رمیش کیسر
نوشہرہ//سب ڈویژن نوشہرہ کے نونہال گاؤں میں پینے کے صاف پانی کی سپلائی بند ہونے کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گاؤں کے مکینوں نے شکایت کی ہے کہ گزشتہ کافی عرصے سے پانی کی فراہمی متاثر ہے جس کے باعث روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے، مگر اس کے باوجود متعلقہ محکمہ کی جانب سے مسئلہ حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا گیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گاؤں کے سینکڑوں افراد اس پانی کی اسکیم پر منحصر ہیں، لیکن سپلائی بند ہونے کے بعد انہیں دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑ رہا ہے۔
خواتین اور بزرگوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ انہیں گھریلو استعمال کے لیے پانی حاصل کرنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں۔مکینوں نے الزام عائد کیا کہ جل شکتی محکمہ اس مسئلے کے تئیں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور متعدد بار شکایات درج کرانے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جلد از جلد پانی کی سپلائی بحال نہ کی گئی تو انہیں احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔گاؤں کے نمائندوں اور معززین نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرے تاکہ پانی کی متاثرہ سپلائی کو جلد بحال کیا جا سکے اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو۔اس سلسلے میں جب جل شکتی محکمہ کے ایگزیکٹیو انجینئر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مسئلے کی اطلاع موصول ہو چکی ہے اور فوری کارروائی کے طور پر ایک جونیئر انجینئر کو گاؤں بھیجا جا رہا ہے تاکہ پانی کی سپلائی میں خلل کی وجوہات کا جائزہ لے کر اسے جلد از جلد بحال کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا۔