وادی میں داعش کی کوئی موجودگی نہیں، 190عساکر ہلاک200متحرک

سرینگر// وادی میں لشکر لیڈرشپ کا صفایا کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے فوج کی15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سرحدوں پر سخت چوکیسی کے باوجود بھی دراندازی ہو رہی ہے۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے وادی میں قیام امن کیلئے تشدد،جنگجویت اور منشیات کے خاتمے کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی جنگجو اگر واپس آئیں گے،تو انکی مدد کی جائے گی تاہم سرگرم جنگجوئوں کے خلاف آپریشن آل اوٹ جاری رہے گا۔ حاجن آپریشن کے بعد سرینگر کے چنار کور میں،15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو ، ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید ن اور انسپکٹر جنرل سی آر پی ایف ذوالفقار حسین نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی میںجنگجوئوں کے خلاف پائیداد آپریشن کی وجہ سے صورتحال میں غیر معمولی تبدیلی نظر آنی لگی۔
 
کور کمانڈر
 وادی میں جلد امن کی بحالی کی امید ظاہر کرتے ہوئے فوج کے15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل جے ایس ساندھو نے کہا کہ وادی میں امسال فورسز،فوج اور پولیس نے مشترکہ طور پر کامیاب آپریشن کئے،جس کے دوران190کے قریب عساکروں کو ہلاک کیا گیا۔انہوں نے اعدادو شمار ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان جنگجوئوں میں سے80مقامی جبکہ110کے قریب غیر ملکی تھے۔ لیفٹنٹ جنرل نے مزید کہا کہ جہاں قریب66جنگجوئوں کو دراندازی کے دوران جاں بحق کیا گیا،وہیں125سے 130کے قریب وادی کے مختلف علاقوں میں ہلاک ہوئے۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سرحدوں پر فوج کی چوکسی کے بعد بھی کچھ حد تک دراندازی ہو رہی ہے۔فوجی کمانڈر نے کہا’’نامساعد موسمی صورتحال کی وجہ سے کھبی کھبار درانداز اس پار آنے میں کامیاب ہوتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ امسال کے اوائل میں جو ایجی ٹیشن شروع کی گئی تھی،وہ بھی تبدیل ہوگئی،اور اس میں بھی بہتری آئی۔حاجن جھڑپ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سال حاجن علاقے میں کئی تشدد آمیز واقعات رونما ہوئے،جس کے دوران رشید بلا،اور محمد رمضان پرے کو ہلاک کیا گیا،جس کے بعد روزانہ کی بنیادوں پر حاجن اور اس کے دیگر نواحی علاقوں پر تلاشیوں کا آپریشن جاری رکھا گیا،اور خصوصی نظر بھی رکھی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے چندر گیر پر انکی نظر تھی،اور مصدقہ اطلاعات ملنے پر آپریشن شروع کیا گیا،جس کے دوران6 جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا،جن میں محمود بھائی بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دیگر جنگجوئوں میں رپورٹوں کے مطابق ائوید ذکی الرحمان کا بھتیجے تھا۔جے ایس ساندھو نے کہا کہ حاجن آپریشن کے بعد لشکر کی بیشتر لیڈرشپ ختم ہوچکی ہے،اور امید ظاہر کی کہ اب وادی میں عنقریب ہی امن قائم ہوگا۔ساندھو نے کہا کہ مذکورہ جنگجو3 دنوں سے علاقے میں چھپے تھے،اور انہیں لگ رہا تھا کہ وہ وہاں محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقامی نوجوان خود کو’’مجاہد‘‘ سمجھتے ہیں،تاہم انہیں پاکستانی وزیر اعظم کا حالیہ بیان سمجھنا چاہیے،جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان انہیں ’’پراکسی‘‘ ہی سمجھتا ہے۔ جنگجوئوں کو سرینڈر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے چنار کور کے کمانڈر نے کہا’’ مین اسٹریم میں واپس آئو،اس سے وادی میں امن قائم ہوگا،اور ہم انہیں عزت کے ساتھ واپس آنے میں مدد دیں گے‘‘۔انہوں نے والدین سے بھی کہا کہ وہ اپنے بچوں کو واپس لوٹنے کیلئے سمجھائیں۔ایک سوال کے جواب میں  15ویں کور کے کمانڈر نے کہا کہ فی الوقت فوج2راستوں پر کام کر رہی ہے،اول یہ کہ جنگجوئوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے،اور ثانیاً یہ کہ مقامی نوجوانوں کو واپس لایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ کولگام میں ایک نوجوان کو زخمی حالات میں اسپتال پہنچایا گیا جبکہ 2 جنگجوئوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وادی میں فی الوقت قریب200جنگجو متحرک ہیں،جن میں قریب110مقامی اور باقی غیر مقامی ہے۔
 
ڈائریکٹر جنرل
ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے کشمیر میں بہت جلد امن قائم ہونے کی امید کرتے ہوئے کہا کہ بندوق اور انتہا پسندی سے کشمیر کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا’’وادی کشمیر کو دہشت،بندوق،منشیات سے صاف کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ’’امید کرتے ہیں کہ کشمیر تشدد سے بہت جلد پاک ہوگا‘‘۔وید نے کہا کہ حاجن میں امسال دہشت تھا،اور گزشتہ روز کے آپریشن کے بعد اب وہ دہشت ختم  ہوچکا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پاکستان کو مقتولین کی نعشیں واپس لینے کیلئے کہا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انسانیت کا تقاضاہے کہ ان کے گھر والے لاشوں کی سپردگی کا دعویٰ کریں،تاکہ وہ  اپنے بچوں کی آخری رسومات ادا
کرسکیں،کیونکہ وہ بھی انسان ہی ہیں۔ پولیس سربراہ نے زکورہ میں حملے پر داعش کے دعوئے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’’اب تک یہ ثابت نہیں ہوا،مجھے نہیں لگ رہا ہے،کہ یہاں داعش کی کوئی موجودگی ہے‘‘۔
 
آئی جی پولیس
 پولیس کے صوبائی سربراہ منیر احمد خان نے زکورہ جھڑپ میں جان بحق ہوئے نوجوان کی داعش سے وابستگی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ وادی میں عسکریت پسند گروپوں کو لیڈر شپ کی کمی کا سامنا ہے،اس لئے وہ اپنے رشتہ داروں کو یہاں بھیج رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنگجوئوں  کے لیڈروں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں،اس لئے بھی وہ اپنے رشتہ داروں کو روانہ کر رہے ہیں۔آئی جی کشمیر نے آئی ایس آئی ایس کی موجودگی کو مسترد کیا۔انہوں نے کہا’’ میں اس کو خارج از امکان قرار دیتا ہوں،تحریک المجاہدین نے اس کا دعویٰ کیا ہے،کیا وہ تحریک المجاہدین سے وابستہ نہیں تھا‘‘۔
 
آئی جی،سی آر پی ایف
 فورسز اور دیگر ایجنسیوں کے درمیان تال میل کو بہترین قرار دیتے ہوئے سی آر پی ایف کے آئی جی آپریشنز ذوالفقار حسین نے کہا کہ حاجن میں ہی امسال آپریشن کے دوران سی آر پی ایف کا کمانڈنٹ چیتن چیتا زخمی ہوا،جبکہ بعد میں جون میں فدائن حملہ بھی کیا گیا۔انہوں نے کہا  کہ اس دوران کافی نوجوانوں کی کونسلنگ بھی کی گئی اور انہیںعسکریت پسندوں کے صفوں میںجانے سے روک دیا گیا۔حسین نے کہا کہ کوئی بھی مقامی جنگجو واپس آسکتا ہے،اور اس کیلئے فوج،پولیس اور سی آر پی ایف نے پہلے ہی مددگار ہلپ لائن کے نمبرات کو منظرعام پر لایا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم بھی چاہتے ہیں کہ وہ واپس آئیں،جبکہ کئی عسکریت پسند واپس لوٹنا چاہتے ہیں،تاہم انہیں وہ ذرائع معلوم نہیں ہے،جس سے وہ واپس لوٹ سکتے ہیں‘‘۔ جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے فٹ بال کھلاڑی ماجد کی گھر واپسی کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی آپریشنز نے کہا ’’ انہیں ہراساں نہیں کیا جائے گا،بلکہ امید سے بھی زیادہ مدد فراہم کی جائے گی‘‘۔