سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری میں محکمہ صحت کے ملازمین نے جاری احتجاج دوسرے دن ہی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ عوامی نمائندوں کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں کے بعد لیا گیا۔ملازمین کا یہ احتجاج دراصل گزشتہ ماہ شروع ہوا تھا جسے بعد میں عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا، تاہم محکمہ خزانہ جموں و کشمیر کی جانب سے جاری ایک حکم کے خلاف ملازمین نے ایک بار پھر احتجاج شروع کر دیا تھا۔ مذکورہ حکم کے تحت صحت ملازمین کو ہر ماہ دی جانے والی اضافی ڈھائی دن کی تنخواہ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔احتجاج کرنے والے ملازمین نے اس فیصلے پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اضافی تنخواہ انہیں دن رات خدمات انجام دینے کے عوض دی جاتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل اور مشکل حالات میں عوام کی خدمت انجام دیتے ہیں، اس لئے اس سہولت کو واپس لینا ناانصافی ہے۔
ملازمین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس اضافی تنخواہ کو بحال کیا جائے۔احتجاج کے دوسرے دن راجوری کے رکن اسمبلی افتخار احمد احتجاجی مقام پر پہنچے اور ملازمین سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے ملازمین کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا، خاص طور پر آنے والے اسمبلی اجلاس میں اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر پیش کیا جائے گا۔ایم ایل اے کی یقین دہانی کے بعد ملازمین نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔اس سے قبل تھنہ منڈی کے رکن اسمبلی مظفر اقبال خان بھی احتجاج میں شریک ہوئے تھے اور انہوں نے ملازمین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اس معاملے کو حکومت کے سامنے بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔مقامی حلقوں میں اس پیش رفت کو مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ملازمین کو اب حکومت کی جانب سے عملی اقدامات کا انتظار ہے۔