منشیات کے عادی69فیصد نوجوانوں کی اوسط عمر 18سے 22کے درمیان

سرینگر//وادی میں منشیات کی لت میں مبتلا قریب50فیصد بچوں کے والدین نیم تعلیم یافتہ یانا خواندہ ہیں۔ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس زہر میں مبتلا سرکاری ملازمین اورتجارت پیشہ افراد کے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ وادی میں منشیات کے زہر کے قہر نے جہاں نوجوان نسل کو ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ،وہیں یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کی لت میں مبتلا بیشتر نوجوانوں کے والدین نیم خواندہ ہیں۔ ’’کشمیر میں منشیات کی لت پر مبنی علمی تجزیہ‘‘ رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ اس لت میں مبتلا نوجوانوں میں سے30.5فیصد کے والد بالکل ان پڑھ ہیں،جبکہ55فیصد منشیات کے عادی نوجوانوں کی مائیں بھی نا خواندہ ہیں۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 19.5فیصد کے والد اور14.5فیصد کی مائیں میٹرک پاس ہیں۔اس زمرے میں11.5فیصد منشیات کے عادی نوجوانوں کے والداور5.5فیصد کی مائیں گریجویٹ ہیں۔ تحقیق کے مطابق منشیات عادی نوجوانوں میں6.5 فیصدپوسٹ گریجویٹ،جبکہ8.5فیصد کی مائیں بارہویں تک تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔ رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ اس زہر میں مبتلا نوجوانوں میں سے37.5فیصد نوجوانوں کے والد سرکاری ملازمین ہیں،جبکہ35.5فیصد نوجوانوں کے والد یا تو تجارت کرتے ہیں،یا نجی روزگار سے وابستہ ہیں۔9.5فیصد نوجوانوں کے والد پرائیوٹ ملازمت میں ہے،جبکہ9فیصد نوجوانوں کے والد زراعت پر منحصر ہیں اور8.5فیصد نوجوانوں کے والد کوئی بھی کام نہیں کرتے۔ تحقیقی رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ وادی میں منشیات کی لت میں مبتلا نوجوانوں کی10.5فیصد مائیں سرکاری ملازمت کرتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق3فیصد مائیں بے روزگار اور ایک فیصد سے بھی کم پرائیوٹ نوکری،نجی روزگار اور تجارت پیشہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق69فیصد نشہ کرنے والے لوگ12ویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہیں،جبکہ20فیصد گریجویٹ ہیں۔تحقیق کے مطابق35فیصد طلاب ہیں۔ مجموعی طور پر98.5فیصد مرد اور1.5فیصد خواتین منشیات کی لت میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منشیات میں مبتلا لوگوں میں سے71فیصد غیر شادی شدہ اور29فیصد شادی شد ہیں۔