یواین آئی
تہران// امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے دعوؤں کے باوجود، ایرانی فوج نے جمعہ کے روز دو جدید امریکی لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ایک ایف-35 طیارہ بھی شامل ہے۔اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ایک بیان میں آئی آر جی سی نے کہا کہ اس کے نئے تیار کردہ فضائی دفاعی نظام نے وسطی ایران میں ایک اسٹیلتھ ایف-35 لڑاکا طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنا کر مار گرایا ہے۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ امریکی فضائیہ کے لیکن یتھ اسکواڈرن سے تعلق رکھنے والا یہ طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور پائلٹ کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔آئی آر جی سی نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کی مکمل تباہی کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے کو “جھوٹا دعویٰ” قرار دیا ہے۔ اس بیان میں ایران کے متحدہ فضائی دفاعی نیٹ ورک کی مسلسل مؤثریت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے جھوٹے دعوے کے بعد، کچھ ہی لمحے پہلے قشم جزیرے کے جنوب میں آئی آر جی سی بحریہ کے جدید فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے جدید لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکی فوج کے لیے حالیہ عرصے میں ایک بڑا جھٹکا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے دو ایف-35، ایک ایف-18، دو ایف-16 اور چار ایف-15 سمیت کئی جدید امریکی طیاروں کو مار گرایا ہے۔اس دروان بلغاریہ کی وزیر خارجہ نادیڑدا نینسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کرنے کے مقصد سے کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔بلغاریہ کی خبر رساں ایجنسی بی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق وزیر نے یہ بیان جمعرات کے روز برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کی جانب سے منعقدہ مشترکہ ویڈیو کانفرنس کے دوران دیا۔ دوسری جانب نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ ٹام بیرینڈسن نے کہا کہ نیدرلینڈز دشمنی کے خاتمے کے بعد آبنائے میں آزادانہ جہاز رانی بحال کرنے کے لیے فوجی تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔