بشیر اطہر
نام کتاب: نوید سحر
مصنف: فریدہ انجم
بہت دنوں سے کوئی آئینہ نہیں دیکھا
میری نگاہ نے مگر آپ سا نہیں دیکھا
زیر تبصرہ شاعری مجموعہ نوید ِ سحر فریدہ انجم کا بہترین شہکار ہے۔ انہوں نے اپنی عرق ریزی سے اس کتاب کو شائع کیا ہے ،اس میں ان کی بہترین اور لاجواب غزلیں شامل ہیں۔ فریدہ انجم معاصر اردو ادب کی بہترین شاعرہ ہیں جن کا تعلق پٹنہ بہار سے ہے۔ ایک طویل عرصے تک عورت کو چار دیواری کے اندرہی محدود رکھنے کا خام تصور کارفرما تھامگر بیسویں صدی میں کئی ایسی شاعرائیں سامنے آئیں، جنہوں نے ادبی دنیا میں اپنی شاعری اور دیگر اصناف سخن سے دھوم مچادی اور ادبی دنیا کے ایوانوں میں اپنا نام جلّی حروف سے لکھوانے میں کامیاب ہوگئیں۔ اب عورتیں صرف گھر سے باہر ہی نہ نکلیں بلکہ وہ ادب اور علوم وفنون کی جانب بھی متوجہ ہوئیں اور یہ سلسلہ آج بھی رواں دواں ہے، انہی نسوانی آوازوں میں فریدہ انجم کا نام ادبی ایوانوں میں ادب سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی کتاب شعاعِ انجم اور دوسری کتاب نویدِ سحر شائع کرکے اردو زبان وادب میں اضافہ کیا ہے ۔فریدہ انجم نے اردو شاعری کو ایک منفرد لہجہ اور احساس دیا۔ ان کی شاعری اپنے عہد کا خوبصورت آئینہ اور ماضی کی روایت کا تسلسل ہے۔ ان کے ہاں چاہت، رفاقت، ملاقات، جدائی، فراق، جذبے اور احساسات نئے انداز اور جدید دور کے تناظر میں محرک ملتے ہیں۔ فریدہ انجم کی شاعری میں اس کا وسیع مطالعہ، اس کے ذاتی تجربات، شدت جذبات اور مشاہدے کی گہرائی جھلکتی ہے۔
ہر لمحہ زندگی کا تنہا گزارتی ہوں
پھر بھی محبتوں سے تم کو پکارتی ہوں
تصویر کے جیسے یوں سامنے کھڑے ہو
آئینہ دیکھتی ہوں زلفیں سنوارتی ہوں
فریدہ انجم نے اپنے حسین جذبوں اور اچھوتے خیالوں کو بڑے نرم و نازک لفظوں میں بیان کیا ہے انہوں نے اپنی غزلوں میں استعاروں اور تشبیہوں کا خوب استعمال کرکے غزل کے نمونے پیش کئے اور اپنی غزلوں میں عورت کے کرب اور مایوسیوں کو عبث سمجھ کر محبت کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں حقائق کو سامنے لانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔
تمہیں نے بھی توڑا ہے جب میرا دل
میں کیسے کسی پر بھروسہ کروں
فریدہ انجم کا شعری مجموعہ نویدِسحر یعنی صبح کی خوشخبری اردو زبان وادب کیلئے بے شک ایک انمول تحفہ ہے، ان کی شاعری میں برابر وہی خوشبو مہک رہی ہے جو خوشبو نسوانی آواز کی مشہور شاعرہ پروین شاکر کی غزلوں میں پائی جاتی ہے۔ جس طرح پروین شاکر کی غزلیں زندگی کے رنگوں اور تجربوں کے رس سے بھری ہوئی ہیں، اسی طرح فریدہ انجم کی غزلیں بھی زندگی کے رنگوں اور تجربوں کے رس سے بھری ہوئی ہیں یعنی ان کے کلام میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔فریدہ انجم نے ذاتی غم کے علاوہ روح عصر کے حالات اور غم کو بھی اپنی شاعری میں پیش کیا۔ وہ معاشرے میں عورت کے کرب کی صحیح نمائندگی کرنے والی شاعرہ ہے۔
مجھ سے ملنے میں کیا قباحت ہے
مجھ سے ایسی بھی کیا شکایت ہے
دیکھتے ہیں جو ہم وہی لکھیں
حق پہ چلنا بڑی مصیبت ہے
فریدہ انجم نے حالات وواقعات اور موقع محل کے مطابق شعر گوئی کی ہے، ایسی شعر گوئی اس زمانے میں ایسی شاعری کو بہت پسند کیا جارہا ہے۔ انہوں نے انسانی محبت کو اپنی شاعری کا محور بنایا ہے اور اسی محور کے ارد گرد گھوم رہی ہے ڈاکٹر گلزار احمد بٹ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ فریدہ انجم بنیادی طور پر ایک رومانی شاعرہ ہے ان کی طبیعت میں حددرجہ سادگی ہے انسان دوستی ان کی سرشت میں موجود ہے محبت اور خلوص کا مجسمہ ہیں بامروت اور بے غرض انسان ہیں‘‘۔فریدہ انجم کی شاعری میں نسوانی کردار کی پیش کش انجم کی انفرادیت کی عکاس ہے کیونکہ انہوں نے شاعری میں اپنی حقیقی ذات کو پیش کیا۔ انہوں نے وہی کچھ لکھا جو ان کی ذات ان سے لکھوا رہی تھی۔ انہوں نے ہوس کے اس دور میں حق و صداقت کا ساتھ دیا۔فریدہ انجم کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ شاعر جو کچھ اپنے کلام میں پیش کرتا ہے وہ انہیں جذبات کے تابع سوچ بھی رکھتا ہو۔آپ لکھتی ہیں کہ
زباں ترجمانی کرے کچھ بھی لیکن
بڑی معتبر ہے نظر کی گواہی
ترا نام لے کر ہی جیتی ہوں اب تک
تڑپتی ہوں جیسے کہ بے آب ماہی
فریدہ انجم کی شاعری میں روانی ہے ،جوش اور ولولہ انگیزی بھی ہے، مثبت سوچ رکھنے والی یہ شاعرہ ہمیں دکھانا چاہتی ہے کہ عصر حاضر کے اس پُر آشوب دور میں بھی ایک عورت بہت کچھ کرسکتی ہے۔ آپ کی شاعری میں زندگی کے پیچ وخم بھی ہیں مگر اپنی ہنر مندی سے انہوں نے ان پیچ وخم کو بھی زیر کیا ہے اور ان پیچ وخم کو رام کرنے کا راستہ دکھانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ فریدہ انجم کے اس شعری مجموعہ کا مطالعہ کرنے سے ان کے تخلیقی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے ۔آپ نہ صرف اعلیٰ صلاحیت اور اعلیٰ پایہ کی شاعرہ ہیں بلکہ آپ ایک محسن اور ہمدر دوست بھی ہیں۔
(رابطہ۔7006259067)
[email protected]