موجودہ دنیا کو ایک خطرناک اور تباہ کن مسٔلہ در پیش ہے وہ ہے منشیات کی کھپت ۔ اگر چہ اور بھی گھمبیر مسائل ایسے ہیں جو بہت ہی مہلک ہیں لیکن منشیات نے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں بری طرح لے لیا ہے ۔ آج کی دنیا میں منشیات کی کثرت ہے اور اس کثرت کی وجہ سے نوجوانوں کی اکثریت تباہ اور برباد ہورہی ہے ۔ دنیا بھر میںنئی نسل بڑی تیزی سے منشیات کی طرح راغب ہورہی ہے بلکہ دن بدن ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ نشہ آور چیزوں کی قسم اور کوالٹی الگ الگ بکتی ہے ۔آج کل سرفہرست رفیون اور اس سے بنائی جانے والی چیزیں ہیں ۔ اپنے آپ کو ترقی یافتہ ممالک کہنے والے بھی اس زہر سے بچ نہیں پاتے ہیں ۔ لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہونے سے پہلے ہی منشیات کی عادی ہوجاتے ہیں اور پھر ان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے ۔ حضرت ابو مالک اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پئیں گے ان کے پاس گانے والیوں کا اجتماع ہوگا ۔ مزا میر( آلات موسیقی) سنتے ہوں گے ۔ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور(انسانوں کو) سور و بندر کی شکل میں مسخ کر دے گا ۔ حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولﷺنے فرمایا اگر کسی نے دنیا کو نشہ کی حالت میں چھوڑا تو وہ قبر میں بھی مدہوش رہے گا اور اس حشر بھی نشہ کی حالت میں ہوگا ۔ پھر اس کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا ۔ جہنم میں ایک نہر ہے جس میں پیپ اور لہو بہتا ہے اس نہر سے اس شخص کو کھولتا ہوا لہو پلایا جاتا رہے گا ، جب تک آسمان و زمین کا وجود باقی ہے (یعنی مدت دراز تک )۔
صاف ظاہر ہے کہ وہ شخص انتہائی بد بخت ہے جو ان وعیدوں کا اپنے آپ کو لاپروائی سے مستحق بناتا ہو۔ اندازہ ہوناچاہئے کہ شرابی پر اللہ کی لعنت برستی ہے ۔ شرابی سور اور بندر کی طرح مسخ ہو گا یہاں تک کہ شرابی جنت کی شراب طہور سے محروم رہے گا ۔ حضرت عبد الرحمان بن الازہرؓ کا بیان ہے کہ اس منظر کو اب بھی میں اپنی آنکھوں کے سامنے پاتا ہوں جو میں نے ایک مرتبہ دیکھا تھاوہ یہ کہ ایک شخص نے شراب پی لی تھی اس کو حضورﷺ کے پاس لایا گیا ۔آں حضورﷺ نو لوگوں سے فرمایا کہ اس کو مارو ، ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس کو جوتیوں سے مارا ، بعضوں نے لاٹھی سے ، بعض نے کھجور کی شاخوں سے ۔ پھر نبیﷺ نے زمین سے مٹی اٹھا ئی اور اس کے منہ پر ڈالی ۔ اس واقعہ سے انسانیت کو سبق ملتا ہے کہ کوئی شرابی ایسے برے کام کا ارتکاب کرتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں اس کا کوئی مقام ہی نہیں رہتا ہے بلکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ یہ انسانیت کش اور فعل بد ہے ۔ غور طلب بات ہے کہ اسلام نے اس وقت شراب کو حرام قرار دیا تھا جب پوری دنیا میں جسمانی طاقت کے لئے اس کا استعمال کیا جاتا تھا اور اس کے لئے سزا بھی مقرر کر دی تھی ۔
نشہ کی وجہ سے جنسی زیادتی کے واقعات اور ڈرائیونگ کے حادثات ہوجاتے ہیں جن پر نہ صرف سوچنے کی از حد ضرورت ہے بلکہ ان کو روکنے کی بھی ضرورت ہے ۔اطباء اور ڈاکٹروں کی طویل تحقیقات کے بعد یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ شراب کے استعمال سے معدہ متورم ہوجاتا ہے اور سوزش بڑھ جاتی ہے جگر کے افعال میں کمزوری آجاتی ہے حرکت قلب میں اضافہ ہوجاتا ہے خون کی نالیوں کا پھیلاو زیادہ ہوجاتا ہے جب کہ آں حضور ﷺ نے بہت پہلے شراب کو بیماری قرار دیا تھا ۔ ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ شراب خوراک نہیں زہر ہے شراب سے نظام ہاضمہ کمزور ہوجاتا ہے ،ا س کے استعمال سے نفس بے قابو ہوجاتا ہے ۔ کسی مشہور ڈاکٹر کا قول ہے کہ اگر شراب نہ ہوتی تو دنیا کے نصف گناہ اور بیماریاں ہمیں معلوم تک نہیں ہوتیں ۔ شراب خانہ وہ جگہ ہے جہاں بربادی بوتلوں میں فروخت کی جاتی ہے، شراب سے عقل بھی جاتی ہے اور اخلاقی حِس بھی ۔ غرض ہر قسم کا نشہ حرام ہے اور صحت کے لئے مضر بھی ہے ۔ چاہئے وہ شراب کی صورت میں ہو یا اور کسی شکل میں ۔ ہمارے نبی محترم ﷺ کا ارشاد ہے کہ کوئی بھی نشہ آور چیز نہ پیو ، کیونکہ میں نے ہر نشہ آور چیز کو تمہارے لئے حرام کیا ہے ۔ جب کہ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی نشہ آور چیز کو حرمت کا حکم آجانے کے بعد حلال خیال کرتے ہوئے پیا اور توبہ نہ کی تو روز قیامت میں اس کا اور میرا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آپﷺ نے یہاں تک بھی فرمایا کہ نشہ آور چیز نہ پیو اور نہ ہی اپنے مسلمان بھائی کو پلاؤ ۔ نشہ کسی بھی صورت میں ہو ، اس کی روک تھام کے لئے کوشش ہونی چاہئے ۔ آج کل اس فعل بد کو ــــجرم عظیم اور انسانیت کش عمل کو drugs کی شکل انجام دیا جاتا ہے جن کا ہم اپنی ریاست میں بھی کہیں کہیں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہماری نئی نسل کس طرح سے تباہ و برباد ہورہی ہے ، نہ صرف نوجوان لڑکے اس عمل بد کو انجام دے رہے ہیں بلکہ بتا یا جاتا ہے کہ قوم کی بعض نوجوان لڑکیوں کو بھی اس کی لت پڑ چکی ہیں۔ اس طرح سے اب یہاں drugs کا استعمال بے تحاشا ہورہا ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر ہی چند گذارشات کر رہا ہوں کہ اس قوم کو صدمے ہی صدمے دیکھنے پڑے ہیں اور آج بھی روز دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اب جب کہ نشہ کی بری عادت بھی نوجوانوں میں پڑ گئی ہو تو ا س سے اور کیا صدمہ خیز المیہ اس قوم کے لئے ہوسکتا ہے ؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی سطح پر بھی اس لعنت سے بچنے کے لئے اقدام اٹھائے جائیں اور سرکاری سطح پر بھی اس لعنت سے بچنے کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں ۔اگر سرکاری سطح پر واقعی اس تباہی کو روکا جائے تو اس بدنصیب قوم کے لئے یہ کسی عظیم نعمت سے کم نہیں ہوگا ۔ انسانیت کو بچانے والے انہیں مواقع پر پہچانے جاتے ہیں کہ وہ سوتے ہوئے لوگوں کو جگائیں اور نشہ میں مست ومحو ہوئی نسل کو اس لت پت سے نکالیں۔ یہ کام والدین کا بھی ہے اور یہ کام اساتذہ اور علماء وخطباء کا بھی ہے ، یہ کام عوامی بھی ہے ، یہ کام انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ۔ ہمارے علماء دانشوروں اور مفکروں، صحافیوں اور قلم کاروں کو اس سلسلے میں اپنا کلیدی رول نبھانا ہوگا ۔ مایوسی کی ضرورت نہیں ہے، البتہ انتھک کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر بچے ہمارے اپنے ہیں ، سرمایہ ہمارا ضائع ہورہا ہے ، نسل ہماری تباہ ہورہی ہے ۔ نسل نو کواس مصیبت وآفت سے بچانے کے لئے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سلسلے میں اخلاص واستقامت سے آگے آئیں اور جو بھی اس کام میں سبقت لے گا اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔ اگر واقعی منشیات کے ناسور کو ختم کرنے کے لئے محلہ کمیٹیاں اور اصلاحی ادارے قائم ہوجائیں گے تو یہ بھی ایک خوش آئند قدم ہوگا ۔ نیکی کے ا س ہم کام کی جتنی آج ضرورت ہے ،اس سے قبل اتنی نہیں تھی ، اس لئے وہ لوگ قابل صد تعریف ہیں جو یہ کام کریں ۔
فون نمبر9596483484