ایران کی طرف سے دبئی اور اسرائیل پر تازہ میزائل حملے
دبئی// ایران نے جمعرات کو اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے تازہ میزائل حملے کیے، جو امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کی جانب سے جاری جنگ کے حوالے سے قوم سے خطاب کے فوراً بعد سامنے آئے، جس میں انہوں نے جنگ کے اختتام کے قریب ہونے کا اشارہ دیا تھا۔دبئی میں ٹرمپ کے خطاب سے قبل دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو تباہ کیا۔ خطاب کے کچھ دیر بعد اسرائیل نے بھی آنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی تصدیق کی۔ بحرین میں، جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے، سائرن بج اٹھے۔بین الاقوامی دباؤ کے باوجودایران نے جنگ بندی کی امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آبنائے حرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔اس بحران کے پیش نظر تقریباً 35 ممالک برطانوی وزیر خارجہ کوپریوت کی میزبانی میں ایک ورچوئل اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے سفارتی اور سیاسی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
اس گروپ میں زیادہ تر جی 7 ممالک کے علاوہ متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک شامل ہیں، تاہم امریکہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔برطانوی وزیر اعظم کیرسٹامرنے کہا کہ اجلاس میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے، پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کے تحفظ اور ضروری اشیاء کی ترسیل بحال کرنے پر توجہ دی جائے گی۔اپنے تقریباً 20 منٹ کے خطاب میں ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران کے خلاف ’انتہائی سخت‘ کارروائی کرے گا، جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی اسٹریٹجک اہداف تکمیل کے قریب ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی حاصل کرتے ہیں، انہیں اس راستے کی حفاظت کے لیے خود کردار ادا کرنا ہوگا۔جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید متاثر ہوئی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر تقریباً 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو فروری کے آخر کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔ایران کی جانب سے خلیجی توانائی کے ڈھانچے پر حملوں نے بھی عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔جنگ میں انسانی جانوں کا نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران میں 1900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ Israel میں 19 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ خلیجی ممالک اور مغربی کنارے میں دو درجن سے زائد افراد جان سے گئے ہیں جبکہ 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔لبنان میں 1200 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ وہاں 10 اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔