مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کے علاقہ چھترال اور پٹھانہ تیر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حکو مت اور محکمہ جل شکتی کے اعلی آفیسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2008-9میں چھترال تا پھٹانہ تیر لفٹ سکیم کا کام شروع ہوا تھا جس کی لاگت تین کروڑ پچیس لاکھ تھی لیکن بارہ سال گذرجانے کے بعد اس وقت تک لفٹ سکیم کا کام مکمل نہیں ہوسکا اور لوگ پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں ۔اس سلسلہ میں مقامی لوگوں نے کہا کہ سکیم کے معاملہ کو لیکر انہوں نے ضلع کے اعلی آفیسران کے علاوہ ریاستی آفیسران تک سے بھی رجوع کیالیکن کچھ نہ ہوا۔ انکا کہنا تھا کہ لفٹ سکیم کا پہلا سٹیج مکمل ہونے کے بعد آگے کوئی بھی کام نہیں کیا گیا اور سرکار کی طرف سے بھیجے گئے کروڑوں روپے متعلقہ محکمہ کے آفیسران نے ضائع کئے ہیں اور لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں کرسکے۔ انکا کہنا تھا کہ پھٹانہ تیر علاقہ ایک پہاڑی پر واقع ہے جہاں پر قدرتی چشمے بھی بہت کم ہیں اور لوگوں کو کئی کلومیٹر دور سے پینے کا صاف پانی لاناپڑتاہے۔ انکا کہنا تھا کہ زمینی سطح کی تمام سکیمیں متعلقہ محکمہ کے ملازمین کی لاپرواہی کی وجہ سے فیل ہو چکی ہیں کیوں کہ محکمہ کے اندر مستقل ملازمین نہ ہونے کی وجہ سے عارضی کا م کررہے ملازم ڈپٹی پر نہیں جاتے کیوں کہ متعلقہ محکمہ انکو کئی سالوں تک تنخواہ نہیں دیتا جسکی وجہ سے ملازمین ڈپٹی پر حاضر نہیں رہتے اور زیادہ تر سکیمیں فیل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ایک ویجی لینس کی ٹیم علاقہ کے اندر بھیجی جائے جو حالات کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ محکمہ کے آفیسران کے خلاف قانونی کاراوئی کرے جس کے بعد سکیم کو مکمل کیا جائے تاکہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مل سکے ۔