منجاکوٹ//پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن حقیقی صورتحال بالکل اس کے برعکس ہے ۔ راجوری کے منجاکوٹ قصبہ میں چار ہزار کی آبادی اور کئی سرکاری دفاتر ہیں جن کو پانی سپلائی کرنے کاکوئی انتظام نہیں ہے اور سبھی لوگ ایک ہینڈ پمپ سے پانی لاکر اسے استعمال کرتے ہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ ہینڈ پمپ بھی بعض اوقات خراب پڑارہتاہے ۔پانی کی قلت کے مسئلے پر مقامی لوگوں نے کئی مرتبہ حکام سے بھی بات کی لیکن ہر بار یقین دہانیاں ہی دے کرمسئلہ ختم کردیاگیا۔ پانی کا انتظام نہ ہونے پر مقامی لوگوں میں محکمہ پی ایچ ای کے تئیں غم وغصہ پایاجارہاہے اور ان کاکہناہے کہ یہ کس قدر لاپرواہی کی بات ہے کہ چار ہزار کی آبادی کو پینے کا پانی فراہم نہیں اور جب ہینڈ پمپ خراب ہوجاتاہے تو انہیں نالے کا گندہ پانی پیناپڑتاہے ۔چار ہزار کی آبادی کے علاوہ منجاکوٹ میں تحصیل دفتر،پولیس اسٹیشن،پی ایچ سی ،،زیڈ ای اودفتر،ٹریجری دفتر،ڈاک بنگلہ،،بی ڈی اودفتر ودیگر دفاتر بھی قائم ہیں جن میں پینے کے پانی کا کوئی بندوبست نہیں ۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوے کہا کہ اتنی بڑی آبادی کے لئے صرف ایک ہینڈ پمپ کا ہونا یہ ظاہر کرتاہے کہ محکمہ کس قدر لاپرواہی کا مظاہرہ کررہاہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ پمپ بھی خراب ہو جاتا ہے جس کے بعد لوگ دریا کا پانی پینے پر مجبور ہو تے ہیں۔جب اس ضمن میں محکمہ کے جونیئر انجینئر منجاکوٹ سے بات کی گئی تو انہوںنے کہاکہ یہ واقعی بہت بڑامسئلہ ہے اور لوگوں کا انحصار ایک پمپ پر ہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ لوگوں کو پانی کی وجہ سے مشکلات کاسامناہے تاہم بی اے ڈی پی سکیم کے تحت ایک پروجیکٹ پر کام کرکے پانی کی قلت پوری کی جائے گی ۔پچھلے چند دنوںسے منجاکوٹ میں پانی کی ہاہاکار مچی ہوئی ہے لیکن کوئی افسر اس جانب دھیان نہیں دے رہا۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اگر نظام ایسے ہی چلتارہاتو وہ محکمہ کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیںگے اور جموں پونچھ شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت بھی بند کردی جائے گی ۔ انہوںنے ڈپٹی کمشنر اور محکمہ کے وزیر سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں ذاتی مداخلت کرکے منجاکوٹ میں پانی کا مسئلہ حل کرائیں اور ملازمین کو ڈیوٹی کے تئیں ذمہ دار بنایاجائے ۔