بشیر اطہر
یہ ایک قابل ذکر بات ہے کہ سماجی بدعات کا قلع قمع کرنے کےلئے اہل فن و اہل ذوق افراد اہم کردار ادا کرتے ہیں، فنکار اپنے فن کے ذریعے سے، شاعر اپنی شاعری کے ذریعے اور قلمکار اپنے قلم کو جنبش دے کر سماجی مسائل پر تذکرہ کرتے ہیں تاکہ ان برائیوں میں پنپ رہا انسان تزکیہ نفس کرے۔سماجی بدعات کے متعلق بہت سارے قلمکاروں اور ادیبوں نے وقتاً فوقتاً قلم اٹھایا ہے آج بھی یہ سلسلہ بالکل اسی طرح جاری وساری ہے ۔ نئے قلمکار سامنے آرہے ہیں ، اپنی کاوشوں سے ہمیں محظوظ کرتے ہیںاور جن کا ادبی دنیا میں بھی نام درج ہواہے۔ ان ہی برجستہ و معروف قلمکاروں میں سے مجید مسرور کا نام سرفہرست ہے۔ مجید مسرور ہمعصر قلمکاروں میں ایک معروف نام ہے۔ اس وقت میرے ہاتھوں میں انہی کی ایک اہم کتاب “پروازِ شعور” ہے۔پرواز شعور اخلاقی، سماجی اور معاشرتی مضامین پر مشتمل ایک نہایت ہی عمدہ و بہترین کتاب ہے، جس میں ایک سے بڑھ کر ایک مضمون شامل ہیں۔ اگر کوئی شخص اس کتاب کا اچھی طرح سے مطالعہ کرے گا تو واقعًا اس کا شعور پرواز کرے گا اور وہ ایک بہترین انسان بن جائے گا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ جو اچھی باتیں تحریر میں لاتے ہیں وہ دوسروں کو اچھائی کی طرف دعوت دیتے ہیں۔مجید مسرور میں بہت ساری اچھائیاں پائی جاتی ہیں، ایک مخلص دوست، انسان پرور، خوش اخلاق خوش گفتار انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ شاعر اور قلمکار ہیں۔ آپ کی ادب میں بلند پرواز ہے مگر پھر بھی کسی کے ساتھ اظہار برہمی وبرأت نہیں کرتے ہیں اور ہر چھوٹے بڑے سے خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ پرواز شعور میں شامل مضامین شیرینی بکھرتے ہیں اور انہوں نے حساس طریقے سے ہی سماجی، اخلاقی اور دینی مضامین پر قلم اٹھایا۔پرواز شعور تیس مضامین پر مشتمل ایک ایسا تحفہ ہے، جس کا مطالعہ کرنے سے شعور اور عقل وفہم میں اضافہ ہوجاتا گا۔”اخلاق۔ایک عظیم نعمت”میں انہوں نے بڑے نرالے انداز سے اخلاقیات کے بارے میں بات کی ہے اور ایک انسان کا اخلاق سنوارنے کے طور طریقوں پر بھی سیر حاصل گفتگو پیش کی ہے۔ “کھجور ایک مکمل غذا” میں انہوں نے تفصیل سے کھجورکی افادیت کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ایک اور مضمون “تکبر کا انجام بربادی” میں انہوں نے تکبر جیسی لعنت سے خود کو پاک رکھنے کی تلقیٖن کی ہے۔ تکبر کرنے کے نتائج اور نقصانات کے بارے میں واضع طور پر لکھا ہے کہ غرور شیطانی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ مغرور و متکبر لوگوں کو پسند نہیں کرتا ہے،تواضع و انکساری سے ملنے والا شخص وہی ہوگا، جسکا ذہن تکبر سے پاک ہوگا۔اس کے علاوہ بھی بہت سارے ایسے مضامین پیش کئے ہیں جن کا مطالعہ کرنے سے علم و آگاہی کے دریچے وا ہوتے ہیں۔ کئ مضامین میں طنزیہ طور پر بڑی باتیں لکھی ہیں اور یہ باتیں سمجھدار لوگوں کےلئے کافی کارآمد ہیں۔ مضامین نصیحت آموز ہیں اور دل میں کو چھونے والے بھی۔”ایل ڈی نہیں مجھے لل دید اسپتال جانا ہے” میں انہوں نے اس اسپتال کی اہمیت اس کے نام کے بارے میں متاثر کُن مضمون پیش کیا ہے اور لل دیدکے بارے میں کافی کچھ لکھا ہے۔ یہ ایک حساس اور پُر مغز قلمکار کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے کہ وہ کسی تاریخی اہمیت والے ادارے یا جگہ کے بارے میں اس انداز سے لکھتے ہیں کہ عام لوگ بھی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔مجید مسرور نےجب بھی کسی موضوع پر قلم اٹھایا ہے تو بہت ہی خوبصورت اور دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ آپ نے لکھنے میں کبھی بخل سےکام نہیں لیا، جوکچھ بھی لکھا وہ اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر لکھا یعنی فرضی قصہ کہانیوں سے کام نہیں لیا۔مجید مسرور ایک ایسی علمی شخصیت ہیں جن کے علم کا اندازہ ان کے مضامین سے ہوتا ہے۔ انہوں نے پروازِ شعور کو شائع کرکے ایک عالمانہ کام انجام دیا ہے اور ناصح بن کر معاشرے کو سنوارنے کی کوشش بھی کی ہے ۔مجید مسرور ایک سماجی کارکن ہیں، جنہوں نے سماجی بدعات کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایسے ہی بدعات کے خلاف اپنے اکثر مضامین میں بات کی ہے۔ کتاب کا حجم اگر زیادہ نہیں ہے مگر اس میں شامل مضامین سونے پہ سہاگا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی انہوں نے ایسی تحریریں پیش کی ہیں جن کا استفادہ کرنے سے ایک نابلد انسان بھی اچھائیوں کی طرف مُڑ سکتا ہے، اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ ایک اچھے قلمکار ہیں ۔ امید کی جاسکتی ہے کہ آپ روزبروز ایسی نئی کتابیں منظر عام پر لاکر ہمیں اپنے تحریروں سے محظوظ کرتے رہیں گے۔
(رابطہ۔7006259067 )
[email protected]