عظمیٰ نیوزسروس
امپھال// مرکز نے بدھ کے روز منی پور سے صدر راج ہٹانے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔منی پور میں 13 فروری 2025 کو صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔وزارت داخلہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، صدر جمہوریہ نے ریاست سے صدر راج ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ 4 فروری 2026 سے نافذ ہوگا۔بی جے پی کے رکنِ اسمبلی یومنم کھیم چند سنگھ نے بدھ کے روز منی پور کے 13ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ یہ پیش رفت بی جے پی رہنما این بیرین سنگھ کے استعفے اور ریاست میں میتیئی اور کوکی برادریوں کے درمیان طویل نسلی تشدد کے بعد تقریباً ایک سال بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں منی پور میں صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔62سالہ کھیم چند سنگھ کو گورنر اجے کمار بھلا نے لوک بھون میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ یہ تقریب صدر راج کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد منعقد ہوئی، جس سے تشدد سے متاثرہ ریاست میں جمہوری حکومت کی بحالی ہوئی۔بی جے پی کی رکنِ اسمبلی نمچا کِپگن، جو کوکی برادری سے تعلق رکھتی ہیں، اور ناگا پیپلز فرنٹ کے رکنِ اسمبلی ایل ڈِکھو نے منی پور کے نائب وزرائے اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔نئی حکومت کی تشکیل ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب نسلی کشیدگی سے متاثرہ ریاست معمول کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کھیم چند سنگھ اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ وہ منی پور کے میرے بھائیوں اور بہنوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پوری تندہی سے کام کریں گے۔‘‘حلف برداری کے بعد لوک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کھیم چند سنگھ نے کہا کہ منی پور میں 36 برادریاں آباد ہیں اور ریاست طویل عرصے سے سب کے اشتراک سے چلتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اب ہماری امید ہے کہ سب مل کر پرامن ماحول قائم کرنے میں مدد کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مجھ پر اعتماد کیا ہے، اور میں اس اعتماد کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں‘‘۔بی جے پی کے گوونداس کونتھوجم اور نیشنل پیپلز پارٹی کے کے لوکن سنگھ نے وزراء کے طور پر حلف اٹھایا، جبکہ نمچا کِپگن نے نئی دہلی میں منی پور بھون سے ورچوئل طور پر حلف لیا۔