عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مسلسل خراب موسمی حالات، موسلادھار بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ، سیلابی ریلوں اور دیگر قدرتی آفات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع، مال و جائیداد اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ، گریز، کرناہ، کرگل، کوکرناگ، ٹنگمرگ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ہونے والی تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بچائو اور راحت رسانی کی کارروائیاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں اور ضروری ہے کہ یہ عمل مزید تیز کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد، عارضی رہائش، بنیادی سہولیات اور طبی امداد فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ نقصانات کا جامع تخمینہ لگاکر متاثرین کو مناسب مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی معمول کی زندگی کی جانب جلد از جلد لوٹ سکیں۔فاروق عبداللہ نے شہر سرینگر میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بارش کے پانی سے متاثر ہونے والے دکانداروں، گھریلو خاندانوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں مناسب مالی معاوضہ اور امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے دوران شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال نے ڈرینج نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، اس لئے سمارٹ سٹی منصوبے کے تحت شہر سرینگر کے ڈرینج سسٹم کو ناکارہ بنانے کے ذمہ دار عناصر کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بدانتظامی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔