نیوزی لینڈ کے بعد سری لنکا

نیوزی لینڈ کے عیسائی دہشت گردانہ واقعے نے مسلمانوں کو عالمی سطح پر مظلوم بنایا تھا۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے اس موقع جو تاریخی کردار ادا کیا تھا، اس نے اسلامی تہذیب کا حقیقی اور خو صورت چہرہ مغربی دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو عالمی کٹہرے میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان پر الزامات، اتہامات کے تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔ مسلمان زمانے بھر کا تشدد بھی سہہ رہے تھے اور انہی کو ظالم اور دہشت گرد بھی بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ داعش جیسے سفاک گروہوں کو مسلمانوں کا نمائندہ اور علامت بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ داعش کا نام مسلمانوں جیسا تو ضرور ہے مگر اس کا شجرہ ٔ نسب مشکوک ہے۔ عرب دنیا میں اس گروہ نے اسلام کے نام پر مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہا کر اپنے بارے میں شکوک کے سائے گہرے کیے ہیں۔ وقت ثابت کر چکا ہے کہ داعش امریکا اور اسرائیل کی ایجاد کردہ تنظیم تھی جس سے خانہ ٔ خدا تک محفوظ نہیں رہ سکا۔ یہ مغربی طاقتوں کا بلینک چیک ہے جس پر اس مسلمان ملک کانام ہی لکھا جاتا ہے جہاں کارروائی مقصود ہو۔ مسلمانوں پر اس تنظیم کے نام پر صرف اتنی ہی تہمت ہوتی ہے کہ اس کی کارروائی کی ذمے داری مسلمان نام قبول کرلیتا ہے۔
نیوزی لینڈ کی مسجد میں بہنے والے لہو نے مسلمانوں اور ان کی تہذیب کی علامتوں کو زندہ کرنے اور توانائی اور احترام بخشنے میں اہم کر دار ادا کیا تھا۔ جو حجاب یورپ میں نفرت کا نشان بن رہا تھا ،نیوزی لینڈ کی  خاتون وزیراعظم نے اسے قبولیت اور احترام دیا۔ نیوزی لینڈ کے عوام نے مسلمانوں کی عبادتوں اور علامتوں کو نفرت کے بجائے ہمدردی اور وقار دیا، لاتعداد لوگ اسلام اور مسلمانوں کو متجسس انداز میں دیکھنے لگے تھے۔ عیسائی دنیا اس اظہار ہمدردی میں پیش پیش تھی مگر یکایک سری لنکا کی دہشت گردی نے نیوزی لینڈ کے مظلوم کو ایک بار پھر ظالم بنا ڈالا۔ سر ی لنکا کی حکومت کو داد دی جانی چاہیے جس نے نفرت کے شعلوں کو پھیلنے اور بڑھنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور یوں مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر نفرت کی لہر اُٹھائی نہ جا سکی۔ اس کے باوجود دہشت گردی کی پہلی زد مسلمانوں کی تہذیبی علامت نقاب پر پڑی اور سری لنکا حکومت نے اپنی پوری انصاف دوستی کے باوجود نقاب پر پابندی عائد کردی۔ اُدھربھارت سری لنکا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے خوف زدہ ہے۔ دونوں کے درمیان ایک مدت سے کھینچا تانی چل رہی ہے۔ سری لنکا کو توڑ کر تامل ریاست بنانے کی کوششوں کے پیچھے ’’بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی‘‘ کا اصول کارفرما تھا ۔ سری لنکا نے اس سازش کی بہت بھاری قیمت ساڑھے تین عشروں کی دہشت گردی اور عسکریت کی صورت چکائی ہےاور آج سری لنکائی مسلمانوں کے خلاف ایجنسیوں کی طرف سے زہر ناک سازشیں رچاکر ایک تیر سے دوشکار کھیلے جارہے ہیں ، ایک طرف مسلمانوں کو دنیا بھر میںمشکوک اور برمی مسلمانوں کی طر ح تنگ طلب کیا جارہاہے تاکہ نیوزی لینڈ کے مابعد مغرب میں مسلمانوں کے تئیںجو ہمدردی کی لہر چلی تھی وہ تھم جائے اور  دوسری طرف لنکن حکومت کے لئے شدید بحرانی مسائل پیدا کئے جا ئیں تاکہ وہ کسی پہلو چین نہ پائے۔