سمت بھارگو
راجوری//تاریخی مغل روڈ کو سال بھر کھلا رکھنے کا دیرینہ مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ تھنہ منڈی اور اس سے ملحقہ علاقوں کے عوام، سماجی کارکنوں اور عوامی نمائندوں نے جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری انتظامیہ اور مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس اہم شاہراہ کو ہر موسم میں آمدورفت کے قابل بنانے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ خطے کے لوگوں کو مستقل راحت میسر آ سکے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مغل روڈ محض ایک متبادل راستہ نہیں بلکہ کشمیر وادی کو راجوری۔پونچھ خطے سے پیر پنجال پہاڑی سلسلے کے ذریعے جوڑنے والی ایک اہم سماجی، معاشی اور تاریخی شاہ رگ ہے۔ مغل دور میں تعمیر کی گئی یہ سڑک آج بھی اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے، مگر ہر سال شدید برف باری کے باعث کئی مہینوں تک بند رہتی ہے، جس کی وجہ سے تھنہ منڈی، سرنکوٹ، پونچھ، راجوری اور اطراف کے علاقوں کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ مغل روڈ کی طویل بندش سے نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ تجارت، سیاحت اور کاروباری سرگرمیاں بھی ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ عام شہریوں کو متبادل طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ عوامی نمائندوں کے مطابق اس صورتحال کے باعث علاقائی ترقی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اہم مہینوں میں وسیع علاقے باقی خطوں سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔مقامی باشندوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے جواہر ٹنل اور بانیہال ٹنل جیسے اسٹریٹجک منصوبوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر مغل روڈ کو ایک آل ویدر کوریڈور کے طور پر ترقی دی جائے، خواہ وہ سرنگ (ٹنل) کی تعمیر کے ذریعے ہو یا جدید اور مضبوط برف ہٹانے کے نظام کے قیام سے، تو یہ پورے پیر پنجال خطے کی معاشی تصویر بدل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا منصوبہ نہ صرف سفر کو محفوظ بنائے گا بلکہ خطے کی مجموعی ترقی کو بھی نئی رفتار دے گا۔مغل روڈ کی بندش کے باعث بنیادی خدمات پر پڑنے والے منفی اثرات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سردیوں کے دوران صحت کی سہولیات، ایمرجنسی خدمات اور تعلیمی اداروں تک رسائی انتہائی دشوار ہو جاتی ہے۔ مریضوں کو علاج کے لیے طویل اور خطرناک راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں، جبکہ طلبہ کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔ کئی خاندانوں کو شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔علاقہ مکینوں نے اجتماعی طور پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مغل روڈ کو قومی اہمیت کی شاہراہ قرار دیا جائے اور اس کے لیے مخصوص بجٹ اور وسائل مختص کیے جائیں تاکہ ایک مستقل اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔ عوام کا ماننا ہے کہ سال بھر رابطہ بحال رہنے سے نہ صرف کشمیر وادی اور پیر پنجال خطے کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہوگی بلکہ سیاحت کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور برسوں سے درپیش عوامی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔