کسی بھی تحریر یا تصنیف میں مصنف کے اپنے ذاتی خیالات ہوتے ہیں جو وہ مختلف حالات و واقعات سے اخذ کر کے سپرد قلم کرتا ہے۔ سپرد قلم کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو تجربات و مشاہدات ایک مصنف اپنی تصنیف یا تحریر میں پیش کرتا ہے، وہ تجربات لوگوں تک پہنچ جائیں اور لوگ ان سے فائدہ حاصل کر سکیں۔مصنف جو کچھ لکھتا ہے ضروری نہیں وہ خیالات قاری کے ذہن میں ہوںاور کبھی کبھی ان خیالات سے قاری کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ایک مصنف ہی ہے جو چھوٹی سی چھوٹی بات پر سوچ کر کچھ نیا اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔
اب جب ہم ان تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ناتجربی میں یعنی یہ جانے بغیر کہ مطالعہ کیسے کرتے ہیں، ہم کئی غلطیاں کرتے ہیں ،جن کی وجہ سے ہم مصنف کے اصل مقصد تک پہنچ نہیں پاتے۔ جو مقصد مصنف کے ذہن میں ہوتا ہے، اُن تجربات کو حاصل کرنے یا سمجھنے کے بجائے ہمارے ذہنوں میں کئی طرح کے غیر ضروری سوالات جنم لیتے ہیں۔ مطالعہ کیسے کرنا چاہئے یہ جانے بغیر قاری کسی بھی تحریر کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا اور نہ ہی اصل حقیقت تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اب مطالعے کے دوران جو غلطیاں ہم سے سرزد ہوتی ہیں وہ کئ طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک غلطی یہ کہ ہم زبان سے ناواقف ہوتے ہیں ،لفظیات کا استعمال، جملوں کا استعمال وغیرہ۔ مصنف جس سمت کی جانب ہمیں لے جانا چاہتا ہے زبان کی لاعلمی کہ وجہ سے قار تحریر کو کسی اور سمت کی طرف لے جاتا ہے یعنی کوئی اور معنی نکال لیتا ہے جو کہ مصنف کا اصل مقصد نہیں ہوتا ہے۔دوسری غلطی یہ کہ کسی تصنیف کو پڑھنے سے پہلے ہم مصنف کے بارے میں نہیں پڑھتے ،ہم مصنف کو مطالعے کے معاملے میں بلکل نظر انداز کرتے ہیں جو کہ سب سے بڑی اور بنیادی غلطی ہے۔مصنف کو جاننے کےبغیر ایک قاری سود مند مطالعہ نہیں کرسکتا۔اس طرح اور بھی کئی غلطیاں ہیں جو ہم سے اکثر مطالعے کے دوران سرزد ہوتی رہتی ہیںحالانکہ اکثر محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی تصنیف کو پڑھنے یا مطالعہ کرنے سے پہلے مصنف کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے تاکہ ایک قاری کو پتہ چلے کہ مصنف نے تحریر کو کیوں لکھا؟کون سے وجوہات تھے جنہوں نے مصنف کو لکھنے پر مجبور کر دیا۔مصنف کی حالات زندگی کیا تھی ۔اس نے کس ماحول میں زندگی گزاری ہے۔مصنف کی زندگی نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔مصنف نے زندگی میں کس طرح کے حالاتوں کا سامنا کیا ہے۔مصنف کا ذہن کیسا ہے۔کن چیزوں نے اسے متاثر کیاہے۔ ان سب چیزوں کا جاننا اس لیے اہم ہے تاکہ قاری جب مطالعہ کرے تو پڑھنے یا سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہ کرے اور قاری مصنف کے ذہن کے قریب پہنچ جائے اور جو خیالات اور تجربات مصنف قاری تک پہنچانا چاہتا ہے، ان خیالات تک قاری کو رسائی حاصل ہو جائے۔اسی طرح مصنف کس دور سے تعلق رکھتا ہے، اس کے بارے میں جاننا بھی محققین نے ضروری قرار دیاتاکہ کسی تحریر یا تصنیف کو پڑھنے سے پہلے قاری اس دور کا مطالعہ کرے،جس دور میں یہ تحریر قلم بند کی گئی ۔ اس دور کے حالات و واقعات سے ایک تو قاری آگاہ ہوجائے دوسرا یہ کہ وہ تحریر کو بڑی آسانی سے سمجھ پائےکیوں کہ ہر تحریر کے پیچھے کسی مخصوص دور کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ اکثر تصانیف کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ماضی کے حالات و واقعات کا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی ملتا ہےاور ہم ماضی سے واقف ہوجاتے ہیںلیکن یہ مطلعے کا ہی کمال ہے ،جس کی وجہ سے ہم اس دور کے بارے میں جانتے ہیں جو ہم نے دیکھا بھی نہیں ہوتا ہے۔
مطالعہ کیسے کرنا چاہئے؟ اس سوال پر غور کرنے کے بعد میں نے مطالعے کے لئے تین امور کو صحیح ، سود مند اور نہایت اہم اور ضروری سمجھا ہے۔پہلا جو کہ سب سے اہم امور ہے وہ ہے زبان پر قدرت، دوسرا وسیع نظر اور تیسرا سب سے اہم امور گہرا مطالعہ ۔اب سرسری طور پر ان تین اہم امور پر روشنی ڈالتے ہیں۔
(1)زبان پر قدرت: زبان اظہار ِوسیلہ کے لیے نہایت ہی ضروری ہے۔ زبان کے بغیر ہم ایک دوسرے کے ساتھ اظہار خیال نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے احوال بیان کر سکتے ہیں۔ زبانوں کے بارے میں میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر یہ معرز وجود میں نہیں آئی ہوتی تو انسانوں اور جانوروں کے درمیان صرف تمیز کرنے کا فرق ہوتا۔الغرض زبان پر قدرت ہونا مصنف اور قاری دونوں کے لیے ضروری ہے۔مصنف جب کسی زبان کو استعمال میں لائے تو اچھے ڈھنگ سے لائے تاکہ معنی اور مطلب صحیح طرح سامنے آجائے۔اسی طرح قاری جب کسی تحریر کا مطالعہ کرے تو زبان کو جاننے کی کوشش کرے تاکہ مطالعہ کرتے وقت اس کے ذہن میں ایک لفظ کے ہزاروں معنی موجود ہوں پھر جو معنی بہتر لگے اس پر خود کو آمادہ کرے، ایسا نہیں کہ ایک بار تحریر پڑھنے سے جو معنی ذہن میں آگیا بس اسی کو اخذکر لے بلکہ بغور مطالعہ کرکے تحریر کی گہرائی میں جانکنے کی کوشش کرےتاکہ مصنف کے پیدا کردہ معنی تک رسائی حاصل ہوجائے۔بصورتِ دیگر تو ہم اکثر ایک ہی معنی کومراد بناکر غلط فہمی کا شکار ہوجاتےہیں اور بعد میں مصنف پر تنقید کی بارش شروع کرتے ہیںجو کہ میرے نزدیک غیر ضروری عمل ہے۔
(2) وسیع نظر : وسیع نظر سے میری مراد یہ ہے کہ قاری جب مطالعہ کرے تو کسی مخصوص جغرافیائی علاقے کو ذہن میں نہ رکھےبلکہ ایک موضوع کو بین الاقوامی سطح پر دیکھے کیوں کہ کچھ ایسے بھی واقعات رونما ہوتے ہیں جو کسی خاص جگہ سے منسوب نہیں ہوتے بلکہ پوری دنیا میں اس کا چلن ہوتا ہے جیسے عورتوں کے ساتھ استحصال۔ یہ استحصال ہر جگہ پر دیکھنے کو ملتا ہے۔اس لیے قاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر موضوع یا واقعے کو بڑی گہرائی اور گیرائی سے دیکھے تاکہ اصل نتیجے تک پہنچے۔
3) (گہرا مطالعہ : جس طرح کہتے ہیںکہ کوئی بھی تحقیق مکمل نہیں ہوتی، اسی طری کوئی موضوع ایسا نہیں ہے جس پر صرف ایک مصنف نے قلم اٹھایا ہو بلکہ ایک موضوع پر ہزاروں لوگوں نے لکھا ہوا ہوتا ہے ۔گہرےمطالعہ سے یہی مراد ہے کہ اگر آپ کسی موضوع کو پڑھ رہے ہیں تو آپ محض ایک مصنف کی تخلیق تک خود کو محدود مت رکھیں بلکہ جتنے لوگوں نے اس ایک موضوع پر لکھا ہے، سب کی تحریر وںکو پڑھنا چاہیے۔ اس کے کئی فائدےہیں، ایک تو یہ کہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی دوسرا یہ کہ مکمل تجربہ حاصل ہوجائے گا اور تیسرا یہ کہ آپ کے علم میں اضافہ ہوجائے گااور سب سے بڑا فائد یہ کہ آپ غلط فہمی سے پاک رہو گےاور آپ ایک کامیاب مطالعہ کرنے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔آخر پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ میری ذاتی تحقیق ہے اور ضروری نہیں کہ سب لوگ میری اس تحقیق سے اتفاق کریں گے۔اب جو لوگ اس کو صحیح سمجھتے ہیں تو ان کا احساس تا عمر رہے گا، اب اگر کوئی تنقید کر رہا ہے تو میں اُن کے پڑھنے اور ان کی تنقید کی داد دیتا ہوں۔
شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
رابطہ ۔9906609701