مشاورت بجٹ سے قبل عوام کی بنیادی سطح پر ضروریات اور ترجیحات کو سمجھنے کا اہم عمل:عمر عبداللہ
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں ڈویژن کے آٹھ اضلاع کے عوامی نمائندوں کے ساتھ پیشگی بجٹ مشاورت کا عمل مکمل کیا اور حکومت کی جانب سے بجٹ تیاری میں جامع اور شریکانہ طریقہ کار اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا جس کا مقصد جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی ہے ۔ انہوں نے تمام اراکین اسمبلی کا ان کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں قیمتی تجاویز اور رائے دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ مشاورتیں محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ عوام کی بنیادی سطح پر ضروریات اور ترجیحات کو سمجھنے کا اہم عمل ہیں ۔ انہوں نے کہا ’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مشاورتیں رسمی نہیں ہیں اگر یہ صرف رسمی ہوتیں تو میں آپ کو بلاتا ہی نہیں ‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتخب نمائندوں کی بات سُننے سے اکثر ایسے آئیڈیاز اور نقطہ نظر سامنے آتے ہیں جن پر حکومت نے پہلے غور نہیں کیا ہوتا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ آپ کی بات سُننے کے بعد ہمیں کچھ ایسے خیالات ملتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا ۔ اگر آپ کو بجٹ سے فائدہ ہوا تو جموں و کشمیر کو فائدہ ہو گا ۔ اگر جموں و کشمیر کو فائدہ ہوا تو آپ اور میرا کام پورا ہو جائے گا ‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک ہی مقصد ہے ۔
انہوں نے کہا ’’ ہم سب ایک ہی صفحے پر ہیں کہ جموں و کشمیر اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو فائدہ ہو ۔ یہ میٹنگز کا مقصد ہے ‘‘۔ عمر عبداللہ نے اراکین اسمبلی کا فعال شرکت کرنے اور اپنے مطالبات اور تجاویز حکومت کے سامنے رکھنے پر شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا ’’ جس چیز پر آپ نے بات کی ، جو آپ نے لکھا اور جو آپ نے جمع کرایا ، سب نوٹ کر لیا گیا ہے ۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ان میٹنگز میں شرکت کی ‘‘۔انہوں نے کہا کہ پیشگی بجٹ مشاورت کا عمل گذشتہ سال شروع کیا گیا تھا اور اس سال بھی جاری رکھا گیا ہے تا کہ شریکانہ گورننس کو مضبوط کیا جا سکے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان میٹنگز کا بنیادی مقصد عوامی نمائندوں کی بات سُننا اور بجٹ تیاری کے دوران قابل عمل تجاویز کو شامل کرنا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ ہر وزیر کو ان مشاورتوں کی رپورٹ ملتی ہے تا کہ محکمہ جاتی ترجیحات طے کرتے وقت جو تجاویز ممکن ہوں انہیں شامل کیا جا سکے ۔ باقی مسائل بجٹ مباحثے ، گرانٹس اور کٹ موشنز کے دوران زیر بحث آتے ہیں ‘‘ ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مختلف فنڈنگ ذرائع جیسے یو ٹی کیپیکس ، ڈسٹرکٹ پلانز ، ساسکی اور مرکزی اسپانسرڈ اسکیمز میں ترجیحات کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا ’’ جو ترجیحی فہرست ہم نے گذشتہ سال شروع کی تھی اسے اس سال بھی آگے بڑھایا جائے گا ۔ ہم بجٹ کی پابندیوں کی وجہ سے ہر مطالبہ شامل نہیں کر سکتے لیکن گذشتہ سال سے شروع کی گئی آپ کی ترجیحی کام مکمل کئے جائیں گے اور حوالے کئے جائیں گے ‘‘۔برفباری ، سیلاب اور شدید بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 1430 کروڑ روپے کے ریلیف پیکیج کو دانشمندانہ طور پر استعمال کر کے متاثرہ علاقوں کی مرمت اور بحالی کی جائے گی ۔ میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر چوہدری ، وزراء سکینہ ایتو ، جاوید رانا ، ستیش شرما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے شرکت کی ۔ مشاورت کے سیشنز میں ادھم پور ، کٹھوعہ ، ریاسی ، رام بن ، راجوری ، پونچھ ، کشتواڑ اور ڈوڈہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے ایم ایل ایز نے شرکت کی ۔میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، پی ڈبلیو ڈی کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ، پرنسپل سیکرٹری فائنانس ، کمشنر سیکرٹری سوشل ویلفیئر ، کمشنر سیکرٹری ایجوکیشن /ہائیر ایجوکیشن ، متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ، ڈائریکٹر جنرل بجٹ اور فائنانس ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ محکموں کے دیگر سینئر افسران نے بھی شرکت کی ۔ جموں سے باہر تعینات افسران نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی ۔