سرنکوٹ//پہاڑی کلچرل و ویلفیئر فورم کے سابق چیئرمین سید مشتاق بخاری نے پہاڑی جوائنٹ فورم کی طرف سے شروع کی گئی دستخطی مہم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کی مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیاجائے اور مرکزی حکومت پر یہ واضح کیاجائے کہ طبقہ کے لوگ اپنا جائز مطالبہ منوانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہیں ۔ اپنے ایک پریس بیان میں انہوںنے کہاکہ راجوری سے شروع کی گئی یہ دستخطی مہم خوش آئند ہے اور پہاڑی طبقہ کے نوجوانوں کو اس سے بھی زیادہ متحرک ہوکر اس قوم کے مسائل پر سوچ وچار کرناچاہئے ۔ بخاری نے کہاکہ پہاڑی طبقہ کے نوجوان شعوری طور پر بیدار ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں ۔انہوںنے پہاڑی قوم کے لیڈران سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی اس مہم میں تعاون دیں اور اس کا ریاست گیر مہم میں تبدیل کیاجائے ۔ بخاری نے کہاکہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مرکزی حکومت تب تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کرے گی جب تک کہ جدوجہد کو منظم انداز سے شروع نہ کیاجائے اور وقت آن پہنچاہے کہ بڑے پیمانے پر دستخطی مہم چلاکر مرکز سے رجوع کیاجائے اور اگر پھر بھی کوئی رد عمل سامنے نہ آئے تو پھر نوجوانوں کو احتجاج کیلئے بھی تیار رہناچاہئے ۔ پہاڑی مشاورتی بورڈ کے سابق وائس چیئرمین نے کہاکہ ریاست کی ہر ایک سیاسی جماعت نے پہاڑی قوم کے مسائل پر توجہ دی ہے اور انہی کی معاونت کی بدولت شیڈیول ٹرائب کا معاملہ دہلی کے ایوانوں تک پہنچ پایاہے ۔ انہوںنے کہاکہ 1989میں اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس کے سرکردہ لیڈر فاروق عبداللہ کی طرف سے پہلی بار مرکز کو سفارش پیش کرنے کی بات ہو یا پھر اس کے بعد کانگریس اور پی ڈی پی حکومت کی طرف سے اسمبلی سے قرارداد پاس کرکے مرکز کو روانہ کرنے کا معاملہ ہو یاپھر عمر عبداللہ حکومت کے دور میں پانچ فیصد ریزرویشن کا دونوں ایوانوںسے بل پاس کرنے کا معاملہ ہو ، ہر ایک حکومت اور سیاسی جماعت نے پہاڑی طبقہ کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا اور انہیں حل کرانے کی کوششیں کی تاہم کچھ وجوہات کی بناپر مرکز نے ابھی تک کوئی بھی اقدام نہیں اٹھایا ۔تاہم انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت کو اس بات کیلئے مجبور کرناپڑے گاکہ پہاڑی طبقہ کو اس کا حق دیاجائے اور اس کے ساتھ مزید ناانصافی نہ کی جائے ۔