فرانسیسی صدراورسعودی وزیرخارجہ سے بھی ملاقات کی
ایجنسیز
پیرس// بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جی 7 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات کی اور اس گفتگو کو نہایت مفید قرار دیا۔ایس جے شنکر نے جمعہ کو صدر میکرون سے باضابطہ ملاقات کی۔ ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا اور صدر میکرون کی بصیرت افروز گفتگو کو سراہا۔وزیر خارجہ فرانس کے مقام ابے دی وو ڈی سرنے میں منعقدہ دو روزہ جی 7 وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے جمعرات کو پہنچے تھے۔ اگرچہ بھارت جی 7 کا رکن نہیں، تاہم موجودہ چیئرمین فرانس نے اسے شراکت دار ملک کے طور پر مدعو کیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس جے شنکر نے عالمی جنوبی ممالک کو درپیش توانائی، خوراک اور ایندھن کے تحفظ سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا اور عالمی طرز حکمرانی میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مضبوط تجارتی راستوں اور سپلائی چینز کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔اجلاس کے موقع پر ایس جے شنکر نے مختلف عالمی رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود، جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈیفول اور یوکرینی وزیر خارجہ اندری سیبیہا شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں مغربی ایشیا کی صورتحال خاص طور پر زیر بحث رہی۔مزید برآں، انہوں نے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند، جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون، اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی، جاپان کے وزیر خارجہ توشی میتسو موتیگی اور برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو وییرا سے بھی بات چیت کی۔واضح رہے کہ جی 7 دنیا کی سات بڑی معیشتوں — کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ — پر مشتمل ایک اہم عالمی فورم ہے، جس میں یورپی یونین بھی شامل ہے۔ فرانس نے اس اجلاس میں بھارت کے علاوہ سعودی عرب، جنوبی کوریا اور برازیل کو بھی مدعو کیا ہے۔جی 7 عالمی سطح پر بڑے معاشی، مالیاتی اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کے درمیان مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔