محتشم احتشام
پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کے مختلف علاقوں کے شہریوں نے بیرونِ ریاست سے آنے والے افراد کے بارے میں سخت جانچ پڑتال کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ حالیہ عرصے میں ریاست سے باہر سے آنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں بے چینی اور خدشات جنم لے رہے ہیں۔احتجاج کرنے والے شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ بیرونِ ریاست سے آنے والے افراد کی مکمل تفصیلی جانکاری، شناختی دستاویزات اور رہائش کے مقامات کی مستند جانچ کے بعد ہی اْنہیں علاقے میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ اْن کا کہنا تھا کہ کچھ واقعات کے بعد مقامی آبادی میں یہ احساس بڑھا ہے کہ نگرانی اور جانچ کا عمل مزید سخت ہونا ضروری ہے۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ کچھ افراد یہاں آ کر بڑے بڑے ٹھیکے حاصل کر رہے ہیں، جس کے ذرائع کے بارے میں شکوک پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’یہ ضروری ہے کہ انتظامیہ یہ معلوم کرے کہ یہ لوگ اتنی بڑی رقوم کہاں سے لا رہے ہیں اور اْن کا پس منظر کیا ہے۔احتجاج کے دوران شہریوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس سلسلے میں مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ مقامات پر باہر سے آئے ہوئے افراد مقامی خواتین کو ورغلا کر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں، لہٰذا انتظامیہ کو اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔مظاہرین نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ، ایس ایس پی پونچھ اور متعلقہ محکموں سے اپیل کی کہ شہر میں رہائش پذیر تمام بیرونِ ریاست افراد کا مکمل سکیورٹی آڈٹ کیا جائے، اور جن کے کوائف مشکوک ہوں اْن کے خلاف فی الفور کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں نے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ نے بروقت قدم نہ اٹھایا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔مظاہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے یو پی اور بہار کے لوگوں نے یہاں کی لڑکیوں کو ورغلایا اور ان کو یہاں سے اپنے ساتھ لے گئے۔انہوں نے مقامی وکلا سے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ان افراد کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اج اگر ایک شخص کی بیٹی گئی ہے تو کل یہاں کے کافی سارے بچوں کو اسی طرح بہلا پھسلا کر ورغلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان تاحال سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کے مطابق متعلقہ محکمے اس معاملے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔