پونچھ// کرائسٹ اسکول پونچھ کی انتظامیہ کی جانب سے سرحدی گائوں دیگوار میں کرائسٹ اسکول کی دوسری شاخ قائم کی گئی ہے جس میں پونچھ قصبہ اور دیگر علاقوں کے طلبہ کو داخل کیا گیا ۔اس سلسلہ میں پونچھ کے وہ لوگ جن کے بچے اس اسکول میں زیر تعلیم ہیں ،نہایت پریشان ہیں کیونکہ دیگوار میں آئے روز فائرنگ اور گولہ باری ہورہی ہے ۔اس صورتحال سے اسکول میں زیر تعلیم طلبہ کا نہ صرف تعلیمی نقصان ہوتا ہے بلکہ ان بچوں کی زندگی پر بھی خطرے کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں۔سماجی کارکن نصرت حسین شاہ نے کہا کہ نہ جانے کرائسٹ اسکول کو دیگوار میں قائم کرنے کی اجازت کیا سوچ کر دی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ چنڈک اور دیگوار میں کرائسٹ اسکول پونچھ کی انتظامیہ کی جانب سے ہی نئے اسکول قائم کئے گئے ہیں جن میں پونچھ قصبہ کے معصوم طالب علموں کوداخلہ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگوار جیسے حساس علاقہ میں کرائسٹ اسکول کی عمارت صرف اسی علاقہ کے طلبہ کے لئے نہیں بنائی گئی ہے بلکہ انتظامیہ نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے ہزاروں معصوم بچوںکی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی کہ وہ کرائسٹ اسکول کی انتظامیہ پر دبائو بنائے کہ وہ اسکول کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرے ۔ایڈووکیٹ بانو نے بھی اس سلسلہ میںبات کرتے ہوئے کہا کہ کرائسٹ اسکول کو پونچھ کی عوام اپنے بچوں کے لئے سب سے بہتر ادارہ سمجھتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ لوگ بچوں کو دیگوار جیسے سرحدی علاقہ میں بھی بھیجنے کو تیار ہوجاتے ہیں،لیکن ان لوگوں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایاجارہاہے ۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ سے بھی اپیل کی کہ وہ کرائسٹ اسکول انتظامیہ پر دبائو بنائیں کہ وہ بچوں کا تعلیمی نقصان نہ ہونے دیںاوران کی زندگیاں بھی محفوظ رہیں۔