تاریخ کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حق ،باطل کے خلاف روزِ اول سے ہی بر سر پیکار ہے ۔کبھی حضرت ابراہیم ؑ کو حق کے پیغام کی خاطر دہکتی آگ میں جھونک دیاگیا تو کبھی موسی ؑکو فرعونی خدائیت کے انکار پر ستایا گیا۔اسی طرح نبی مہربان حضرت محمد مصطفیﷺکو دین حق کی خاطر کبھی شعب ابی طالب میں قید کیا گیا، کبھی طائف کی وادیوں میں پتھروں کی بارش سے لہو لہان کیا گیا ، کبھی بدر کے جاں گسل مرحلہ سے گزار اگیا، کبھی میدان اُحد میں دندانِ مبارک شہید گئے گئے۔ ان ستم سامانیوں کے باوجود جب عرب کے مشرکین کا جی نہیں بھرا تو محسن انسانیتﷺ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا ، تاہم اس قدر مظالم کے باوجود بھی رحمت للعاللمین ﷺکسی طرح کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرتے ،ٹھیک اسی طرح جس طرح سے حضرت ابراہیم ؑاور حضرت موسٰی ؑ نے راہ ِ حق میں مصائب و مشکلات جھیلے ، تکالیف برداشت کیں مگر دعوتِ حق سے قطعاً دست بردار نہیں ہوئے۔چوں کہ اللہ تعالیٰ کو تمام ادیان ومذاہب پر اسلام کو غالب کرنا ہی کر نا ہے ،اس کے لئے وہ ہر دور میں چنیدہ پاک نفوس کا انتخاب عمل میں لاتا ہے، جن کا مقصدِ حیات ’’اللہ کی زمین پر بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلانا ہوتا ہے‘‘۔جو بھی پاک نفوس اور عزم جواں والے اس خدائی مشن کی علمبرداری کے لئے آج تک اُٹھے اُن کا لازماًوقت کے فرعونوں ،نمرودوں،بو جہلوں سے آمنا سامنا ہونا اس مشن عظیم کا جز وِلاینفک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ صدائے حق دبانے کے لئے وقت کے فرعون وبوجہل اکڑ ، ہٹ دھرمی ، اپنی مادی قوت اور اہل باطل کی معاونت کے بل پر حق پسندوں کے خلاف ہر ایک اوچھاحربہ آزماتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاک نفوس کی تھوڑی سے جمعیت بھی ان کی بد باطنی کی مزاحمت چھوڑدے ، ناحق کی دوکانیں بند کرانے کا مشن ترک کرے ،وقت کے خداؤں کی کی چودھراہٹیں چلنج کر نے کی ’’دیوانگی ‘‘ سے سو بار توبہ کرے، حق کی دعوت سے انحراف کرے، کسی غار ، خانقاہ یا گوشہ ٔ عافیت میں خدا خدا کی مالا جپنے کا دھندا اختیار کرکے مر یدوں کا لشکر تیار کر ے اور وقت کے باطل سے ٹکرانے کا خیال دل سے نکال باہر کرکے زندہ شر ک کی جے جے کار اور تائیدو حمایت کر کے اپنے خود غرضانہ مفاد کا صنم خانہ آباد کر ے ، زیادہ سے زیادہ مردوہ شرک کا ابطال کر نے پر اکتفا کر کے خود کو توحید کا تیس مار خان جتلائیں۔ اگر حق پسند وںنے یہ سب نہ کیا ، ظلم کو رحم نہ سمجھا ، جھوٹ کو سچ نہ بولا، مظلوم کی دادرسی نہ چھوڑدی ، تو انہیں امام حسینؓ کی طرح شہادت کی خونین قبا پہننا ہوگی اور اخوان المسلمون کے حسن البنا شہید، سید قطب شہید اور محمد مرسی شہید کی طرح انجام سے دوچار ہو نے کے لئے تیار ہوناپڑے گا ۔ یہ حق و باطل کی انتھک لڑائی میں قرنوں کی کہانی کا نچوڑ ہے ۔
فی الوقت ہم ان کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح عالمی سطح پر اسلام پسندوںکچلاچلا جا رہا ہے۔ کبھی بنگلہ دیش میں نام نہاد ٹربونل بنا کر جماعت اسلامی کے قائدین کو تختۂ دار پر لٹکایا جارہا ہے ، کبھی مصر میں آمریت مسترد کر نے اور جمہوریت چاہنے والوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ احتجاج کاجواب گولہ باری سے دیا جاتاہے ۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ہفتہ عشرہ قبل عالم اسلام کو قاہرہ کے پنجرہ ٔ عدالت سے ایک کربناک خبر ملی کہ تاریخ مصر کے پہلے منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسی ؒکو طاغوت کے پرستاروں نے دن دھاڑے قتل کر لیا۔محمد مرسی ؒ عالم اسلام کے ایک ایسے قائد و رہنما تھے جنہوں نے حق وصداقت کی حمایت میں بغیر کسی کمزوری یا بزدلانہ لچک کے وقت کے آمریت پسند فرعون و نمرود یہودی الاصل جنرل السیسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ دیا تھا : ’’جو کوئی بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے محبت کرے گا میں اس کے ساتھ محبت کروں گا اور جو کوئی نبی مہربانؐ کے ساتھ نفرت کرے گا میں بھی اُس کے ساتھ نفرت کروں گا۔‘‘ اُمت کے اس مخلص غم خوار کو وقت کے فرعون نے امریکہ نواز اسرائیلی چہیتے حرمین شریفین کے مجاوروں کی کھلی امداد سے گزشتہ چھے سال سے جرم بے گناہی کی پاداش میں اپنے دیگر ساتھوں سمیت زینت ِزنداں بنایا تھا ۔محمد مرسیؒ اس پاک نفوس جماعت میں شامل تھا جس نے مغرب، اسرائیل اور مطلق العنان سعودی بادشاہوںکو دکھا دیاکہ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ ہم پر امن ذرائع اور جمہوری طریقے سے دنیا کو امن دے سکتے ہیں ،مظلوموں کی مدد،بے کسوں کا سہارا ،یتیموں اور بچھڑے ہوئے طبقوں کے غموں کا مداوا دین حق کے بتائے ہوئے اصولوں اور عدل اجتماعی کی وساطت سے کر سکتے ہیں ،لیکن نفس کے ان پجاریوں کو یہ کب راس آتا اور انہوں نے اپنے زر خرید ملا ؤں اور ایجنٹوں کے ہاتھوں منتخب حکومت کو پلک جھپکتے ہی ختم کر دیا۔
محمد مرسی ؒ مشرق وسطی ٰکی ایک ایسی اسلامی تحریک کے سائے تلے عرصے دراز سے مظلوم انسانیت کے دفاع کے لئے لڑ رہے تھے جس تحریک کے حصے میں عزیمت کی لازوال تاریخ درج ہے۔ ’’ا لاخواان المسلمون‘‘ کے روزِ قیام سے ہی اس سے وابستہ داعیوں، وابستگان اور ہمدردوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے گئے ،کبھی جمال عبدالناصر جیسے نمرود نے اخوان کے خلاف پنجہ آزمائی کی تو کبھی انوارالسادات جیسے لوگوں کو انہوں نے للکارا ،اسی طرح سے مسلسل ۶۰؍ سال تک مصر کی عوا م حسنی مبارک کے مظالم میں پستی رہے ۔ٹھیک انبیائے کرام علیہ السلام کی سنت کے مطابق اخوانیوں نے دردناک مظالم سہے لیکن اسلام کی عظمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔حسنی مبارک کی استعماری حکومت سے مصر ی عوام کو یہ اللہ کے پُراسرار بندے بیدار کرتے رہے کہ اسلام امن کا دین ہے، اسلام کا سیاسی ،معاشی اور سماجی نظا م ہی عدل وانصاف کا ضامن ہے ۔ فراعنہ مصر نے ہر بار عوام کو اخوان سے کاٹنے کے لئے توپ وتفنگ کا بے دریغ استعمال کیا مگر ۲۰۱۱ ء میں مصر کی تاریخ میں پہلی بار عوام نے آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں کمر کس لی اور چلتے چلتے ایک منظم جمہوری طریقے سے اخوانی رہنما ڈاکٹر محمد مرسی کو بھاری اکثریت سے منصب صدارت کی کرسی کے لئے منتخب کیا۔ مر سی کے بر سر اقتدار آنے سے دنیا کے ظلمت کدے میں مظلوم مسلمانوں کی جان میں جان آگئی، مقبوضہ فلسطین میں خوشیوں کے ترانے بجائے گئے، عراق کی لٹی پٹی انسانیت کو سہارا مل گیا ،شام میں بشارالاسد کے درناک مظام سے عوام نے مرسی کی شکل میں اخلاقی حوصلہ پایا،افغانستان پر امریکی بم اور بارودسے زخمی عوام کو نوید سحر کی خوشبو آنے لگی، غرض مصر کے ساتھ ساتھ دنیا میں مظلوم ومحکوم انسانوں کے دلوں میں جینے کی تمنا جاگ اُٹھی ۔اس تمنا ئے دل کی کائنات ڈھانے کے لیے وقت کے تمام فراعنہ اور نمارو نے بشمول سعودی شاہ اژدھوں کی شکل میں ایسے لوگ میدان میں اُتارے نے جنہوں نے عصائے موسوی ؑکے وارثین کے خلاف محاذ آرائی کی ہوا کھڑی کر کے ایک مختصر مدت میں مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کا جھنڈا لہرایا اور فرعونی آمریت کا ڈنکا بجاکر جمہوری حکو مت کا تاج مرسی کے سر سے جبراً چھین لیا ۔ اپنے آزمودہ چیلے چانٹوں کے ساتھ مل کر عالم کفر نے اخوان المسلمون کی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعدتنظیم سے وابستہ رہنمائوںاور کارکنوں کو کال کوٹھریوںمیں ڈال دیا۔ ارضِ فراعنہ میںجمہوری حکومت گرانے میں سب سے زیادہ اہم کردار امریکہ ،اسرائیل اور ان کے دُم چھلے سعودی عرب کے علاوہ سابق ڈکٹیٹرحسنی مبارک کے اشاروں پر ناچنے والی اور سعودی شاہوں کے ٹکڑوں پر پلنے والی نام نہاد توحیدی’’النور پارٹی‘‘ نے نبھایا ۔
اخوان کا ایک ناقابل معافی ’’قصور ‘‘ یہ بھی تھا کہ اس نے ہی 1948ء میں سب سے پہلے فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑی تھی ،قدرتی طور محمد مرسی کی کرسیٔ صدارت سے آزادی ٔ فلسطین کے لئے بر سر پیکار حماس کی ہمت بندھ گئی ، خود شہید صدر نے اقتدار میں آکر اہل فلسطین سے یہ پکا سچا وعدہ کیا کہ ہم تمہاری بھر پور سیاسی مدد کریں گے ۔ان معنوں میں اخوان کی حکومت اسرائیل کے وجود کے لئے پیغام ِ موت تھی ۔ یہ فلسطین نواز حکومت امریکہ سے کیسے برداشت ہو پاتی؟ نیز اس حکومت کے زیر سایہ شام میں بشار الاسد جیسے آدم خور ڈکٹیٹر کا شامی مسلمانوں کے قتل عام کا حساب بھی چگتا ہونا طے تھا ۔ سب سے اہم یہ بات تھی کہ عرب بہاریہ کی کونپلیں چونکہ سعودی عرب میں بھی پھوٹنے کا امکان روشن ہورہا تھا،اس لئے شام اور سعودی عرب کے حکمرانوں کی نیندیں مرسی حکومت سے اُڑ گئیں۔ وہ مر سی کی کرسی سے خوف زدہ تھے کہ اگر جمہوری انقلاب کی لہر ان کے ملکوں میں زیر دست عوام کے دلوں میں پیوست ہوگئی تو ان کے اپنے باپ دادا کی وراثتی تخت وتاج نہ چھن جائے گا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سعودی عرب میں بدترین قسم کی خاندانی بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ رائج ہے جس کاا مریکہ پشتیبان ہے ۔ سعودی بادشاہت کے خلاف کسی کو اُف تک کرنے کی اجازت نہیں ، حد یہ کہ یہاں خشقجی جیسے بے باک صحافیوں کو ولی ٔعہد ایم بی ایس دن دھاڑے پر قتل کرا تا ہے کیونکہ وہ شاہی خاندان کی سیہ کاریوں پر اپناقلم ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں چلانے کا ’’جرم ‘‘ کرتاتھا ۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ بھی یہی خلاصہ کر تی ہے مگر کیا مجال امر یکہ کے اس پسر پروردہ کا کوئی بال بیکا کرے ۔ شاہان ِ سعود اسلامی نظام حکومت کی ادنیٰ سی حمایت کر نے والوں کو پھانسی پر لٹکاتی ہے، لہٰذا اس خانوادے سے یہ برادشت ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ مملکت حجاز کے دروازے پر مرسی کی صالح اور جمہوری حکومت ایک پل بھی زندہ رہے ۔ بہر حال امریکی صد باراک اوبامہ نے اخوان کی انتخابی جیت کے بعد اخباری نمائندوںسے بات کرتے ہوئے صاف کیا تھا :’’ اگر اخوان سو فی صد ووٹ لے کر بھی حکومت بناتی ہے تو ہمیں پھر بھی ان کی حکومت قبول نہیں ہوگی۔‘‘تجزیہ نگاروںکے مطابق مسلم ملکوں میں مغرب کو جمہوری حکومت کا وجود کبھی راس نہیں آتا ،اس لئے وہ اپنے پالتو مسلم آمروں کی مدد کر کے ملت کو ڈکٹیٹر شپ تلے دبا نے کے لئے ہمیشہ سعودی عرب کو بطور مہرا استعمال کر تا جاتاہے اور دنیا کے سامنے ڈھنڈورا پیٹتا ہے کہ’’ مسلمان جمہوریت پسند‘‘ ہے ہی نہیں ۔مصر کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے امریکہ اور اسرائیل کے چہیتے فرعون مزاج جنرل السیسی پر پٹرو ڈالروں کی برسات کروا دی، جس نے بیک جنبش قلم امریکہ ،اسرائیل اور سعودی تثلیث کی کھلی امداد سے مصر کی جمہوری حکومت کوختم کر دیا۔ 13جولائی 2013ء کوالسیسی نے خود کو موحد کہلوانے وا لی ’’النور پارٹی‘‘ اور البرادی وغیرہم جیسے مغرب نواز لبرلوں کی مدد سے جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ دیا ۔اس کے ردعمل میں رابعہ کے میدان میں پُرامن طور احتجاج کر رہے نہتے مصری عوام کو بے دردی کے ساتھ ٹینکوں اور گاڑیوں کے نیچے روند کر موت کے گھاٹ اُتار دیاگیا اور ایک ایک کر کے اخوانی رہنماؤں کو زندان خانوں میں ڈال کر بے اصل مقدمات کی نذر کر دیا گیا۔گزشتہ چھے برس سے خود ڈاکٹر محمد مرسی ؒ کو جرم بے گناہی کی پاداش میں قید تنہائی میںانتہائی اذیت ناک مراحل سے گزارا گیا ۔بی ،بی ،سی کے ایک رپورٹ کے مطابق علاج تو دور کی بات محمد مرسی ؒ کو بُنیادی ادویات سے بھی محروم رکھا گیا ۔قیدتنہائی کے چھے سال میں صرف چار بار اُن کے اہل خانہ کو مختصر ملاقات کی اجازت دی گئی ۔محمد مرسی کی شہادت سے آٹھ ماہ قبل ان کے اہل خانہ کو کی ملاقات کی اجازت دی گئی تھی اور پھر انہیں اس سے جان بوجھ کر محروم رکھا گیا ۔
مقتول محمد مرسی مصر کی تاریخ کے اب تک کے واحد رہنما تھے جو جمہوری طریقے سے صدرمنتخب ہوئے ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے مکنیکل انجینئر تھے اور حافظ قرآن بھی تھے ۔ جب کبھی بھی ان کی تقریر کے دوران اذان ہوتی تو وہ اذان کا جواب زور زور سے دیتے۔ چوںکہ مصرمیں حکمرانوں کے لئے عالی شان محلات بنائے گئے ہیں مگرمرسی وہ واحد صدر تھے جس نے ان محلات میں رہنا پسند نہیں کیا بلکہ ایک کرائے کے مختصر گھر میں رہتے تھے ۔
(بقیہ بدھوار کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)
رابطہ [email protected]