تبصرہ
رافیعہ مُحی الدّین
محسن خان ایک مشہور و معروف فکشن نگار کی حیثیت سے ادبی دنیا میں ایک ممتازمقام رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق اتر پردیش کے مشہور شہر لکھنو سے ہے۔ لکھنو جس سے کہ نوابوں کے شہر کے نام سے پکارا جاتا ہے علم و ادب اور تہذیبی زاویئے سے زرخیز رہا ہے۔ محسن خان بھی تہذیب و تمدن کے اسی سمندر میں غوطہ زن ہو کر اپنے آپ کو نکھارنے میں کامیاب ہوگئے۔ اُن کا یہ نکھار ان کی ادبی زندگی میںمشعلِ راہ ثابت ہوا اور وہ ادبی دنیا اپنے لئے ایک اعلیٰ مقامی بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
محسن خان کا پہلا افسانوی مجموعہ ۱۹۹۳ ء میں ’’خواب کہانی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ’اس کے علاوہ ان کی تین کتابیں ’دوستی کا جشن‘ ،’منسا رام کا گدھا‘ ، اور’چینو خان‘ اتر پردیش اردو اکڈمی سے شائع ہوئے ہیں۔
’ساجھے کا گھونسلا ‘،’جامن والے بابا‘،’طوطو کہانی ‘اور’ انصاف ‘قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے شائع ہوئے ہیں۔
فکشن کے ساتھ ساتھ محسن خان نے ترجمہ نگاری پر بھی طبع آزمائی کی ہے جس کا اندازہ ان کی ترجمہ پر مبنی ایک کتاب ’ بلیسر بکری والا ‘ سے ہوتا ہے جو کہ سوریہ کانت تر پاٹھی کے ناول کا اردو ترجمہ ہے،جو نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا سے شائع ہوئی ہے۔
’’ اللہ میاں کا کارخانہ ‘‘محسن خان کا ایک نہایت ہی دلچسپ اور دلفریب ناول ہے۔ جس کی اشاعت انہوں نے ۲۰۲۱ء میں پہلی بار کی اور اب تک اس کے پانچ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس ناول میں ہمیں لکھنو کی تہذیب اور حالات و واقعات کی عکاسی ملتی ہے، خصوصامسلم سماج کی کشمکش اور جذبات کو مصنف نے منظر عام پر لانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔
ناول میں چھوٹے بڑے کردار نصرت ،جبران ،امی ، ولید،نسرین ، احمد ،رابعہ ،عابدچچا ، چاچا جان ،چچی جان، حافی جی ،کلو چاچا،دادی ماں ،رخسانہ خالہ، خالد ،عابد، اصغر چچا، نعمان ،امام صاحب، عارف،رام سیوک وغیرہ ہیں۔مگرپوری کہانی ایک معصوم بچے جبران کے گرد گھومتی ہے۔
یہ ناول ۲۴ عنوانوں پر مشتمل ہیں اور ہر ایک عنوان خوبصورت لفظوں میں سجایا گیاہے جسے قاری اندازہ لگا سکتا ہے کہ آنے والے باب میں کونسا واقعہ اب تفصیل سے بیان کیا ہواہوگا۔ناول کے ایک دو عنوان:
’’یہ دنیا اک تماشا گھر ہے ۔یہاں کوئی تماشا دکھا رہا ہے تو کوئی تماشا دیکھ رہا ہے‘‘
’’تم اپنی پتنگ کو اتنی ہی اونچائی تک لے جا سکتے ہو جتنی تمہارے پاس ڈور ہے ‘‘
ناول میں کئی دلچسپ واقعات بیان کئے گئے ہیں ،جنہیں قاری پڑھنے کے دوران کوئی بھی سستی محسوس نہیں کرتا ہے۔ سادہ اسلوب اورزبان و بیان کی رنگینی کی وجہ سے قاری کی دلچسپی بھی بڑھ جاتی ہے جس سے وہ ناول کو پورا پڑھکر ہی چھوڑدیتاہے۔ جبران کا تعلق گاوں کے ایک غریب گھرانے سے ہوتاہے۔ اس کا دل بھی عام بچوں کی طرح ارمانوں اور خوابوں سے بھراہوتا ہے جن کو پورا کرنے کے لئے وہ کہانی کے آخر تک ایک تڑپتی ہوئی مچھلی کی طرح کشمکش میں رہتا ہے۔ اپنی بے بسی کی وجہ سے وہ کہیں نہ کہیں ساری دنیا کو کوستا رہتا ہے۔
مصنف نے بچے کے دل کی پکار اور اس کی خالق کائنات سے گفتگو کو انداز سے قلمبند کیا ہے وہ قابل تعریف بھی ہے اور قابل توجہ بھی۔ جبران کے اپنے خالق سے شکوے اور سوالات اور اسکے بچہ گانہ انداز میں جواب طلبی قاری کو سنجیدہ ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ا تنا ہی نہیں یہ مکالمہ ایک خاص سماج کی الجھنوں اور پریشانیوں کی اور قاری کی توجہ مرکوز کرتا ہے۔جہاں پر ہزاروں گل کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتے ہیں اور سینکڑوں امیدوں کو برسات کی بھاڑ اپنے ساتھ بہا لیتی ہے۔
جبران اوراس کی بہن نصرت کے وہ معصوم سوال ، جبران کی شرارتیں اور وہ معصومانہ لہجے کے پیچھے چھپے ہوئے مسائل پڑھنے والے کے ہوش و حواس کو قید کرلیتے ہیں اور قاری پڑھتے پڑھتے خود بچپن میں کھوجاتا ہے۔اس طرح یہ ناول قاری کے لئے کیتھارسس کا کام کرتا ہے۔ جیسے کہ ان سطور میں عیاں ہے؛
’’آج تو اسے اپنے چوزے کے مرنے کا کوئی غم ہی نہیں ہوا ۔نصرت نے کہا:وہ کوئی اس کے اپنے انڈے تھوڑے ہی تھے جو اسے غم ہوتا ، یہ تو اس کے سوتیلے چوزے ہیں ۔ ‘‘
(ناول’’اللہ میاں کا خارخانہ ‘‘ صفحہ نمبر ۱۰۴)
نصرت اور جبران اپنی زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں اور مسائل سے کس حد تک مقابلہ کرسکتے ہے ۔یتیم ہونے کے بعد جبران مدرسہ جانا بھی چھوڑدیتا ہے اور معصوم اور ذہین بچی نصرت کم عمری میں ہی چچا کے گھر میں رہ کے گھر کے کام کاج کرنے لگتی ہے ۔ اور اس طرح پھول کھلنے سے پہلے ہی سکڑ جاتے ہیں، نسلیں ضائع ہورہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ناول نگار کو بچوں کی نفسیات کے ساتھ ساتھ سماجی حالات پر بھی گہری نظر ہے ۔
محسن خان نے اپنی فنکارانہ صلاحیت سے ایک بچے کے اندر چھپے جذبات کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے ۔ کیونکہ مصنف نے ناول کو صرف کہانی تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ سماج کی اور پوری تہذیب کی عکاسی کرتے ہوئے پڑھنے والے کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری کوجبران اور ناول کے چھوٹے بڑے سبھی کرداروں سے ملنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
سماج کی بے کسی اور غریبی کے حالات کو منظر عام پر لانے کے لئے مصنف نے جو انداز اختیار کیا ہے وہ قاری کے ضمیر کو چیرتا ہوا اس کے حواس خمسہ میں ایک بھونچال سا بر پا کرتا ہے ۔ ان کا یہ انداز قابل تعریف بھی ہے اورلمحہ فکریہ بھی ۔جیسے کہ جبران کی خواہشوں اور ان کی منزل میں رکاوٹوں کا پہاڑ انسان کی امیدوں کی دنیا میں دھندلاہٹ پیدا کرتا ہے ،بے چارہ جبران زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لئے تڑپتا ہے ۔ وہ پتنگ اُڑانے کا شوقین ہوتا ہے ۔ لیکن پتنگ ندارد ۔۔۔۔
ایک بار اس کا بچپنا اس پر حاوی ہوتا ہے اور وہ پتنگ خریدنے کے چکر میں حافی جی کی چوّنی بھی چوری کرتا ہے اور چوّنی کو چھپاتا بھی کہاں ؟موزے میں!!!!محسن خان بچے کی بے بسی کا اظہار کچھ اس طرح کرتے ہیں :
’’حافی جی نے میری بانہہ پکڑی اور اتنی تیزی سے کلوچاچا کی دکان کی طرف چلنے لگے کہ مجھے ان کے ساتھ دوڑنا پڑا۔ دوڑنے کی وجہ سے موزے میں رکھی ہوئی چوّنی میرے ٹخنے سے کھٹ کھٹ لڑرہی تھی جس کی وجہ سے تکلیف ہورہی تھی۔ ‘‘
(ناول’’اللہ میاں کا کارخانہ ‘‘ صفحہ نمبر۳۱ )
ناول نگار نے بچے کے جذباتی زاویے کو نظر انداز نہ کرتے ہوئے اس کی ذہنی الجھنوں اور کشمکش کو ایک دلکش انداز میں قید کیا ہے تاکہ ایک کم سن کی بے بسی کا حال قاری تک پہنچ پائے ۔ بچے کے چھپے جذبات کو مصنف نے ایک عمدہ طریقے میں بیان کیاہے۔
جبران کے اندر دبے خیالات ، بچگانہ شرارتوں اور معصومیت ایک آئینے کی طرح صاف نظر آرہے ہیں ۔ اور ساتھ ہی جبران کی شرارتیں پڑھنے سے قاری جتنا لطف اٹھاتا ہے ٹھیک اسی طرح سوچنے پر بھی مجبور ہوجاتا ہے ۔
ناول’ اللہ میاں کا کارخانہ ‘سماج کے اس گوشے کی عکاسی کرتا ہے جس کو انسان ہمیشہ نظر انداز کرتا ہے۔اور اس کا خمیازہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے ۔ لیکن یہ ناول زندگی کے ایک آئینے کی حیثیت سے ابھر کر آیا ہے جس میں قاری کہیں نہ کہیں اپنی ایک واضح جھلک دیکھتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ خود کو اس کے ساتھ منسلک بھی کرتا ہے۔
ناول کا انتساب بھی محسن خان نے ان بچوں کے نام کیا ہے جن کی انگلیوں پر خوش رنگ تتلیاں اپنے پروں کے رنگ چھوڑ کر فضاوں میں گم ہوگئیں ۔
ناول میں ایک اور خاص بات جو مصنف نے بڑی شیفتگی کے ساتھ بیان کی ہے وہ مذہبی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی کیفیت، جسے ناول نگار نے اسے عام قارئین تک پہچانے میں بے حد کوشش کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب میں لکھی گئی کہانی نہ صرف ایک معصوم بچے کی حالات و واقعات پر مبنی ہے بلکہ یہ ناول سماج میں جڑے مختلف مسئلے مسائل پر بھی اظہار خیال کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
ناول کا آغاز بھی اللہ میاں کے نام سے ہی شروع ہوتا ہے اور اللہ میاں کے نام سے ہی اس کا اختتام بھی ہوتا ہے ۔ ناول کا اختتام کچھ اس طرح ہوتا ہے،
’’تم چاہے جتنی کوششیں کرلو ہوگا وہی جو اللہ میاں چاہیں گے۔ ‘‘
الغرض بچوں کے دبے ارمانوں کے تئیں سماج کی بے توجہی اور ایک قوم کی اور لاپرواہی کو سمجھنے کے لئے ’’ اللہ میاں کا کارخانہ ‘‘ ایک کامیاب اور ضخیم ناول ہے۔
���
برنٹی اننت ناگ کشمیر