عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمارچودھری نے راجوری کے سیلاب سے متاثرہ علاقے بیلا کا دورہ کرکے حالیہ سیلاب کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لیا۔دورے کے دوران اْنہوں نے موقعہ پر تعینات اَفسران اور فیلڈ عملے سے بات چیت کی اور ہدایت دی کہ تباہ شدہ سڑکوں کی صفائی، ضروری عوامی خدمات کی بحالی اور دیگر بحالی کاموں میں تیزی لائی جائے تاکہ جلد اَز جلد معمول کی صورتحال بحال ہوسکے۔بعدمیں نائب وزیر اعلیٰ نے راجوری میں ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں حالیہ سیلاب کے بعد بحالی کے کاموں اور ایمرجنسی رسپانس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اْنہوں نے تمام متعلقہ محکموں کی تیاریوں اور کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ ضروری خدمات کی جلد بحالی اور متاثرہ لوگوں کو مؤثر اِمداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔میٹنگ کے شروعات میں بتایا گیا کہ ضلعی اِنتظامیہ اور تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ریسکو، اِمداد اور بحالی کے کام جنگی بنیادوں انجام دے رہی ہے۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے واقعے میں اِبتدائی طور پر چار اَفراد لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے تین کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ باقی ایک لاپتہ شخص کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ایس ڈِی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس،اِنڈین آرمی اور دیگر محکموں پر مشتمل کثیرالجہتی ریسکو آپریشنز قریبی تال میل جاری ہے جبکہ اِنتظامیہ متاثرہ اَفراد کی حفاظت و بہبود کے لئے چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہے۔نائب وزیراعلیٰ نے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا جائزہ لیتے ہوئے بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کو ہدایت دی کہ قومی شاہراہ این ایچ۔144اے پر مناسب نکاسی آب کو یقینی بنایا جائے اور جہاں سڑکوں کی تعمیر و مرمت میں تاخیر ہو رہی ہے وہاں کام میں تیزی لائی جائے۔ اْنہوں نے کہا کہ مستقبل میں نقصان سے بچنے کے لئے سائنسی بنیادوں پر نکاسی آب کا نظام ناگزیر ہے۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ سیلاب سے پی ایم جی ایس وائی کی 157 سڑکیں متاثر ہوئی ہیں۔ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی)، پی ایم جی ایس وائی اور بی آر او کے اَفسران کو ترجیحی بنیادوں پر رابطہ بحال کرنے اور تمام متاثرہ عوامی انفراسٹرکچر کی جلد از جلد مرمت کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔محکمہ جل شکتی کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران نے بتایا کہ کہ 131 واٹر سپلائی سکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔ معمول کی فراہمی بحال ہونے تک متاثرہ علاقوں میں واٹر ٹینکروں کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ متاثر ہوئے 150 بجلی فیڈروں میں سے 120 بحال کئے جا چکے ہیں جبکہ باقی 30 فیڈرز کو بھی شام تک فعال کیا جائے گا۔سریندر کمار چودھری نے ضروری اشیائے کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا اور محکمہ خوراک، شہری رسدات و امور صارفین کو ہدایت دی کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی کسی بھی کوشش کو روکا جائے۔ اْنہوں نے بالخصوص پھنسے ہوئے مزدوروں اور کمزور طبقوں کے لئے راشن اور دیگر ضروری اشیا کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ میٹنگ کو بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں خشک راشن کِٹس اور پیکڈ فوڈ تقسیم کیا جا رہا ہے۔میٹنگ کو مزید جانکار ی دی گئی کہ محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول کی 76 سکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ نے محکمہ کو ہدایت دی کہ بیلا علاقے کے لئے سیلاب سے تحفظ کے جامع منصوبے کی تیاری عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔اْنہوں نے ڈیفیکٹ لائبلٹی مدت کے اندر سڑکوں کی مرمت میں تاخیر کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت دی کہ جو ٹھیکیدار اَپنی ٹھیکیداری کی ذِمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ان کی نشاندہی کرکے انہیں قواعد کے مطابق بلیک لسٹ کیا جائے۔نائب وزیراعلیٰ نے زراعت، باغبانی، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ہوئے نقصانات کے تخمینے کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ شفاف اور جامع سروے مکمل کریں تاکہ ریلیف اور بحالی کے اَقدامات کو بلا تاخیر عمل میں لایا جا سکے۔اْنہوں نے ضلع اِنتظامیہ اور تمام ریسکو ایجنسیوں کی بروقت کارروائیوں کو سراہتے ہوئے افسران اور فیلڈ ٹیموں کی خدمات کی سراہنا کی اور تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی تال میل برقرار رکھتے ہوئے معمولاتِ زندگی کی جلد بحالی اور متاثرہ لوگوںکی مؤثر بازآبادکاری کو یقینی بنائیں۔