ایجنسیز
نئی دہلی//مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ مکمل ہوئی ہے، جہاں طویل عرصے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار سے باہر رہی ہے۔تازہ اطلاعات کے مطابق دوپہر 1 بجے تک مغربی بنگال میں ووٹر ٹرن آؤٹ 62.2 فیصد جبکہ تمل ناڈو میں 56.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کے دوران 294 میں سے 152 اسمبلی حلقوں میں تقریباً 3.6 کروڑ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ یہ حلقے 16 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں نندی گرام، دارجلنگ، سلیگڑی، جلپائی گڑی اور کوچ بہار شامل ہیں۔
انتخابات کا دوسرا مرحلہ 29 اپریل کو ہوگا۔ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بی جے پی کے درمیان یہ ایک سخت مقابلہ ہے، خاص طور پر ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے معاملے پر جاری سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں۔دوسری جانب تمل ناڈو میں تین فریقی مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں ڈی ایم کے کی قیادت میں سیکولر پروگریسیو الائنس، اے آئی اے ڈی ایم کے اور بی جے پی کا اتحاد، اور اداکار وجے کی سیاسی انٹری نمایاں ہے۔ڈی ایم کے نے اپنی مہم کو ’دراویڑ ماڈل‘ حکمرانی اور فلاحی پروگراموں کے گرد مرکوز رکھا، جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے اور بی جے پی نے وعدہ کیا کہ وہ ریاست کو ’ایک خاندان کی حکمرانی‘ سے نجات دلا کر بدعنوانی سے پاک اور بہتر طرزِ حکومت فراہم کریں گے۔تمل ناڈو کی تمام 234 اسمبلی حلقوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا، جہاں شام 5 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 82.24 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔الیکشن حکام کے مطابق مقررہ وقت کے بعد بھی جو ووٹرز پولنگ اسٹیشنز پر قطاروں میں موجود تھے، انہیں اپنا ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی، جس کے باعث حتمی ٹرن آؤٹ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔مغربی بنگال میں شام 5 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 89.92 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو کہ بہت زیادہ شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔دوسری جانب تمل ناڈو میں اسی وقت تک ووٹنگ کی شرح 82.24 فیصد رہی۔