یو این آئی
نیویارک//وینزوئیلا کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کہا گیا کہ وینزوئیلا کے خلاف امریکی کارروائی میں عالمی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی۔عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ وینزوئیلا میں امریکہ کی فوجی کارروائی غیر قانونی ہے۔اجلاس میں ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے ایک بیان پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا کہ وینزوئیلا کے صدر اور ان کی اہلیہ امریکی تحویل میں ہیں، تمام فریق اقوام متحدہ چارٹر کی پاسداری کریں۔ان کا کہنا تھا کہ دھمکی یا طاقت کے استعمال پر پابندی ضروری ہے، قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔اجلاس میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے وینزوئیلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مادورو کو منشیات کی عالمی مقدمات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، مادورو نے امریکی عوام پر حملے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کیا۔امریکی مندوب نے کہا کہ یہ معاملہ وینزوئیلا یا اس کے عوام کے خلاف نہیں ہے، مادورو نے امریکی عوام پر حملے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کیا،یہ عوام کو دبا میں رکھنے کے ذمہ دار بھی ہیں۔اس موقع پر سیکریٹری اقوام متحدہ کی نمائندہ کا کہنا تھا امریکی کارروائی میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری نہیں ہوئی۔