پروفیسرارشاداحمدحمال :علم وآگہی کاعلمبردار

یکم مئی ۲۰۲۱؁ء کوصبح پونے سات بجے وادیٔ چناب کے ایک عظیم مُعلّم ،محقّق ،دانشوراورسائنسدان پروفیسرارشاداحمدحمال صاحب بتّراہ ہسپتال سدراہ جمّوں میں دارِ فانی سے عالم ِ بقاکوکُوچ کرگئے۔اُ ن کے ارتحال کی یہ دُکھ بھری خبر جنگل کے آگ کی مانند آناً فاناً چاردانگ میں پھیل گئی اورایلیکٹرانک وپرنٹ میڈیانے اِسے تسلّی بخش تشہیردی ۔مرحوم ارشاداحمدحمال میرے سمبندھی ،دینی بھائی اورقریبی دوست تھے۔اُن کوروُبصحت ہونے کی ہماری دُعائوں پررضائے الٰہی غالب آگئی اورہمیں داغِ مفارقت کی طپش برداشت کرنے پربے بس ومجبور کردیا۔موصوف کے انتقال کی خبر راقم کواُن کی بڑی صاحبزادی عزیزہ عُظمہ نے اِن الفاظ میں دی۔’’اسیرؔانکل پاپاچلے گئے ‘‘۔میں سکتے کے عالم میں اِدھراُدھرتڑپتاگیا۔پھرمیںنے دِ ل تسلّی کے لئے ارشادصاحب کے اکلوتے صاحبزادے تفضّل المعروف جُگنوکوفون کیا۔اُس نے کہا۔’’پاپانہیں رہے ‘‘۔بعدازاںمیں نے راجہ عادل حمید،عُظمہ کے شوہرسے بات کی۔وہ بھی کافی غمگین ،رنجیدہ اورپریشان تھے ۔اشتیا ق احمد حمال یعنے ارشادصاحب کے چھوٹے بھائی کوبھی اطلاع دی تو وہ اپنے چھوٹے بھائی ایاز احمدحمال اورصاحبزادے جانوکے ہمراہ متعلقہ ہسپتال پہنچے۔ میں اورمیرے برادرِ نسبتی عبدالطیف سائل ایک ساتھ ہی سدراہ پہنچے اورکفن دفن کے بارے میں لواحقین کے ساتھ مشورہ کیا ۔اُدھرامریکہ سے میرے بڑے لڑکے نصیرالدین احمد اورارشادصاحب کی چھوٹی صاحبزادی اسمہ حمال کے رفیق ِ حیات بھی لائن پر ہمارے ساتھ جُڑ ے رہے۔گُجرنگرکے قدیم قبرستان میں قبرتیارکروائی گئی اور بعد ِ نمازعصر چھ بجے نمازِ جنازہ اداہوئی۔پھر ارشادصاحب کی نعش کوپورے عزت واحترام اورنمناک آنکھوںکے ساتھ سپردِ خاک کیاگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے علم وآگہی کایہ عظیم علمبردار ہماری نگاہوں سے رُوپوش ہوگیا جبکہ ان کی رفیقۂ حیات طلعت حمال  اپنے کمرے میںبیٹھے بیٹھے بے تابی کے ساتھ اپنے لائف پارٹنرکی صحت یابی اورگھرواپسی کاانتظار کررہی تھیں ۔یہ صورتِ حال اورمنظر کافی دلدوز تھامگراُسے دیکھے سہے بِناکوئی اورچارہ بھی نہ تھا ۔ہرکوئی گہرے ماتم میں ڈوباہواتھااورگھرکے درودیوار سے جیسے یہ صدائیں بلندہورہی تھیں     ؎
دم لیاتھانہ قیامت نے ہنوز
پھرتیرا وقت سفریادآیا  (غالبؔ)
پروفیسرارشاداحمدحمال الحاج غلام رسول حمال سابقہ ہیڈماسٹراسلامیہ فریدیہ ہائی سکول کشتواڑکے فرزند ِ اکبرتھے۔وہ چاربھائی اورتین بہنیں ہیں۔ اشتیاق احمدحمال سِول انجینئرتھے جوجمّوں وکشمیر کے پہلے ڈیولپمنٹ کمشنرورکس کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائرہوئے ۔امتیازاحمدحمال کشتواڑکے سینئر ایڈوکیٹ اورایک معز ّز شہری ہیں ۔ایازاحمد حمال بھی عدالت ِ عالیہ میں ایڈوکیٹ ہیں ۔اشتیاق صاحب کی بیگم صاحبہ کشتواڑکے سرکردہ قانون دان اورڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج مرحوم خواجہ غلام احمدٹاک کی صاحبزادی ہیں ۔غلام رسول حمال اورغلام احمدٹاک ایکدوسرے کے ہم زُلف بھی تھے۔امتیازاحمدحمال کی زوجہ مقتدر شاعر،ادیب ،نقاد،افسانہ نگار،صحافی ،سیاسی رہنما،ترجمہ کاراورمورّخ مرحوم غلام مُصطفیٰ عشرتؔ کاشمیری کی اکلوتی بیٹی ہیں۔ایازاحمدحمال کی شریک ِ حیات مرحوم شبیراحمدٹاک کی بیٹی ہے جوخودمحکمہ بجلی میں انجینئر تھے ۔پروفیسرارشاداحمد کی زوجہ طلعت حمال کشمیر ِصغیر ’’بھدرواہ‘‘کے نامورمعلّم اورافسانہ نگارمرحوم پروفیسرعبدالرحیم مُغل کی تین بیٹیوں میں سب سے بڑی صاحبزادی ہیں ۔اس طرح حمال خاندان کے رشتے وادیٔ چناب کے معز ّزاورعلمی خاندانوں سے جُڑے ہوئے ہیں ۔مرحوم غلام رسول حمال اسلامیہ فریدیہ سکول کشتواڑ میں تقریباً چالیس برس تک تعلیم وتدریس کے فرائض خوش اسلوبی سے نبھانے کی بدولت مقامی سطح پرایک بڑی مقبول شخصیت کے حامل تھے۔ بطور ِ ہیڈ ماسٹرحمال صاحب مرحوم ایک بڑے تجربہ کار اورسخت قسم کے ناظم شمارہوتے تھے۔ اسلامیہ سکول کی ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے اپنا ایک نجی تعلیمی دارہ قائم کیاتھاجو New Model Academy Kishtwar کے نام سے مشہورہے ۔حمال صاحب کواپنے وقت کی سربرآوردہ دینی،سماجی اورتعلیمی شخصیت کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے ہیں جن کاصحیح صحیح اندازہ اُن کے اچانک فوت ہوجانے کے وقت لگایا گیا۔ابھی تک لوگ اُن کانام پورے عزّت واحترام سے لیاکرتے ہیں۔ حمال صاحب مرحوم کی دوبیٹیاں برسرِ روزگاراوراپنے اپنے گھروں میں خوشحال زندگی بسرکررہی ہیں جبکہ ارشادصاحب کی بڑی بیٹی عُظمہ محکمہ جنگلات میں سائیل کنزرویشن آفیسرہیں اورچھوٹی بیٹی اسمہ (ایم بی اے)سیٹل (واشنگٹن۔امریکہ)کے ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارے میں درس وتدریس کے کام پرمامورہے۔ عُظمہ کے شوہرایس۔پی ہیں اوراسمہ کے شوہرMicrosoft ملٹی نیشنل کمپنی میں ایک اہم I.T کے عہدے پرفائزہیں ۔ارشادصاحب کے صاحبزادہ تفضُل نے بی ۔ٹیک کیاہے اور روزگارکی تلاش میں ہیں۔اس کی والدہ طلعت حمال گورنمنٹ گرلزہائی سکول بٹھنڈی جموںکی ہیڈمسٹرس ہیں۔
یہ تفصیلات محض اس لئے درج کرناپڑیں تاکہ یہ حقیقت کھُل کر سامنے آسکے کہ مرحوم ارشاداحمدحمال نے اپنی تمام تر زندگی علم وآگہی کے ماحول میں گُذاری اور وہ عمربھرطلباء اورمحققین کے لئے مشعل ِ راہ بنے رہے۔ایک سائنس سٹوڈنٹ ہونے کے باوجوداُنھیں شعروادب کے ساتھ زبردست وابستگی رہی ۔خودوہ شاعری وغیرہ تونہیں کرتے تھے مگرکُتب بینی اورگانے سُننے کا شوق ہمیشہ دامن گیررہا۔اولیاء اللہ کے وہ زبردست عقیدت مندتھے جواُنھیں اپنے والد ِ بزرگوارسے ورثے میں ملی نعمت تھی ۔صوم وصلوٰۃ کے نہ صرف خودپابندتھے بلکہ انھوں نے اپنے بچّوں کی تربیت میں قرآن خوانی اورصوـ‘م وصلوٰۃ کی پابندی کوبھی سب سے زیادہ ترجیح دی ۔ کسی بچے کی ذہانت کاپتہ چلتاتو اس کی پوری رہبری اوررہنمائی کرتے۔جمّوں یونیورسٹی کے بھدرواہ کیمپس کے ریکٹرکی حیثیت سے انھوں نے جوکارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں ان کی ہرطبقۂ فکرنے سراہناکی ہے۔ باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں وہ ڈین اکیڈمِک اور وائس چانسلررہے ۔ جوکام انھوں نے وہاں کیاہے اس سے پتہ چلتاہے کہ وہ اس یونیورسٹی کوترقی اورفروغ دینے میں سخت محنت کرتے رہے۔یونیورسٹی ہذا کاریکارڈاُن کی شاندارکارکردگی کابڑاشاہدہے ۔امانتداری اور ایمانداری میں وہ عدیم المثال تھے اسی لئے انھوں نے ذاتی مفادات کے بجائے جامعہ کے مفادات ہی کو ترجیح دی تھی۔ 
ارشادصاحب اپنے والدکی طرح ہی قواعدوضوابط کے زبردست پاسداراورسنجیدہ ناظم مانے جاتے تھے ۔ان کے شاگرداورماتحت کس قدرمطمین تھے اس کااندازہ ان کے تعزیتی پیغامات کوپڑھ سُن کرہی لگایاجاسکتاہے۔ابھی توجسمانی طورپروہ چست وتواناتھے لیکن کو ِڈ ۔19 کے ساتھ لڑائی میں انھیںبدقسمتی سے ہارہوگئی اوروہ ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جُداہوگئے۔وہ دریائے توی کے دائیں کنارے واقع گجرنگرقبرستان میں دائمی استراحت فرمانے پرمجبورہوگئے۔قبرستان نیستان ہوتاہے ۔وہاں انسان کے فانی ہونے کاعملی ثبوت ملتاہے ۔اسی لئے تومرزاغالب ؔ نے فرمایاہے   ؎
سب کہاں کچھ لالہ وگُل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میںکیاصورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
ارشاداحمدحمال سترہ اپریل ۱۹۵۳؁ء کو باغوان محلہ کشتواڑ میںپیداہوئے ۔اسلامیہ فریدیہ سکول کشتواڑاورگورنمنٹ ہائرسکینڈری سکول کشتواڑسے تعلیم حاصل کرنے کے بعدانھوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج بھدرواہ سے سینئرسکینڈری کاامتحان پاس کیا۔بی ایس سی گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ سے کرنے کے بعدانھوں نے جمّوں یونیورسٹی سے ایم۔ایس۔سی باٹنی اورپی۔ایچ۔ڈی باٹنی کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔
وہ ۱۹۸۲؁ء میں جمّوں یونیورسٹی کے باٹنی ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرارتعینات ہوئے ۔۱۹۹۳؁ء میںریڈربنے اوربالآخر۲۰۰۲ء میں ترقی پاکرپروفیسربن گئے ۔درسّ وتدریس کے علاوہ ارشاداحمدحمال صاحب ڈین اکیڈمِک ایفیئرس باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری ، ریکٹربھدرواہ کیمپس جمّوں یونیورسٹی اوروائس چانسلرباباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے اہم انتظامی عہدوں پربھی ماموررہے ۔انھوں نے ۱۹۸۴؁ء سے لے کر ۲۰۱۳؁ء تک چھ اہم سائنٹفک پروجیکٹوں پرکام کیاجبکہ ان کی نگرانی میں سکالروں نے ایم۔فِل کی چھ اورپی ۔ایچ۔ڈی کی بھی چھ ڈگریاں حاصل کیں۔ آ پ نے ۱۹۹۷؁ء سے ۲۰۰۷؁ تک پانچ بڑے ورک شاپ کروائے اوربذات ِ خود کئی ملکی اوربین الاقوامی کانفرنسوں سیمیناروں اورکانفرنسوں میں شرکت کی۔آپ نے اِس سلسلہ میں چین،سری لنکا اورتُرکی کے بھی علمی دورے کئے۔بحیثیت ِ رئیس ِ جامعہ انھوں نے اپنے سارے وسائل کوبروئے کار لاکر یونیورسٹی کومالی بحران سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ کئی عمارتیں تعمیرکروائیں اوراُن کے ایماء پرپالی ٹیکنک کالج بھی قائم ہوا ۔حساب ،اقتصادیات ،ایجوکیشن،باٹنی ،زوالوجی اورکمپیوٹرمضامین کی پوسٹ گریجویٹ سطح کی تعلیم بھی شروع ہوئی۔ارشادصاحب نے ۱۹۹۴؁ء سے ۱۹۹۶؁ء تک نیوزبُلیٹن جمّوں یونیورسٹی کے ایگزیکٹیوایڈیٹر کی حیثیت سے بھی کام کرکے اپنی ذہانت کالوہامنوایاتھا۔وہ ماہر ِ تعلیم کی حیثیت سے کئی ریاستی اورملکی سطح کی تعلیمی ونصابی کمیٹیوں کے رُکن بھی تھے۔وہ آخری دم تک ماڈل انسٹی چیوٹ آف انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالوجی کالج جموں اوراسلامیہ فریدیہ ایجوکیشنل اینڈریسرچ انسٹی چیوٹ آف ایجوکیشن کشتواڑ جیسے اہم اداروں کے تعلیمی صلاحکاربھی رہے۔
پروفیسرارشاداحمدحمال بُنیادی طورپرکافی ذہین ،محنتی ،وسیع النظراورسیکولرانسان تھے۔شرافت ان میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔اُن کے اونچے عہدے عام لوگوں کے ساتھ اُن کی قربت میں کوئی رکاوٹ پیدانہ کرسکے۔وہ اپنی ملازمت کے دوران بھی اُسی طرح ضروری اشیاء کی بذات ِ خود خریداری کرتے تھے جس طرح کہ وہ اُس ملازمت سے پہلے اورریٹائرمنٹ کے بعد کرنے کے عادی تھے۔ علمائے دین اورماہرین ِ تعلیم کی زبردست قدرومنزلت کرتے اوربدگمانی کے وہ زرابھربھی شکارنہ تھے۔اُن کی دینداری کااندازہ مجھے اس وقت ہوا جب کہ  ۲۰۱۷؁ء میں انھوں نے ہمارے ساتھ عمرہ کیا۔ خانۂ کعبہ پرپہلی نظرپڑتے ہی وہ چیختے چلاتے اورگڑگڑاتے ہوئے دست بہ دُعارہے۔روضۂ اطہرپرپہلی بارزیارت کرنے گئے تو وہ انتہائی عاجزی اورانکساری سے درو‘دوسلام پیش کرتے رہے ۔عُمرمیں مجھ سے بڑے ہونے کے باوجود بھی وہ میرے ساتھ بڑی ندامت اورشرافت کے ساتھ گفت وشنیدکیاکرتے تھے۔اُن کے انتقال سے دس پندرہ روزقبل میری ملاقات اُن کی رہائش گاہ واقع وِدہاتہ نگربٹھنڈی پرہوئی وہ تواپنی رفیقۂ حیات کی پوسٹ سرجری کی باتیں کرتے رہے۔بعدمیں مجھے اورمیری اہلیہ کوالوداع کہنے کے لئے حسبِ معمول اپنے مکان کے گیٹ تک آئے ۔مکان پرنظرڈالتے ہوئے کہنے لگے کہ طلعت کے بیمارہونے کے سبب میں اس کاپینٹ نہ کرواسکا۔میں نے ہنستے ہوئے کہاکہ اتنی بھی کیاجلدی ہے تفضل کی شادی پرکروائیں گے۔مجھے کیاپتہ تھاکہ وہ سچ مچ یہ کام اپنے پسماندگان کے لئے ہی باقی چھوڑیںگے۔کچھ دنوں کے بعدمیں نے انھیں فون پربھابی کی صحت کے بارے میں پوچھاتوکہنے لگے کہ وہ اب ٹھیک ہی ہے ۔ مجھے ہی کچھ دردہوئی اس لئے روز ہ توڑناپڑا۔تیسرے روزشام کوپھرفون پرپوچھاتوبتایاکہ اب فرق آگیاہے۔ رات کے پونے تین بجے موبائیل بجنے لگاتودیکھاکہ ارشادصاحب کال کررہے ہیں ۔میں نے فون اُٹھایاتوکہنے لگے ۔
’’اوہ!یہ آپ کوفون لگ گیا میں توجُگنوسے بات کرناچاہتاتھا۔’’صبح کے تقریباً پونے آٹھ بجے مجھے امریکہ سے نصیرالدین احمدکافون آیا تووہ کہنے لگا کہ اسمہ کے ڈیڈی کوبتراہسپتال میں بھرتی کیاگیاہے کیونکہ ان کاکو ِڈٹیسٹ پازٹیو آیاہے اورانھیں سانس لینے میں بھی دِقت آنے لگی ہے ۔ میں فوراً ہسپتال پہنچالیکن وہاں پرموجودعظمٰی اورتفضّل نے مجھے فوراًگھرلوٹنے کوکہاکیونکہ وہاں کو ِڈ کے کئی اوربیماربھی زیرعلاج تھے۔ارشادصاحب کچھ دِن زندگی اورموت کی کشمکش میں رہے اوربالآخر اپنی جانِ عزیز جان آفرین کے حوالے کرگئے۔ مجھے اِتنے دِن بیت جانے کے بعد بھی بالکل یقین ہی نہیں آتاہے کہ میرے بھائی،میرے جگری دوست ، قربتداراورعلم وآگہی کے علمبردار جنّت مکانی ہوگئے ہیں۔   ؎ 
آہ ! پروفیسرارشاداحمدحمال
وا ‘رئیس ِ جامعہ روشن خیال 
اہلِ دانش کی صفوں میں بے نظیر
خوش لباس وخوش مزاج وخوش مقال 
صاحب ِ تحقیق تھے ‘اب نہ رہے
مردِ دانش ‘بے مثل ‘بے قیل وقال
شفقتوں سے اُن کادِل آبادتھا
مہرباں رکھتاتھارشتے کاخیال 
دوہزار اکیس پہلی مئی تھی
ہوگیامشہور‘یومِ اِرتحال 
 چودہ سوبیالیس ہجری سال میں
ہشتدہ (۱۸)روزہ تھاپایاوصال
مومن ومونِس صفت ارشادنے
پاک باشی میں گذارے ماہ وسال
ہے دُعائے مغفرت اُن کے لئے
جنت الفردوس بخشے ذو الجلال 
 
رابطہ نمبر۔9419000471