کہا بات چیت سے حکومت کی بجٹ 2026-27 کیلئے ترجیحات مرتب کرنے میں مدد ملے گی
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//عوام دوست اور ترقی پر مبنی بجٹ کی تیاری کے جاری عمل کے تحت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں اور سامبا اضلاع سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے ساتھ ایک پری بجٹ مشاورتی اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس کے دوران شعبہ وار ترجیحات، اضلاع کی مخصوص ترقیاتی ضروریات اور متوازن و ہمہ گیر ترقی کے لیے پالیسی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ پری بجٹ مشاورت کا یہ عمل ایک مسلسل اور ارتقائی عمل ہے، جس کا مقصد منتخب نمائندوں کی بامعنی شمولیت کے ذریعے حکومتی ترجیحات کا تعین کرنا ہے۔انہوں نے کہا، ’’گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی بات چیت کا میں نے جائزہ لیا ہے۔ یہ ایک جاری عمل ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ زیادہ تر مسائل کی تکرار نہیں ہوئی۔‘‘انہوں نے واضح کیا کہ ان اجلاسوں کا مقصد رسمی جوابات دینا نہیں بلکہ مشاورت ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اس عمل کا مقصد آپ کی بات سننا، آپ کے خیالات کو سمجھنا اور انہیں پالیسی اور عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ حلقہ جاتی مسائل پر اسمبلی میں بجٹ مباحث کے دوران متعلقہ محکموں کی جانب سے گرانٹس پیش کرتے وقت جواب دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا، ’’چاہے ڈگری کالج کا قیام ہو، آبپاشی کے منصوبے ہوں یا دیگر شعبہ جاتی مسائل، ان پر تفصیلی جواب ایوان میں دیا جائے گا۔‘‘گزشتہ برس اگست میں جموں و کشمیر میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومتِ ہند سے موصول ہونے والی امداد کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا، ’’حکومتِ ہند سے موصول ہونے والی 1430 کروڑ روپے کی فلڈ ریلیف رقم کو حلقہ وار تقسیم نہیں کیا جائے گا بلکہ نقصانات کی نوعیت اور شعبہ جاتی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔‘‘انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یہ فنڈز مکمل شفافیت اور مقررہ وقت کے اندر درست طریقے سے استعمال کیے جائیں گے اور تمام تفصیلات اراکین کے سامنے رکھی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز خدشات اور تعمیری تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور انہیں آئندہ بجٹ میں شامل کر کے جموں و کشمیر میں متوازن اور ہمہ گیر علاقائی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔