فہیم حسین بٹ
جس ملک کے نوجوان خوشحال ہوں، وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، اور جہاں نوجوان خوشحال نہ ہوں، وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نوجوان قوم کا مستقبل ہیں، اور اگر قوم کا مستقبل روشن دیکھنا ہو تو اپنے نوجوانوں کی طرف خصوصی توجہ دینا ہوگی۔مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے نوجوانوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا،’’ابھی آپ ناواقف ہیں، آپ کو تجربہ نہیں ہے۔‘‘ ان کی آواز کو دبایا گیا اور ان کی رائے کے بغیر ان پر فیصلے مسلط کیے گئے، یہ سوچے بغیر کہ وہ خود کیا چاہتے ہیں۔
نوجوانوں میں بلند حوصلے اور انقلاب برپا کرنے کی امید ہوتی ہے۔ اگر کسی ملک میں کوئی نیا انقلاب آیا ہے تو اسے نوجوانوں نے ہی برپا کیا ہے۔ نوجوان نسل میں آگے بڑھنے، نئی راہیں تلاش کرنے اور قوم کو ترقی دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہوتی ہے، مگر افسوس کہ اکثر ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت نہیں دی جاتی۔
نوجوانوں کے کیریئر کا انتخاب اکثر والدین اپنی مرضی سے کرتے ہیں اور کھیل کود پر بھیغیر ضروری پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ مذہبی اور اخلاقی تعلیم سے بھی نوجوانوں کو دور رکھا جاتا ہے، حالانکہ بچے کی دلچسپی اور صلاحیت کو سب سے بہتر والدین ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل مختلف ذہنی پریشانیوں کا شکار ہو چکی ہے۔
ایک طرف نوجوان اپنے کیریئر کے حوالے سے پریشان ہیں تو دوسری طرف سماجی مسائل نے انہیں گھیر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ تعلیم سے بیزار ہونے لگتے ہیں اور بعض اوقات مختلف نشوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔دوسری جانب روزگار کی فکر بھی انہیں بے چین رکھتی ہے۔ انتھک محنت کے باوجود جب انہیں سرکاری یا نجی اداروں میں مناسب مواقع نہیں ملتے تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ مایوسی ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتی ہے، اور پھر بعض نوجوان ایسے غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں جن کے نتائج نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔جو نوجوان قوم کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ خود کو بھی نہیں بدل پاتے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں وقت پر صحیح رہنمائی نہیں ملتی۔ نوجوان نسل کچھ بھی کرنے کی ہمت رکھتی ہے، شرط صرف یہ ہے کہ انہیں بروقت درست رہنمائی اور اچھی تربیت فراہم کی جائے۔ ورنہ ہم گھاس کے بیج بو کر گندم کی فصل کی امید لگائے بیٹھے ہیں، جو کبھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ہم نوجوانوں کو اخلاقی تعلیم سے محروم رکھ کر صرف دنیاوی تعلیم کو فوقیت دیتے ہیں، اور پھر بڑھاپے میں شکایت کرتے ہیں کہ آج کل کی نوجوان نسل کسی کی ایک نہیں مانتی۔نوجوانوں کو نظر انداز کرنا اور ان کی صلاحیتوں پر شک کرنا درست رویّہ نہیں ہے۔ اس سے نوجوان نسل احساسِ کمتری اور خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اگر نوجوانوں کی باتوں کو اہمیت دی جائے اور انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ وقت دور نہیں، جب وہ اپنی قوم کو آسمان کی بلندیوں تک لے جائیں گے۔اگر ان کی غلطیوں پر رعب اور سختی کے بجائے مسکراہٹ، محبت اور حکمت کے ساتھ رہنمائی کی جائے تو وہ دل سے نصیحت قبول کریں گے۔ لیکن اگر ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کا ماحول قائم رکھا جائے تو وہ بے چینی، مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
رابطہ۔ 8492990417