زاہد ابن نبی
ہمارا خالق اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے نازل کرنے والی وحی میں پڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کریم کی سب سے پہلے نازل ہونے والی اس آیت (اِقرأ) سے جہاں مغربی دنیا کا اسلام کے بارے میں جنگجویانہ اور بھیانک موقف کی نفی ہوتی ہے وہاں مطالعہ کی اہمیت اور قدر و قیمت بھی خوب آشکارا ہو جاتی ہے۔ اس آیت کے پیشِ نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مطالعہ یعنی پڑھنا ہمارا قومی مزاج ہوتا، ہمارے معاشرےمیں اسی کا چرچا ہوتا اور ہمارے نوجوانوں کا یہی رجحان ہوتا لیکن افسوس کہ ہم نے پڑھنے پڑھانے کے بجائے کھیل کود اور فضولیات کو اپنا مشغلہ بنادیا ہے۔مطالعہ کو علمی اور پڑھی لکھی دنیا میں وہ بلندمقامِ حاصل ہے جو شاید ہی کسی اور چیز کو حاصل ہو، اُردو میں ہم کتاب پڑھنے کو مطالعہ سے تعبیر کرتے ہیں جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے لیکن خود اہلِ عرب آج کل جدید عربی میں مطالعہ کے لئے (القرائۃ) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، یعنی ٹھیٹھ وہی لفظ جس سے اللہ ربّ العزت نے وحی کی ابتداء فرمائی۔ مطالعہ عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مطلب ہے کسی چیز سے واقف ہونے کے لئے اس کو مسلسل اور باریک بینی سے دیکھنا، اس لحاظ سے جس چیز کو بھی بغرض واقفیت غور سے دیکھا جائے، وہ مطالعہ کہلاتا ہے۔مطالعہ درحقیقت صاحبِ مطالعہ کو مختلف قسم کے عقائد ونظریات، افکار و خیالات، ثقافت وروایات، تجربات و مشاہدات، ملکوں، شہروں، بستیوں، آبادیوں، ویرانوں درختوں، پہاڑوں، دریاوں بلکہ پورے عالم کی سیر کراتا ہے۔ عربی کا ایک مشہور محاورہ ہے ’’زمانے کا بہترین دوست کتاب ہے‘‘ جس کو شورش مرحوم نے اس طرح کہا ہے: ’’کتاب سا مخلص دوست کوئی نہیں‘‘۔ اسی طرح ایک مفکر کہتا ہے: ’’کتابوں کا مطالعہ انسان کی شخصیت کو ارتقاء کی بلند منزلوں تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ، حصول علم ومعلومات کا وسیلہ اور عملی و تجرباتی سرمایہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے اور ذہن وفکر کو روشنی فراہم کرنے کا معروف ذریعہ ہے‘‘۔مطالعہ کا شخصیت سازی میں بھی بہت بڑا کردار ہے، مطالعہ بند ذہنوں کو کھولنے کی چابی ہے، طرح طرح کے علوم وفنون سے واقفیت کی کنجی ہے۔ مطالعہ کند ذہن کو ذہین اور ذہین کو ذہین ترین بناتا ہے، مطالعہ سے علم میں وسعت اور گہرائی پیدا ہوتی ہے، انسان فضولیات اور لغویات سے بچ جاتا ہے اور اس کا وقت قیمتی بن جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمومی طور پر مطالعہ انتہائی مفید ہوتا ہے لیکن جتنا یہ مفید ہوتا ہے اتنا یہ موثر بھی ہوتا ہے ۔علم ایک واحد نعمت ہے جو صرف انسان ذاتی شوق سے حاصل کرتا ہے ۔یہ علم ہی ہے جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز و منفرد بناتی ہے۔پرانے زمانے میں لوگ کتابوں کو بہت اہمیت دیتے تھے، اسی لیے و ہی کامیاب بھی ہوئے۔علوم و فنون،فنون لطفیہ یعنی کہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور ان سب کا حل سب کتابوں میں موجود ہوتا ہے۔پرانے زمانے کے لوگوں کے لیے کتاب ہی ُان کا سب کچھ ہوا کرتی تھی، وہ ان کی معلومات میں جہاں اضافہ کرتی وہاںاُنہیں جدید علوم سے بھی روشناس کرواتی رہی اور ساتھ ہی ساتھ ان کے لیے تفریخ کا بھی باعث بنتی تھی۔جوں جوں ترقی ہوتی گئی کتاب تکیوں کے نیچے سے نکل کر شلفوں کی زینت بنتی گئی اور آج تک لوگوں نے اسے شلفوں کی زینت بنا کہ رکھا ہوا ہے۔ گھروں میں اگر کتابیں موجود ہیں تو وہ بھی صرف میز کی خوبصورتی کے علاوہ استعمال نہیں کی جاتیں، کچھ لوگ کتاب پڑھنا چاہیں بھی تو کتاب اُن کی استطاعت سے باہر ہوتی ہے ۔لیکن حیرت کی بات ہے کہ لوگ مہنگے لباس تو خرید سکتے ہیں مگر معلومات اور علم میں اضافے کے لیے ایک کتاب نہیں خرید سکتے۔ ایک مہنگا اور خوبصورت لباس آپ کی ظاہری شخصیت تو ضرور نکھار سکتا ہے لیکن وہ آپ کے الفاظ کو شرینی نہیں بنا سکتا۔ سکندر اعظم سے لے کر بل گیٹس تک ہر کامیاب شخص نے آنے والی نسلوں کے لیے کتاب کا تحفہ بطور ورثہ چھوڑا ہے۔دنیا کا کوئی کامیاب شخص لے لیں اوراُسے چاہے دنیا کے کسی کونے سے لے لیں ،آپ دیکھیں گے کہ اُس کا اور کتاب کا کیسا ساتھ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ کامیاب ہوتا چلا گیا ہے۔جوں جوں زمانہ ترقی کرتا جا رہا ہے مطالعے کی جستجو ختم ہوتی چلی جا رہی ہے۔بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے سے پہلے مطالعے کی عادت ڈالی جاتی ہے، سکولز میں ایک مخصوص کردہ وقت پر بچوں کو لائبریری لے جایا جاتا ہے، بچے اپنی مرضی سے کتابیں پڑھتے ہیں ،یوںان میں مطالعے کا شوق بھی پروان چڑھتا ہے۔ یورپی اقوام میں کتابیں پڑھنا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے ،لیکن یہ وصف تو ہمارا تھا جسے ہم نے جانے انجانے میں چھوڑ دیا ہے، جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے جنگ کی ضرورت نہیں بلکہ علم سے دوری ہی کافی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ علم کبھی ہماری ترجیح رہا ہی نہیں ،ہماری لائبریروں میں پڑی کتابیں بھی افسوس کر رہی ہوں گئی ۔
گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
مفاد پرستی ہمیں کہیں اور کا سوچنے ہی نہیں دیتی، ہر شخص دولت کی ہوس میں گھیرا ہوا ہے اور اس حد تک گھیرا ہوا ہے کہ وہ سوائے اس کے یہاں سے اُسے کتنا منافع حاصل ہو گا وہاں سے کتنا اور کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتی ۔ہم جانوروں سے ممتاز صرف اسی وجہ سے ہیں کہ ہمیں اس دنیا میں آنے کا مقصد پتہ ہے۔سکندر اعظم نے کہا تھا’’میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا لیکن میرا اُستاد مجھے آسمان پر لے گیا‘‘۔وطن عزیز کی بات کریں تو یہاں جو شخص مطالعے کا شوقین نظر آئے ،تو اُسے کتابی کیڑا،مجنوں اور پاگل کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔کتابوں سے دوری کی ایک وجہ ناخواندگی بھی ہے۔ لوگ کتابوں کی اہمیت کو نہیں جانتے اور نہ ہی کبھی ان کا مقصد سمجھ پائے ہیں۔ کشمیر میں لائبریریاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔میرے خیال سے ہم کتابوں کے بغیر کسی چیز کا مقصد نہیں جان سکتے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کتابیں پڑھنے کے کیے لائبریری جانا پڑتا ہے اور یوں وہ کتابیں نہیں پڑھ سکتے، لیکن میری رائے ہے کہ کتاب تو کہیں بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہے۔ بس سٹاپ سے لے کر پارکس تک ہم کتاب پڑھ سکتے ہیں۔ قصہ المختصر اس قوم کو ضرورت ہے کہ کتابوں سے دوستی مضبوط کرے، علم سے محبت ہی ہمیں جہالت کی پستیوں سے نکال سکتی ہے۔
(ٹینگہ بل ،کولگام)
[email protected]>