عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//فوج نے ضلع پونچھ کے لائن آف کنٹرول کے قریب واقع بانڈی چیچیاں (سی سی بی) گاؤں میں ’بنوت ایکتا استھل‘ قائم کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ افتتاح شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے انجام دیا۔ فوج کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق یہ اقدام سرحدی علاقوں میں قومی یکجہتی، کمیونٹی ترقی اور قوم سازی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔فوجی حکام نے بتایا کہ بنوت ایکتا استھل کو حب الوطنی اور عوامی سہولیات کے امتزاج کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے صرف 45 دن کے ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا، جبکہ اس کا سنگ بنیاد 13 دسمبر کو رکھا گیا تھا۔ اس مقام پر 105 فٹ بلند قومی پرچم نصب کیا گیا ہے جو ضلع پونچھ کا سب سے بلند ترنگا قرار دیا جا رہا ہے اور لائن آف کنٹرول سے محض دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ پرچم قومی وقار، اتحاد اور خودمختاری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت عوامی سہولیات کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مقام پر بچوں کیلئے تفریحی پارک قائم کیا گیا ہے جبکہ ’ایکتا استھل‘ اتحاد اور اجتماعی ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ’ایکتا منڈپ‘ بھی تعمیر کیا گیا ہے جس کا مقصد خوبصورت پیر پنجال پہاڑی سلسلے کے پس منظر میں امن، سکون اور ذہنی آسودگی کو فروغ دینا ہے۔افتتاحی تقریب کے موقع پر قومی پرچم لہرایا گیا اور عوامی فلاح کے مختلف پروگرام بھی منعقد کئے گئے۔ فوج کی جانب سے طبی کیمپ اور خون کے عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جبکہ بچوں میں تعلیمی کٹس تقسیم کی گئیں۔ ضرورت مند افراد کو موسم سرما کے کمبل فراہم کئے گئے اور خواتین میں حفظانِ صحت سے متعلق سینیٹری پیڈز بھی تقسیم کئے گئے۔فوجی بیان کے مطابق بنوت ایکتا استھل مستقبل میں بانڈی چیچیاں اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سیاحت کے امکانات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ قدرتی حسن سے بھرپور یہ مقام نہ صرف مقامی بلکہ بیرونی سیاحوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرے گا، جس سے مقامی روزگار کے مواقع بڑھنے، چھوٹے کاروبار کو فروغ ملنے اور پائیدار معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔فوج نے واضح کیا کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ سرحدی آبادی کو قومی دھارے سے جوڑنا اور دور دراز علاقوں میں معاشی و سماجی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ مقامی لوگوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں ترقی اور ہم آہنگی کو مزید فروغ ملے گا۔