جموں//آر ایس پورہ میں پاک بھارت سرحد کے ساتھ گھرا نہ آبی پناہ گاہ پنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ آبی پناہ گاہ مسلسل سکڑ رہی ہے اور مسلسل ناجائز قبضہ اور مٹی بھرآنے سے اس کا وجود دائو پر لگا ہوا ہے۔کسی زمانے میں 1600کنال اراضی پرپھیلی اس پناہ گاہ کو1981میں نوٹیفائی کیاگیاتھا تاہم مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ محکمہ اس آبی پناہ گاہ کے تحفظ میں ناکام رہا ہے جس کی دیکھ بال ابتدائی ایام میںپنچایتوں نے کی تھی۔ایک مقامی باشندے نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ ’’حوض کی حالت انتہائی خراب ہے۔ گھروں اورمویشیوں کا فضلہ مبینہ طور پر آبی ذخیرے میں جاتا ہے اور اس کی وجہ سے کیچڑ نے اس میں مزید کمی کردی ہے‘‘۔اگرچہ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ ان پرندوں کی وجہ سے ان کی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت کے ذریعہ اس جگہ کو پائیدار طریقے سے فروغ دیا جائے تو یہ آبی پناہ گاہ ان کی کمائی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔مقامی نوجوانوں نے الزام لگایا’’جموں و کشمیر اور باہر سے لوگ سچیت گڑھ بین الاقوامی سرحد دیکھنے کے لئے آتے ہیں اور بہت سارے سیاح یہاں بھی آتے ہیںتاہم یہ مایوس کن ہے کہ ایک تنگ سڑک انہیں گھرا نہ پہنچاتی ہے جہاں محکمہ کے دفتر کے علاوہ پارکنگ کی سہولت اور بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے جبکہ صفائی ستھرائی کا خدا ہی حافظ ہے‘‘۔ جموں شہر سے 35 کلومیٹر دور واقع گھرانہ آبی پناہ گاہ میں ہر سال 15نومبر سے مارچ کے اختتام تک مہاجر پرندے وسطی ایشیائی ممالک، منگولیا ، چین ، سائبیریا اور دیگر ممالک سے ہمالیہ کو عبور کرنے آتے ہیں۔اس کے علاوہ ، بار سر والے جیس ، مہاجر پرندے جیسے جامنی دلدل مرغیاں ، کالی پنکھوں والی پٹیاں ، گیڈوالو ، ایوریٹس اور بہت ساری دیگر اقسام کے پرندے تین چار ماہ تک گھرانہ میں رہتے ہیں۔اس مدت کے دوران مقامی کسانوں اور پرندوں کا تنازعہ شروع ہوتاہے لیکن خوش قسمتی سے پرندوں کے شکار کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ یہ 150 سے زیادہ پرندوں کی مختلف انواع کا گھر ہے اور ہر موسم سرما میں ہزاروں مہاجر پرندے یہاں آتے ہیں۔گھرانہ کے سرپنچ گردیال سنگھ ماجوترا نے کہا’’گھرانہ گاؤں 1947 سے پہلیکا ہے۔ ابتدائی طور پر 1952 سے 2000 تک پنچایتوں نے اس کی دیکھ بھال کی اور آبی ذخیرے کا رقبہ بہت بڑا تھا۔ تاہم متعلقہ محکمہ کی تحویل میں آنے کے بعد یہ آبی پناہ گاہ تجاوزات اور گندگی کی وجہ سے کچھ کنال تک محدود ہوکر رہ گئی۔ اس کی حفاظت کے لئے ابھی تک کوئی مناسب کام نہیں اٹھایا گیا ہے‘‘۔ماجوترا نے مزید بتایا’’آبی پناہ گاہ کی بے ہنگم انداز میں تحفظ کاری کا بیڑہ اٹھایاگیا اور اس کیلئے 408 کنال کی حد بندی کی گئی تاہم مقامی لوگوں نے انھیں دیئے جانے والے معاوضے کی مخالفت کی ہے اور یہ دعوی کیا ہے کہ یہ بہت کم ہے۔ وہ کسی اور مناسب جگہ پر زرعی اراضی کے بدلے زرعی اراضی کا مطالبہ کرتے ہیں یا مارکیٹ ریٹ کے برابر معاوضہ چاہتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ دیہاتیوں کو بھی فصل کا معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔وائلڈ لائف وارڈن ، گھرانہ ویٹ لینڈ ، انیل اتری نے اس ضمن میں کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا ’’کچھ رضاکار تنظمیں گھرانہ آبی پناہ گاہ مسئلہ کو لیکر ہائی کورٹ گئی تھیں۔ہائیکورٹ کی ہدایت پر ویٹ لینڈکی بحالی منصوبے کو فوری طور پر شروع کرنے کے لئے 408 کنال کی حد بندی کی گئی تھی‘‘۔ان کا مزید کہناتھا’’ہمارے محکمہ نے محکمہ مال کو متاثرین کومعاوضے کی ادائیگی کے لئے رقوم دی ہوئی ہیںتاکہ اسے اُن کسانوں میں تقسیم کیاجاسکے جن کی زمینیں توسیعی منصوبہ کی زد میں آئی ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا: "ہم زمین لینے کے بعد ویٹ لینڈ کے تحفظ کے لئے اگلے پانچ برسوں کے لئے ایک انتظامی منصوبہ نافذ کریں گے۔ اگرچہ ہم وقتا فوقتاًخودرو گھاس نکال لیتے ہیں تاہم ویٹ لینڈ کے لئے اضافی اراضی کو فوری طور پر حفاظتی اقدامات کے لئے استعمال کیا جائے گا جیسے توسیع ، پرندوں کے چرنے کے مقامات ، باڑ لگانا ، کوڑے کا انتظام ، دیہاتیوں کے لئے بائیو گیس پلانٹ ، مقامی کچراکو ویٹ لینڈ سے دورلیجاناشامل ہے جبکہ ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اس طرح کے دیگر اقداما ت بھی اٹھائے جائیں گے‘‘۔