عظمیٰ نیوز سروس
جموں //ملک کی سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے فوج کے دو سینئر کمانڈروں کے درمیان ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ سیکورٹی حالات، آپریشنل تیاریوں اور باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل پرتک شرما نے مرکزی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل انندیہ سین گپتا سے ملاقات کی۔ یہ اہم اجلاس فوج کی انڈین آرمی کی مرکزی کمان کے ہیڈکوارٹر میں لکھنؤ میں منعقد ہوا۔فوج کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق اس ملاقات نے دونوں آپریشنل کمانڈز کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ تعاون کی عکاسی کی، جو ملک کی وسیع اور متنوع سرحدوں کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔
بتایا گیا کہ نارتھرن کمانڈ کو شمالی بھارت کے ایک وسیع علاقے بشمول جموں و کشمیر اور لداخ جیسے حساس خطوں کی سلامتی کی ذمہ داری حاصل ہے، جبکہ سینٹرل کمانڈ فوج کے متعدد اہم اداروں اور تنصیبات کی نگرانی کرتی ہے۔اجلاس کے دوران دونوں کمانڈروں نے بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتحال، سرحدی چیلنجز، آپریشنل تیاریوں اور فوجی صلاحیتوں میں اضافے جیسے اہم امور پر غور کیا۔ اس کے علاوہ ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لئے بین الکمانڈ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔فوجی ذرائع کے مطابق ملاقات میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، معلومات اور تجربات کے تبادلے، اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے جنگی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ کمانڈروں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مختلف جغرافیائی حالات میں فوری اور مربوط ردعمل کے لیے ایک مضبوط اور مربوط نظام ناگزیر ہے۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں نہ صرف دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ ملک کی سرحدی سلامتی کو درپیش نئے چیلنجز سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔