ایجنسیز
اسلام آباد// پاکستان میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر اہم سفارتی سرگرمیوں کے سلسلے میں اسحاق ڈار کی دعوت پر فیصل بن فرحان آل سعود، حکان فیدان اور بدر عبدالعاطی اتوار اور پیر کو اسلام آباد کا دورہ کریں گے، جہاں وہ خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔دفتر خارجہ کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے، خصوصاً ایران میں جاری جنگ کے تناظر میں مختلف امور پر غور کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ خطے کی صورتحال، باہمی تعاون اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر گہرے اور جامع مذاکرات کریں گے۔دورے کے دوران یہ رہنما وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ دورہ باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اجلاس پہلے ترکیہ میں منعقد ہونا تھا، تاہم اسحاق ڈار کی مصروفیات کے باعث اسے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ اسحاق ڈار کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے کہا،’’یہ اجلاس ترکیہ میں ہونا تھا، مگر میری مصروفیات کے باعث میں نے اپنے برادر ممالک سے درخواست کی کہ وہ اسلام آباد میں ملاقات کریں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جاری تنازعات کے حل کے لیے ’دیانتداری اور خلوص‘ کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاہم حساس نوعیت کے باعث ان کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی جا رہیں۔ادھر ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ فعال اور تعمیری رابطے میں ہے اور فوری کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا کے تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔