ایجنسیز
ابوجا (نائجیریا)//نائجیریا کی فوج اور مقامی حکام کے مطابق شمالی نائجیریا میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے تین الگ الگ حملوں میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے۔ہفتہ کے روز مسلح افراد نے نائجیریا کی وسطی ریاست کے گویر ویسٹ علاقے میں واقع مبالوم کمیونٹی پر حملہ کیا، جس میں کم از کم 17 افراد مارے گئے۔بینوی ریاست کے گورنر علیاحسینتھ نے اتوار کو حملوں کی تصدیق کی، تاہم ہلاکتوں کی درست تعداد نہیں بتائی۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق 17 افراد جان بحق ہوئے۔اس نوعیت کے حملے شمالی وسطی نائجیریا میں طویل عرصے سے جاری تشدد کا حصہ ہیں، جہاں زیادہ تر مسلمان فلانی چرواہوں اور عیسائی کسان برادریوں کے درمیان زمین اور چرائی کے تنازعات اکثر خونی جھڑپوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جرائم پیشہ گروہ بھی سرگرم ہیں۔کمیونٹی کے ایک رہائشی ترہانا سیمسن نے ان حملوں کو “تباہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا:’’بارشوں کا موسم آنے والا ہے اور لوگ کھیتی باڑی کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں، اب وہ یہ سب کیسے کریں گے؟‘‘ایک علیحدہ حملے میں ہفتہ کی صبح ملک کے شمال مشرقی علاقے کی ریاست میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا گیا، جہاں طویل فائرنگ کے تبادلے کے بعد شدت پسند تنظیم اسلامک سٹیٹ سے منسلک گروہ کے ساتھ جھڑپ میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے، یہ بات بورنو پولیس کے ترجمان کینتھ داسو نے بتائی۔اتوار کے روز ریاست کڈونا کے گاؤں اریکو میں ایسٹر کی عبادت کے دوران مسلح افراد نے حملہ کر کے پانچ افراد کو قتل کر دیا، فوج کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔فوج نے بتایا کہ امدادی کال ملنے پر سکیورٹی فورسز کے پہنچنے کے بعد حملہ آور 31 افراد کو اغوا کرنے کی کوشش چھوڑ کر فرار ہو گئے۔فوج نے کہا،’’افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پانچ افراد کی لاشیں بھی موقع سے برآمد ہوئیں جنہیں دہشت گرد پہلے ہی قتل کر چکے تھے‘‘۔”فرار ہونے والے دہشت گردوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے، جیسا کہ ان کے فرار کے راستوں پر خون کے نشانات سے ظاہر ہوتا ہے۔ریاست کادونا میں گرجا گھروں پر حملے اور اغوا کی وارداتیں مسلسل جاری ہیں۔ جنوری میں کجورو علاقے کے گاؤں کرمن والی سے 150 سے زائد نمازیوں کو اغوا کیا گیا تھا، جو اتوار کے حملے کی جگہ سے تقریباً 60 کلومیٹر دور ہے۔گرجا گھروں پر اس طرح کے حملوں کے بعدڈونالڈٹرمپ اور بعض امریکی قانون سازوں نے عیسائیوں کے خلاف مبینہ ظلم و ستم کے الزامات عائد کیے، جنہیں نائجیریا کی حکومت نے مسترد کر دیا۔امریکی حکومت نے 25 دسمبر کوسکوتاسٹیٹ میں عسکری کارروائیاں بھی کیں، جن کا ہدف مبینہ طور پر دولتِ اسلامیہ سے وابستہ گروہ تھا۔نائجیریا کی حکومت نے ملک میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی بحران کو عیسائی نسل کشی قرار دینے کو مسترد کر دیا ہے۔