعر کی مناسبت سے اس کتاب کا نام رکھا گیا ہے جس کا ڈاکٹر عزیز عرفؔان نے مفصل تعارف کروایا ہے ۔کتاب کا اگلا حصہ ڈاکٹر نخشب مسعود (مالیگاؤں) سے منسوب ہے۔ ڈاکٹر نخشب مسعود کی شخصیت میں کئ قابلیتیں چھپی ہوئی ہیں اس وجہ سے ڈاکٹر عبدالعزیز عرؔفان نے اپنی کتاب میں ان کی شخصیت اور کتابوں کے حوالے سے دو مضامین شامل کیے ہیں جو ان کے افسانچوں اور ادب اطفال کے تعلق سے ہیں جس میں ڈاکٹر عزیز عرفؔان نے ان کا مفصل تعارف کروایا اور تحریری خدمات سے واقف کرایا یہ جو اردو کے محققین کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر عبدالعزیز عرفاؔن نے اس کتاب میں ڈاکٹر عظیم راہی (اورنگ آباد )پر ان کے افسانوی مجموعہ، افسانچوں کا مجموعہ، تنقیدی مضامین اور خاکہ نگاری پر مشتمل کتابوں پر جامع تاثرات پیش کیے ہیں جس سے ڈاکٹر عظیم راہی کی ادب کی مختلف جہتوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ڈاکٹر شاہدہ مناف (بلڈانہ) کے رشحات قلم کے تعلق سے دو مضامین شامل کتاب ہیں۔ جس میں ڈاکٹر عبدالعزیز عرفانؔ نے ڈاکٹر شاہدہ مناف کے تحقیقی میدان اور بچوں کی شاعری کے توسط سے انکی ادبی خدمات سے واقف کرایا ہے۔گلہائے ادب میں ڈاکٹر شاہین فاطمہ( اورنگ آباد) کے تحقیقی مقالہ ‘مراٹھواڑہ اردو غزل۔ آزادی کے بعد ‘سے پر مشتمل کتاب پر جامع تبصرہ و تعارف پیش کیا، جس کی وجہ سے ڈاکٹر شاہین فاطمہ کی ادبی و تحقیقی صلاحیتوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالعزیز عرفاؔن نے ملک کے مختلف گوشوں میں موجود قلمکار جن کےیہ ربط میں ہیں، ان پر فراخدلانہ خامہ فرسائی کی ہے جس میں مستقیم مقیم ممبئ، ان کی کتاب ‘نشان مستقیم( مضامین) اقبال نذیر (مالیگاؤں) کی کتاب’ نشید خاک‘ پروفیسر ڈاکٹر سرور سروشہ نسرین قاضی کے دو کہانیوں کے مجموعے پر بہترین تاثرات پیش کیے ہیں۔ شمس الضحیٰ اسرائیل (مالیگاوں) کی کتاب ‘ہمارا گھر کیوں نہیں، ڈاکٹر صالحہ عابد حسنین کی کتاب ‘اپنی اپنی صلیب ‘ سید غلام علی بیابانی ـ(اچلپور) کی کتاب’ شہادت الانوار‘ ، ڈاکٹر جاں نثار معین (حیدرآباد) کی کتاب ‘محمد قلی قطب شاہ کے صنفی تصورات ‘، منظوم ندیم ( بالا پور) کی کتاب ‘منظوم ندیم اور دھوپ کا درخت کے علاوہ تنویر رضا برکاتی کے سہ ماہی دا رالسرور(برہانپور) پر اعلیٰ تاثرات پیش کیے ہیں۔ اسی سلسلے کے تحت ڈاکٹر عبدالعزیز عرفاؔن نے پروفیسر رفیع الدین ناصر پر تحریر کردہ خاکہ بعنوان ‘ ڈاکٹر رفیع الدین ناصر۔ ایک ہمہ جہت شخصیت ‘شامل کیا، جس میں انہوں نے ڈاکٹر رفیع الدین ناصر کے مختلف ادبی ،تعلیمی، سائنسی، تحقیقی، صحافتی، ثقافتی،اخلاقی سرگرمیوں اور اعزازات کو مختصراً مگر جامع انداز میں پیش کیا ۔
کتاب کا دوسراحصہ’ بکھرے موتی‘ پر مشتمل ہے جس میں مصنف نے اپنے پہلے مضمون کی اشاعت کی تفصیلات بیان کی اسی طرح ‘بچوں کی دنیا’’ اردو دنیا‘‘ اور سہ ما ہی ‘سلسلہ ‘ میں نے ان سے لئے گئے انٹرویو کی تفصیلات کو شامل کیا، جو تمام کے تمام پڑھنے کے قابل ہیں۔ پوری کتاب مختلف ادبی گلوں سے مزین ہے، جس کو پڑھتے وقت فاضل مصنف کے وسیع مطالعے ، تحقیق اور وسیع النظری کا پتہ چلتا ہے ۔ بہترین گیٹ خوبصورت سرورق پر مشتمل اس کتاب کی قیمت سو روپئے ہے جو مناسب معلوم ہوتی ہے، جس کو مصنف سے حاصل کیا جا سکتا ہے کتاب’’ گلہائےادب۔ اپنے رنگ و بو میں‘‘ ‘اردو ادب میں ایک بہترین اضافہ ہے ،جس کے لیے میں ڈاکٹر عبدالعزیز عرفاؔن کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔(غیر مطبوعہ)
رابطہ ۔9422211634