ڈاکٹر ریاض احمد
مصنوعی ذہانت اب تعلیم کے میدان میں کوئی دور کی یا تجرباتی چیز نہیں رہی۔ یہ خاموشی سے اساتذہ کی میزوں اور لیپ ٹاپس تک پہنچ چکی ہے، جہاں اس کی مدد سے لیکچر تیار کیے جا رہے ہیں، پیچیدہ تصورات کو آسان بنایا جا رہا ہے، مضامین کا خلاصہ کیا جا رہا ہے اور امتحانی سوالات ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ اسکول کے کمروں سے لے کر یونیورسٹی کے لیکچر ہالز تک، مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز تیزی سے اپنائے جا رہے ہیں۔ لیکن اس تیز رفتار تبدیلی کے ساتھ ایک نہایت اہم سوال بھی جنم لیتا ہے۔اگر مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ معلومات غلط ہوں اور وہی غلطی طلبہ کو پڑھا دی جائے تو اس کا انجام کیا ہوگا؟
تعلیم میں مصنوعی ذہانت کی کشش بالکل واضح ہے۔ وقت کی کمی کا شکار استاد کسی مشکل ریاضیاتی تصور کی وضاحت، تاریخی واقعات کا خلاصہ یا طلبہ کی سطح کے مطابق مثالیں چند لمحوں میں حاصل کر سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت روانی اور اعتماد کے ساتھ مواد پیش کرتی ہے، مگر یہی روانی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔ یہ نظام انسانی فہم کی طرح ’’جانتا‘‘ نہیں بلکہ محض زبان کے نمونوں کی بنیاد پر جواب تخلیق کرتا ہے، اور اسی عمل میں بعض اوقات غلط یا گمراہ کن معلومات بھی نہایت اعتماد سے پیش کر دیتا ہے۔
مثال کے طور پر، ایک استاد ریاضی میں حد (Limit) کے تصور کی وضاحت کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لیتا ہے۔ جواب بظاہر درست اور متاثر کن ہوتا ہے، لیکن اس میں ایک بنیادی شرط کو غلط انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ طلبہ، استاد کے اختیار اور اعتماد کی وجہ سے، اس غلط وضاحت کو ذہن نشین کر لیتے ہیں۔ یہ غلطی فوری طور پر سامنے نہیں آتی، بلکہ مہینوں بعد اعلیٰ سطح کی تعلیم میں الجھن اور فہم کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر اس نقصان کی تلافی کہیں زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔
تاریخ اور سماجی علوم میں خطرات اور بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت بعض اوقات پیچیدہ تاریخی واقعات کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتی ہے، اسباب کو غلط جوڑ دیتی ہے یا جانبدار بیانیے کو دہرا دیتی ہے۔ نوآبادیاتی تاریخ پر تیار کردہ ایک سبق اہم نقطۂ نظر کو نظرانداز کر سکتا ہے یا زمانی ترتیب کو مسخ کر سکتا ہے۔ جب ایسی معلومات کلاس روم میں پیش کی جاتی ہیں تو وہ ادارہ جاتی اختیار کے باعث سچ کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں۔
اس پورے مسئلے کا مرکز احتساب اور ذمہ داری ہے۔ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کے باوجود، علم کی ذمہ داری انسان سے مشین کی طرف منتقل نہیں ہوئی۔ استاد اب بھی علمی درستگی کا آخری محافظ ہے۔ اگر غلط معلومات طلبہ تک پہنچتی ہیں تو غلطی کی جڑ چاہے ٹیکنالوجی میں ہو، ذمہ داری بہرحال پیشہ ورانہ ہی سمجھی جائے گی۔
یہ اصول کوئی نیا نہیں۔ اساتذہ ہمیشہ سے ماخذات کی جانچ کے پابند رہے ہیں، چاہے وہ درسی کتب ہوں، حوالہ جاتی کتابیں ہوں یا آن لائن مواد۔ مصنوعی ذہانت اس ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی۔ بغیر تصدیق کے مصنوعی ذہانت کا استعمال ویسا ہی ہے جیسے پرانی یا ناقابلِ اعتماد کتاب سے پڑھانا۔ ذریعہ نیا ہے، مگر فرض وہی ہے۔
غلط معلومات کے اثرات محض ایک سبق تک محدود نہیں رہتے۔ ریاضی اور سائنس جیسے مضامین میں تصوراتی غلطیاں برسوں تک سیکھنے کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ پیشہ ورانہ تعلیم میں یہ غلطیاں عملی صلاحیت پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان اعتماد کے ٹوٹنے کا ہوتا ہے۔ طلبہ اپنے اساتذہ پر نہ صرف رہنمائی بلکہ درست علم کے لیے بھی بھروسہ کرتے ہیں۔ جب یہ اعتماد مجروح ہوتا ہے تو تعلیمی رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔اب بہت سے تعلیمی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ واضح رہنما اصول ناگزیر ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ مواد کو حتمی اتھارٹی نہیں بلکہ ابتدائی مسودہ سمجھا جانا چاہیے۔ معیاری درسی کتب، تحقیقی مضامین اور معتبر حوالہ جاتی مواد سے تصدیق کو معمول بنانا ہوگا، خاص طور پر ان مضامین میں جہاں درستگی انتہائی اہم ہے۔اساتذہ کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ انہیں نہ صرف ٹولز کے استعمال بلکہ ان کی حدود، تعصبات اور ممکنہ غلطیوں کے بارے میں بھی آگاہی دی جانی چاہیے۔شفافیت بھی ایک مؤثر حفاظتی ذریعہ ہے۔ جب استاد کھلے طور پر بتاتا ہے کہ مواد مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا اور پھر اس کی جانچ کی گئی تو وہ ذمہ دارانہ رویے کی مثال قائم کرتا ہے۔غلطیاں اگر ہو بھی جائیں تو وہ لازماً تباہ کن نہیں ہوتیں۔ بروقت اعتراف اور تصحیح علمی دیانت کو مضبوط بناتی ہے۔ ایسا استاد جو اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے، طلبہ کو یہ سبق دیتا ہے کہ سچائی انا سے زیادہ اہم ہے۔
تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا سوال اساتذہ کی جگہ لینے کا نہیںبلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی اچھے تدریسی عمل کو مضبوط کرے گی یا اس کی کمزوریوں کو بڑھا دے گی۔ مصنوعی ذہانت وضاحت، رفتار اور رسائی کو بہتر بنا سکتی ہے مگر بغیر فہم کے استعمال کی صورت میں یہ غلطی کو بھی وسیع پیمانے پر پھیلا سکتی ہے۔تعلیم ہمیشہ انسانی ذمہ داری پر قائم رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے بہت پہلے بھی اساتذہ یہ فیصلہ کرتے تھے کہ کیا پڑھانا ہے، کیسے پڑھانا ہے اور کن باتوں پر سوال اٹھانا ہے۔ یہی فیصلے ذہنوں اور مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔ کوئی الگورتھم اس اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی جگہ نہیں لے سکتا۔ مصنوعی ذہانت استعمال ہوگی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم دانشمندی، تصدیق اور احتساب کو جدت کے ساتھ جوڑ سکیں گے۔ اس کا جواب ہی طے کرے گا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم کی معاون بنے گی یا خاموشی سے علم کے بھیس میں ابہام پیدا کرے گی۔
���������������