پوچھا کسی نے حال تو آنسوں نکل گئے
کچھ بھی نہیں ہے پاس اب پیری کے گام پر
تھا پاس اپنے جو بھی کچھ حالات لے گئے
اِس دورِ ستم کوش میں محتاجِ کرم ہوں
اعصابِ جان تمام تر اب مفلوج ہوگئے
تھا سلف کا یہ قول رکھو اپنا خیال آپ
ہر گام پہ ذہن کو رکھیو بحال آپ
ہر فرد ہے پرایا رشتے کہاں سے پائیں گے
تنہاہ ہم آئے تھے تنہاہ ہی جائیں گے
اپنا خیال تھا کہ کروں میں سب کی بھلائی
ہو جنوری یا فروری یا پھر جون جولائی
ہم کو تو اپنے سلف کی پندونصائع تھی یاد
تازیست ہم کارِ نیک سے اس لئے رہے شاد
ہونے کو اب شتاب ہے زندگی کا اختتام
سر پہ سوار ہوگئی ہے اب زندگی کی شام
اتنا ہی اب حیات کے سورج کا تھا یہ کام
اس کو بھی ربؔ نے آخرش بخشا نہیں دوام
اعصابِ جان اِس کے بھی اب ماند پڑ گئے
اَے وائے ستم عذابِ جان یہ بھی کہہ گئے
بے کیفیٔ حیات کے نقشے بدل گئے
غم اِسقدر ملے کہ سب مُسرت میں ڈھل گئے
یوں گردش دوران کا مارا عُشاقؔ ہوں
پوچھا کسی نے حال تو آنسوں نکل گئے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
بچپن کی وہ دنیا
وہ اماں کی گودی اور لوری کے سائے
وہ ابّا کی انگلی کے محفوظ سہارے
نہ کل کی کوئی فکر، نہ غمِ جہاں تھا
ہر اک دن خوشی کا اک نیا کارواں تھا
وہ ننگے پاؤں گلیوں میں دوڑنا
پھٹی جیبوں سے خوشیاں نچوڑنا
وہ مٹی کے گھروندے بنا کر گرانا
کھلونوں کی خاطر وہ رونا، منانا
پرانے درختوں پہ جھولے لگانا
وہ بارش میں کشتی کا بہتے جانا
کبھی تتلیوں کے پیچھے بھٹکنا
کبھی چاند کو چھونے کی ضد میں مچلنا
وہ عیدوں کی رونق، وہ سکّوں کی جھنکار
وہ اسکول کی چھٹی، وہ یاروں کا پیار
مگر وقت کی دھول نے سب کچھ مٹایا
وہ سادہ سا بچپن کہیں کھو گیا
اب یادوں کے دریچوں میں ڈھونڈتے ہم
وہ ہنستا ہوا بچپن، وہ بیتا ہوا دم
وہ معصوم لمحے، وہ چاہت بھرا جہاں
وہ حسین سپنے، وہ بچپن کی گلیاں
محمد ایوبؔ گنائی
ٹیچر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، ترال
زندگی کی ادھوری کہانی
میں وہ صفحہ ہوں
جو وقت نے جلدی میں پلٹ دیا،
کہانی شروع تو ہوئی
مگر مکمل ہونے کا موقع نہ ملا۔
بچپن خواب تھا،
جوانی ذمہ داری بن گئی،
اور خواہشیں
کسی فائل میں ’’بند کرکے‘‘ رکھ دی گئیں۔
میں نے سب کے لئے مضبوط رہنا سیکھا،
مگر کسی نے یہ نہیں سوچا
کہ میری خاموشی بھی
مدد مانگ رہی تھی۔
جن راستوں پر میرا نام ہونا تھا،
وہاں مجھے قربان کیا گیا ،
تالیاں کسی اور کو ملیں،
اور تھکن میرے حصے میں آئی۔
میں رُکی نہیں،
بس بکھر کر چلتی رہی،
کیونکہ گرنے کی سوچ
میرے پاس کبھی تھی ہی نہیں۔
یہ کہانی ادھوری ہے
کیونکہ میں ابھی زندہ ہوں
اور شاید
میرا سب سے سچا باب
ابھی لکھا جانا باقی ہے۔
راشدہ یاسمین ہاسن
کرناٹک، موبائل نمبر؛9035972491
مکین بدل گئے
ڈیڈ ی
بڑی مدت کے بعد
آپکی بیٹی آپسے ملنے گئی تھی
وہاں باہر
نہ آپکا جوتا ملا
نہ ماں کی آواز
نہ بہنوں کے قہقہے
مین نے بنا دہلیز پار کئے
واپس قدم رکھا جب
دل نے کہا شاید
مین غلط پتہ پر آئی مگر
مکان تو وہی ہے
مکین بدل گئے
روحی جان
نوگام، سرینگر، کشمیر