جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے چھترال علاقے کے مکینوںنے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ علاقے کو ممکنہ سیلابی تباہی سے بچانے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے۔ مقامی لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر رواں برس اگست 2025 جیسے سیلاب دوبارہ آئے تو سرکاری و نجی املاک سمیت اہم عوامی ڈھانچے شدید نقصان کا شکار ہوسکتے ہیں۔گزشتہ سیلاب کے دوران دیرہ۔چھترال پل سمیت کئی مقامات پر فصلیں، رابطہ راستے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ یہ پل متعدد بستیوں کو آپس میں جوڑنے والی اہم رابطہ سڑک ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو ہائر سیکنڈری اسکول چھترال، گورنمنٹ مڈل اسکول چھترال، مڈل اسکول چھترال، پاور اسٹیشن چھترال، پرائمری ہیلتھ سنٹر چھترال، واٹر سپلائی اسکیم چھترال اور نائب تحصیل آفس چھترال بھی آئندہ سیلاب میں شدید تباہی سے دوچار ہوسکتے ہیں۔مقامی وفود نے متعدد بار ڈپٹی کمشنر پونچھ سے ملاقات کر کے صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا ہے۔ اگرچہ ڈی سی نے جلد اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن عوام کا کہنا ہے کہ آج تک کسی قسم کا عملی کام یا حفاظتی سرگرمی زمین پر شروع نہیں ہوئی ہے۔سیاسی کارکن تنویر اقبال قریشی نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری حفاظتی کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’خشک موسم تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے بہترین ہے۔ اگر اس وقت نالہ کے اطراف مضبوطی کے کام نہ ہوئے تو اگلا برساتی سیلاب تباہ کن اثرات چھوڑ سکتا ہے‘۔قریشی نے زور دے کر کہا کہ چھترال نالہ کے کناروں پر اسٹون کریٹس، پتھر اور سیمنٹ کی مضبوط حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں اور نالے کا بہاؤ آبادی اور انفراسٹرکچر سے دور موڑا جائے۔ انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ نالے کے لئے ایک سیدھا راستہ بنایا جائے تاکہ بہاؤ منظم رہے اور کٹاؤ کے خطرات کم ہوں، ساتھ ہی چھترال۔نڑول پل سے دیرہ۔چھترال پل تک حفاظتی پشتے کی تعمیر کو بھی ناگزیر قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ ’چھترال کے لوگ ہر مون سون کے موسم میں خوف کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں۔ ہمارے اسکول، سڑکیں، بجلی اور صحت کے مراکز شدید خطرے میں ہیں۔ اگلے سیلاب سے پہلے ان کی حفاظت ناگزیر ہے‘۔مقامی لوگوںنے مشترکہ طور پر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری منصوبہ بندی کر کے حفاظتی اقدامات شروع کرے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پیشگی تیاری اور بروقت کام نہ صرف مستقبل کے جانی و مالی نقصان کو روک سکتا ہے بلکہ انتظامیہ پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام ان کے مطالبات پر توجہ دے کر علاقے کو آئندہ کسی بڑے سانحے سے محفوظ بنائیں گے۔