نوراللہ شاہ بخاری
بلاشبہ اسلام میں مسجدوں کی بڑی اہمیت اور عظمت ہے، اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی، اس کے ذکر اور قرآن پاک کی تلاوت کا مقام ہیں، جس جگہ اللہ تعالی کو یاد کیا جائے، بندگی کے سجدے ادا کئے جائیں اور اللہ تعالی کو پکارا جائے، اس جگہ سے بڑھ کر اور کون سی جگہ ہوسکتی ہے۔ جس طرح انسانوں کا نصیب ہوتا ہے اسی طرح زمین کے ٹکڑوں کا بھی نصیب ہوتا ہے، ہر زمین کے ٹکڑے کا مقدر اللہ کا گھر بننا نہیں ہے، اللہ پاک زمین کے جس حصے کو چاہتا ہے اپنا گھر بنانے کیلئے چن لیتا ہے اور وہ زمین کا ٹکڑا عزت، شرف اور عظمت حاصل کرلیتاہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:’’ اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور نما ز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے‘‘۔یعنی مسجدیں آباد کرنا، ان کی تعمیر کرنا، تعمیر کا بندوبست کرنا، اس کے لئے فکر کرنا، ان کی دیکھ بھال رکھنا، یہ سب ایمان کی علامتیں ہیں اور ایسے شخص کیلئے اللہ کی طرف سے ایمان کی گواہی ہے۔ آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسجدیں آباد کرنے کے مستحق مؤمنین ہیں ، مسجدوں کو آباد کرنے میں یہ اُمور بھی داخل ہیں : جھاڑو دینا، صفائی کرنا، روشنی کرنا اور مسجدوں کو دنیا کی باتوں سے اور ایسی چیزوں سے محفوظ رکھنا، جن کے لئے وہ نہیں بنائی گئیں ۔ مسجدیں دراصل عبادت وریاضت اور ذکر واذکار بالخصوص نماز پنجگانہ ادا کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔تعمیر مساجد کی ترغیب کے لیے حدیث پاک میں آتا ہے: ’’جو اللہ (کی رضاجوئی) کیلئے مسجد بنائے گا، اللہ کریم اس کیلئے جنت میں گھر بنا دےگا‘‘۔ایک روایت میں ہے کہ جو شخص کوئی مسجد بنائے خواہ وہ پرندے کے گھونسلے کے برابر ہو یا اس سے بھی چھوٹی ہو یعنی کتنی ہی سادہ اور چھوٹی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مساجد کو جنت کا باغ قرار دیا۔ مسجد جانیوالے کو حج و عمرہ کے ثواب کا مستحق قرار دیا۔ تعمیر مسجد کو صدقۂ جاریہ فرمایا، مساجد کو اللہ کا گھر فرمایا، مسجد کی ضروریات پوری کرنے پر اجر و ثواب کا اعلان کیا، مسجد کے کاموں کیلئے دوسروں کو متوجہ کیا، مسجد کے پڑوس کو باعث فضیلت قرار دیا، مساجد کو پرہیز گاروں کا ٹھکانہ قرار دیا۔ مسجد کی طرف اٹھنے والے ہرقدم پرایک نیکی لکھے جانے،ایک گناہ معاف ہونے اورجنت میں ایک درجہ بلند ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔
جب مساجد کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہوئے انہیں اللہ کاگھر کہاگیا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ مساجد کی صرف ظاہری تعمیر کافی نہیں بلکہ اس کی باطنی تعمیر اور ان کو اپنے سجدوں سے آباد کرنا بھی ازحد ضروری ہے اور قرآن میں مساجد کو آباد کرنے کے تعلق سے ارشادربانی ہے کہ ’’مساجد کو وہی لوگ آبادکرتے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ،زکوٰۃ اداکرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں‘‘ (مفہوم قرآن) مسجد کی آبادی دو طرح سے ہوتی ہے ،ایک ظاہری آبادی ،دوسری باطنی آبادی ۔ظاہری آبادی یہ ہے کہ مسجد کے لئے کوئی زمین خرید ی جائے ، اس پر ایک عمارت کھڑی کی جائے ،پھر اس میں وضو وغیرہ کے لئے پانی کا انتظام کردیاجائے اور مسجد کی باطنی آبادی یہ ہے کہ اس کے اندر ہر وقت اللہ کی صدا بلند ہوتی رہے ۔ نماز ہوتی ہو، تلاوت ہوتی ہو، ذکر کے حلقے لگے ہوں ،تعلیم کے حلقے ہوں،دعوت وتبلیغ کی فکریں ہوتی ہوں، نمازیوں کی تعداد بڑھانے کی کوششیں ہوتی ہوں۔ مسجد کی یہ ظاہری آبادی (تعمیر ) تو ہر کوئی کرتاہے ۔مگرمسجد کی باطنی آبادی کی طرف بہت کم لوگ توجہ دیتے ہیں ۔اس لیے ہم سبھی مسلمانوں کو چاہئے کہ ہم اپنی مساجد کو سجدوں سے آباد کریں، نمازپنجگانہ باجماعت مسجدوں میں ہی اداکرنے کی کوشش کریں۔ اسلام میں مسجد سے تعلق ہمارا وقتی نہیں ہوتا ۔ دن میں پانچ مرتبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو مسجد کی طرف بلاتاہے ۔صبح ہوتی ہے تواللہ کی طرف سے نداء آتی ہے’’ حی علی الصلوٰۃ‘‘ آؤ نماز کی طرف۔ یعنی صبح ہوتے ہی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ بندہ کومسجد کی طرف بلاتاہے ۔کھانے سے پہلے، کاروبار سے پہلے ۔غرض ہر کام سے پہلے مسجد میں حاضری کا حکم دیاجاتاہے تاکہ ہمارا تعلق مسجد سے جڑا رہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم مسجد سے ہر لمحہ جڑے رہیں۔
<[email protected]>