سرنکوٹ //حکمران جماعت پی ڈی پی کے نائب صدر و سابق اسمبلی اسپیکر سرتاج مدنی نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل پی ڈی پی کے منشور کا اولین نکتہ ہے اور مرحوم مفتی سعید کا مشن بھی یہی تھا ۔سرنکوٹ میں پارٹی کارکنان کے ایک جلسہ عام سے خطاب میں سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے سرتاج مدنی نے کہاکہ مرحوم مفتی سعید کو یہی فکر تھی کہ اس قوم کا کیا ہو اور کیا ہونے والاہے اوران کے لئے سب سے بڑی عبادت خدمت خلق تھی ،انہوںنے اپنے سیاسی سفر کا آغاز بھی اسی خدمت سے کیا اور آخری سانس تک اسی مقصد کو انجام دیتے رہے ۔اس موقعہ پر وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج عبدالحق خان بھی موجود تھے ۔سرتاج مدنی نے کہاکہ 22دسمبر2016کو سرینگر کا درجہ حرارت منفی چار ڈگری تھالیکن تب بھی انہوںنے پورے شہر کادورہ کیا اور لوگوں کے ساتھ ملاقات کرکے ان کے مسائل سنے ۔ان کاکہناتھاکہ اگر کسی کو اس قوم کادرد تھا تووہ مفتی محمد سعید تھے اور دوسرا مفتی محمد سعیدپیدا نہیںہوگا، موجودہ وقت میں اگر کسی کو قوم کی ہمدردی ہے تو وہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ہیں جو سخت مشکلات کے باوجودبھی قوم کے مسائل حل کررہی ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ مفتی صاحب نے بڑی بڑی کرسیاں دیکھیں،یہ وہ نوجوان تھاجو پچاس سال کی عمر میں ہندوستان کا وزیر داخلہ بنا،پینتالیس سال میں ملک کا وزیر سیاحت بنا لیکن ہمیشہ قوم کادرد دل میں رہا اور یہی وجہ رہی کہ 1989میں جب حالات خراب ہوئے تو انہوںنے صرف اس لئے کرسی چھوڑدی کہ بابری مسجد کو ٹھیس پہنچائی گئی تھی اورسابق وزیر راجیو گاندھی کی کابینہ میںوزارت سیاحت کا قلمدان یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیاکہ جس ملک میں مسلمان مررہاہو وہ اس ملک کے وزیر نہیں رہ سکتے۔پی ڈی پی نائب صدر نے کہاکہ مرحوم نے 1998میں پارلیمنٹ کاالیکشن لڑااورجیت حاصل کرنے کے بعد پارلیمنٹ سے خطاب میں ہندوستان کو یہ پیغام دیاکہ ’’نہ گرینیڈ سے نہ گولی سے بات بنے گی بولی سے ‘‘لیکن شائد یہ نعرہ اس وقت کی جماعت کو پسند نہیں آیا تومرحوم نے پارلیمنٹ اور محبوبہ مفتی نے اسمبلی کی نشستیں چھوڑ دیں اور اپنی چھوٹی سی پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ انہوںنے مزید کہاکہ مرحوم کی قیادت میں 2002میں سرکار قائم ہوئی اور سب لوگ یہ جانتے ہیں کہ تب ریاست کے حالات کیسے تھے ،یہاں بھی لوگ دلدل میں پھنسے ہوئے تھے تاہم انہوںنے جرأت مندی سے اقدامات کرکے لوگوں کو اس دلدل سے باہر نکالا۔ان کاکہناتھا’’اس سے پہلے بھی حکومتیں چل رہی تھی جنہوں نے ٹاسک فورس بنایا، جنہوںنے آرمی کومارنے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی ،جنہوںنے اخوان کو پیدا کیاتھااورجنہوںنے پوٹا لگایاتھا،تاہم مفتی صاحب آئے ،پوٹاختم ، ٹاسک فورس ختم ،اخوان ختم اورآرمی کی زیادتیاں بھی ختم ہوگئیں‘‘۔سرتاج مدنی کاکہناتھاکہ مرحوم نے لوگوں کو باعزت زندگی بسر کرنے کا موقعہ دیااور آج ہم وہی جماعت چلارہے ہیں جس کی بنیاد اس ریاست کے عظیم لیڈر نے رکھی ۔انہوںنے مزید کہا’’مفتی مرحوم کا ایک مشن تھا ،وہ کہتے تھے کہ اگر آپ سونے کی سڑک اور عمارت بھی بنادو ،جب تک آپ 1947سے لٹک رہے جموں کشمیر کے سیاسی مسئلہ کو حل نہیں کروگے تب تک سڑکیں کہیں کام نہیں آئیںگی ‘‘۔سرتاج مدنی کاکہناتھاکہ پی ڈی پی کے منشور کا پہلا نکتہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حلہے اور پارٹی اس حوالے سے کوششیں کرتی رہے گی۔مغل شاہراہ ، باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کو خطہ پیر پنچال کی ترقی کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے پی ڈی پی کے سینئر لیڈر و وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج عبدالحق خان نے کہاکہ مغل روڈڈ خواب میں نہیں بلکہ دن کی روشنی میں تعمیر ہوئی ہے ۔عبدالحق خان نے نیشنل کانفرنس کانام لئے بغیر کہاکہ کہتے ہیں کہ اس روڈ کا خواب دیکھاتھا،شائد خواب میں ہی سڑک بن گئی ،ایسا نہیں بلکہ یہ سڑک دن میں بنائی گئی اور اس کی بدولت راجوری پونچھ کے کشمیر کے ساتھ رشتے استوار ہوئے ۔ان کاکہناتھا’’سیکورٹی کلیئرنس نہیں تھی ،دس چیزیں اور بھی تھیں ،اس کیلئے مفتی صاحب کو دہلی جاناپڑا،جب کوئی پوچھے گاتو کہتے ہیں خواب دیکھاتھا،مغل روڈ خواب میں نہیں بنی بلکہ دن کی روشنی میںمفتی مرحوم نے تعمیر کرائی‘‘۔انہوںنے مزید کہاکہ خطہ پیر پنچال میں میڈیکل کالج کا قیام بہت بڑی بات ہے اوراس ادارے کی اہمیت وہی لوگ جانتے ہیں جن کے پاس یہ کالج نہیں۔انہوںنے کہاکہ یہاں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی بنی جس میںکشمیر سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی آکر داخلہ لیتے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ خطے کی ترقی کیلئے یہ معمولی نوعیت کے اقدامات نہیں ۔انہوںنے کارکنان کوپارٹی مضبوط بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ یہ وہ جماعت نہیں جس نے کسی کو دھوکہ دیاہویاجس کے لیڈر قوم کے دشمن ہوگئے ۔عبدالحق خان نے کہاکہ پارٹی کو مضبوط بنائو اور ان اقدامات اور پالیسیوں کو لوگوں تک پہنچائو جو پی ڈی پی نے شروع کی ہیں۔انہوںنے کہاکہ سرنکوٹ میں یقینا تبدیلی آئے گی تاہم کارکنان کومہ داری سے کام کرناہے۔انہوںنے کہاکہ پنچایتی انتخابات بہت جلد ہونے والے ہیں جن میں ایماندار اور کام کرنے والے امیدواروں کو کامیاب بنایاجائے ۔وزیر نے کرپشن کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اگر کوئی ملازم اس لعنت میں ملوث پایاگیاتو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔اس موقعہ پر ممبر قانون ساز کونسل یشپال شرما ، پی ڈی پی ضلع صدر شمیم ڈار ، اقبال کاظمی ، اوقاف اسلامیہ کے ایڈمنسٹریٹر ریاض آتش ،معروف خان،اعجاز حسین شاہ ،قاضی لطیف ،خواجہ غلام احمد،نذیر مغل ،ایوب شبنم وغیرہ بھی موجودتھے ۔نظامت کے فرائض زونل صدر ایڈووکیٹ یاسر جنجوعہ نے انجام دیئے ۔قبل ازیں کارکنان نے پانی ، بجلی ، سڑک ، آدھار کارڈ اور دیگر مسائل اجاگر کئے۔