لندن//امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باوجود ملک کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں اس وبا کے باعث لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے احکامات جاری نہیں کریں گے۔خیال رہے امریکہ میں کورونا کے کیسز میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ریاستیں اور شہر اپنے طور پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں، جن میں گھر میں رہنا، ریستورانوں میں اندر بیٹھ کر کھانا کھانے پر پابندی اور محدود افراد کا ایک ساتھ جمع ہونا شامل ہے۔ جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ، 'ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے جس کی وجہ سے مجھے لگے کہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت پڑے'تاہم ان کا کہنا تھا کہ کاروبار اور دیگر سرگرمیوں کو کب اور کیسے کھولنا ہے اس کا فیصلہ ہر علاقے میں کیسز کی تعداد کے مطابق کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے اب تک دو لاکھ 52 ہزار 514 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔کیسز میں اضافے کی وجہ سے امریکہ کے ادارے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے امریکیوں کو اگلے ہفتے ’تھینکس گیونگ‘ کے موقع پر سفر کرنے سے منع کیا ہے۔سینٹر فار ڈیزیر کنٹرول کے ڈاکٹر ہینری والک نے اس بارے میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ، 'یہ ایک ضرورت نہیں۔ یہ ایک سخت تجویز ہے۔'تھینکس گیونگ امریکہ میں سفر کے لحاظ سے مصروف ترین موقع ہوتا ہے۔