اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میںسے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا ۔ انسان کو عقل سلیم سے نوازنے کے بعد اس کے سینے کے اندر ’’دل‘‘ نام کی ایک ایسی چیز عطا کی جس کے دھڑکنے سے نہ صرف وہ زندہ جاوید ہستی کی صورت میں کارِ حیات انجام دیتا پھرتاہے بلکہ اس دل کو جذبات سے مزّین کرکے ایک انسان کو دوسرے انسان کے لیے کار آمد بنانے کے ساتھ ساتھ اُن کے درمیان آپسی تعلقات کی راہیں بھی پیدا کی ہیں۔ یہ انسانی شعور اور جذبات ہی ہیں جو اُسے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے، ایک دوسرے کے کام آنے نیز ایک دوسرے سے وابستہ ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اگر فہم وشعور اور قلبی جذبات مٹی کے اس مجسمے کے اندر نہ ہوتے تو انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں رہتا، پھر انسان اشرف المخلوقات نہیں کہلاتا ۔ رب کائنات کی حکمت کا یہ حسین پہلو ہے کہ انہوں نے انسانوں میں بھی اَفزائش نسل کی خاطر مرد اور عورت کو اپنے الگ الگ حدود اور دائر ہ کار کے ساتھ پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ نے فطری طور پرمرد کے مقابلے میں خاتون کے دل میں رحم کی سطح کچھ زیادہ ہی رکھی ہے۔ اُن کے دل میں جذبات ، احساسات اور چیزوں کو پرکھنے اور اُن پر فوراً جذباتی ردعمل دکھانے کے لیے مرد کے نسبت کچھ زیادہ ہی لچک پیدا کررکھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ناانصافیوں، محرومیوں اور زیادتیوں کو سہنے کی طاقت اگر چہ اُن میں زیادہ ہے لیکن ہر ناانصافی اور زیادتی کو دیکھنے کے بعد جذباتی انداز میں ردعمل دکھانے میں بھی وہ کچھ زیادہ ہی جلد باز ثابت ہوتی ہیں۔بنت ِحوّاکے سینے میں اگر چہ آج اکیسویں صدی میں بھی وہی دل دھڑکتا ہے جس میں رحم اور اُلفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے لیکن مادیت ، خود عرضی ، دیکھا دیکھی اور اپنے ہی دُھن میں سوار حرص و طمع کے مہیب پردوںنے اُن کے قلوب کی اصلیت وماہیئت کو دبا کررکھا ہوا ہے، حالانکہ اگر سماجی سطح پر خواتین اپنی رحم دلی اور فطری جذباتیت کو پہچان کر اس صفت کا مثبت استعمال کرتیں تو اَن گنت مسائل خود بخود حل ہوجاتے۔سماج میں پچاس فیصد مسائل کا تعلق حوّا کی بیٹی کے اسی دل کے احوال وکیفیات سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اپنی ان صنفی صفات سے گھر، اہل و عیال ، والدین ، رشتہ داروں اور سماج کے دیگراہم اور بنیادی کڑیوں کو مضبوطی کے ساتھ نہ صرف جوڑ سکتی ہیں بلکہ اس سب میں محبت اور اخلاص کا رنگ بھر کر سماجی رابطوں کو قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر استوار کرنے میں اپنا داعیانہ ومصلحانہ کردار بھی ادا کرسکتی ہیں۔
ان سطور میں جس معاملے میں خواتین بالخصوص طالبات کے کردارکا ذکر کرنا چاہتی ہوں، وہ کتابی کہانیوں سے ماخودکوئی افسانوی کردار نہیں ہے بلکہ ہائراسیکنڈری سطح سے لے کر کالج اور یونیورسٹی میںپڑھائی کے دوران میرے عینی مشاہدے پر مبنی ہے جو ایک ایسا نصیحت آموز سبق ہے ۔اس نے مجھے ہمیشہ بے چینی اور اضطراب میں مبتلا کئے رکھااور اس بارے میں کافی سوچنے اور غور وفکر کرنے کے بعد جو کچھ میں نے اَخذ کیا وہ اپنی عزیز بہنوں کے سامنے اس اُمید کے ساتھ رکھنے کی جسارت کرتی ہوں کہ اگر کوئی ایک ہی رحم دل بہن میرے گفتارِ قلب سے متاثر ہوکر عملاً اپنا مثبت کردار ادا کرے تو میں اسے اپنے نامہ ٔ اعمال کا روشن ترین پہلو سمجھ لوں گی۔ہائر اسیکنڈری سے لے کر یونیورسٹی تک میںنے اپنے ساتھ اور اپنے آس پاس بہت ساری ایسی قابل، ذہین اور صلاحیتوں سے مالا مال بہنوں کو دیکھا ہے جو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں،اُن کی قابلیت ، ذہانت، محنت اور پڑھائی لکھائی سے لگن پر کوئی بھی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن یہی لڑکیاںاکثر و بیش تر اپنے والدین کی پتلی مالی حالت کی وجہ سے نہ صرف ہر وقت احساس کم تری کا شکار رہتی ہیں، بلکہ بسا اوقات تعلیم کو ہی خیرباد کہہ کر تمام تر صلاحیتوں کے باوجود اپنی ہمت ہار بیٹھتی ہیں۔ ان معصوم بچیوں کی رحم دلی اُن سے یہ گوارا ہی نہیں کرنے دیتی کہ وہ اپنے غریب والدین پر بوجھ بن جائیں۔ ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ سماج میں موجود بیمار ذہنیت اور شیطانی خصائل کے حاملین ایسی لڑکیوں کی بے بسی اور غربت کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔اس طرح اُمت کی ان بیٹیوں کے تمام خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں، اُن کی زندگیا ںاجیرن بن جاتی ہیں، احساس کم تری کی بیماری مستقل طور اُن کی پوری زندگی کو اپنی آغوش میں لیتی ہیں اور یوں یہ نہ چاہتے ہوئے بھی گھٹن اور اذیت کے دن گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔غربت اور مجبوری کے مہیب سائے زندگی کے ہر موڑ پر ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، جو نہ اُنہیں اچھی تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں اور نہ اُن کا کسی اچھی مناسب جگہ رشتہ طے ہونے کی کوئی اُمید باقی رہتی ہے۔نااُمیدی اور مایوسی کو پھر یہ اپنی زندگی میں سانسوں کی طرح شامل کرلیتی ہیں ۔ سطچ میں یوں ان کی پوری زندگی وُبال بن جاتی ہے۔
سماجی سطح پر اُمت کے ذی حس اور باشعور لوگوں کو اس طرح کے گھمبیر مسائل پر اگر چہ توجہ دینے کی بے حد ضرورت ہے تاہم یہاں میں اُن اسکول اور کالج جانے والی ہزاروں لڑکیوں سے مخاطب ہونے کی جسارت کرنا چاہتی ہوں جو اچھے اور کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں کہ وہ اپنے سینوں میں دھڑکنے والے دلوں کو ٹٹول کر رحمت کی فطری خصلت کو پہچانیں ۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ امیر اور کھاتے پیتے گھرانوں کی لڑکیاں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنی فرینڈ لسٹ میں کم از کم ایک ایک ایسی سہیلی کا ڈھونڈ ڈھونڈ کر انتخاب کرسکیں جو غریب اور مجبور گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں، پھر دورانِ تعلیم اپنے والدین کو اعتماد میں لے یا کم از کم اپنے جیب خرچے میں کچھ بچت کرکے وقت وقت پر اُنہیں تحائف کی صورت میں روزہ مرہ ضرورت کی چیزیں فراہم کریں، اُن کے تعلیمی اخراجات پورا کرنے کے لئے اپنے دل کے دریچے کھولیں، اُن کی دیگر ضروریات کو اَحسن طریقے سے اور ایک نہایت ہی شریفانہ حکمت کے ساتھ پورا کرکے نہ صرف کھاتے پیتے گھرانوں کی لڑکیوں کواللہ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے بلکہ کسی باصلاحیت لیکن مجبور لڑکی کی مدد کرکے وہ اُن کی زندگی کو بھی صحیح ڈگر پر لگانے میں اپنا رول ادا کرکے دونوں جہانوں کا خزانہ پاسکتی ہیں۔ اس طرح سے جو قلبی سکون اُنہیں حاصل ہوگا، دنیا کی کسی اور چیز میں اُن کے لئے شاید ہی ایسا ممکن ہوسکے۔
آج کے دور میں اُمت کی بیٹیوں کو مختلف اِزموں اور مختلف نعروں کے ذریعے ان کا دل لبھانے اور سچائی کے راستے سے بھٹکانے بہکانے کی ہزار ہا کوششیں ہورہی ہیں۔ ہماری تعلیم یافتہ بہنوں تک رسائی حاصل کرکے اُنہیں مسادات مردو زن کے دروس دئے جاتے ہیں، اُن سے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مردوں کی’’غلامی ‘‘ سے آزاد کرکے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جیئں، اُن کے معصوم ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ العیاذ باللہ اسلام اور دینی تعلیمات نے اُن کے گلے میں’’غلامی کا ’’طوق‘‘ پہنایا ہے لیکن کوئی بھی لبرل اور کوئی بھی نام نہادFeministاُن کے اصل مسائل کی جانب دھیان دینا گورا نہیں کرتا ، بلکہ جدید جاہلیت کے یہ فسادی نعرے ہی اصل میں بنت ِحوّا کی کسمپرسی کے لیے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔یہ افکار اسلام کی بیٹیوں کو اپنے منصب اور مقام سے گرا کراُن کے طرح طرح کے استحصال کے لیے راہیں کھولنا چاہتے ہیں، اس لئے اسلام کی بیٹیوں بالخصوص تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات کو اپنا مقام پہچان کر نہ صرف اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے کمر بستہ ہونا چاہیے بلکہ اُنہیں اپنے سینوں کے اندر دھڑکنے والے دل کی رحمتوں کا فیض بھی اپنے سماج بالخصوص دوسرے طالبات تک پہنچانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اگر اُمت کی بیٹیاں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر ذہنی اور فکری طور تیار ہوجائیں گی تو سماج میں نہ بیٹیاں والدین پر بوجھ بن جائیں گی نہ ہی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم سے محروم رہیں گی اور نہ بنت حوّا استحصالی عناصر کی بھینٹ چڑھیں گی اور نہ ہی کسی غریب باپ کی بیٹی کے خواب اور ارمان اُدھورے رہ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا مقام پہنچانے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔
رابطہ[email protected]