ایجنسیز
نئی دہلی//پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپنے عمل سے پاکستان کی بدنامی کی ہے۔ شہباز شریف بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد پہنچے تھے۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن بھی اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں ۔ شہباز شریف پوتن سے ملاقات کے لیے بے تاب تھے تاہم روسی صدر ان سے ملاقات میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پوتن نے شہباز کو تقریبا 40 منٹ تک انتظار کروایا۔شہباز شریف نے گیٹ کریش کرتے ہوئے پوتن سے ملاقات کی۔ پوتن کا تقریبا 40 منٹ انتظار کرنے کے بعد شہباز شریف ترک صدر اردگان کی ملاقات میں داخل ہوئے اور روسی صدر سے ملاقات کی۔ گیٹ کریشنگ کا مطلب ہے کسی دعوت کے بغیر کسی پارٹی، تقریب، یا مقام میں داخل ہونا یا شرکت کرنا۔ یہ غیر رسمی رویہ سمجھا جاتا ہے۔یوتن اور شہباز دونوں ترکمانستان میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ پوتن نے ابتدائی طور پر فوٹو آپس کے دوران شہباز کو نظر انداز کیا، حالانکہ شہباز براہ راست پوتن کے پیچھے کھڑے تھے۔ بعد ازاں پوتن اور شہباز کے درمیان دو طرفہ ملاقات طے پائی۔ پوتن اور اردگان کی ملاقات ہونے کی وجہ سے شہباز کو 40 منٹ انتظار کرنا پڑا۔یہ پہلا موقع نہیں جب پوتن نے شہباز کو نظر انداز کیا ہو۔ اگست میں بھی پوتن نے وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں شہباز کو نظر انداز کیا تھا۔