لال سنگھ کی جنگلاتی اراضی کی حد بندی کی ہدایت
سالانہ 5کروڑپودے تیارکرنے کیلئے اعلیٰ قسم کی نرسریاں قائم کرنے پرزور
جموں //جنگلات و ماحولیات کے وزیر چودھری لال سنگھ نے کہا ہے کہ حکومت نے ریاست میں2016-17 کے دوران1.35 لاکھ کنال جنگلاتی اراضی سے ناجائیز قبضہ چھڑایا ہے۔یہ جانکاری وزیر نے فارسٹ انفارمیشن سینٹر میں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران دی۔پی سی سی ایف روی کیسر، چیف وائلڈ لائف وارڈن منوج پنت، ایم ڈی ایس ایف سی سریش گپتا کے علاوہ متعلقہ محکموں کے کئی اعلیٰ ا فسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔لال سنگھ نے جنگلاتی اراضی پرناجائیز قبضہ کرنے والوں سے تحفظ بخشنے کی ضروری پر زور دیتے ہوئے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ شفاف طریقے پر جنگلاتی ا راضی کی حد بندی کو یقینی بنائیں تا کہ اس پر ناجائیز قبضہ نہ ہو۔انہوں نے جنگلاتی اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹر ائزیشن کرنے پر بھی زور دیا تا کہ اس کے بہتر رکھ رکھاؤ کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ تندہی اور لگن کے ساتھ کام کر کے سبز سونے کو بچانے میں اپنا کلیدی رول ادا کریں۔ انہوں نے جنگلات کو تحفظ دینے کے لئے عوامی بیداری پر زور دیا۔وزیر نے کہا کہ اعلیٰ قسم کی نرسریاں قائم کی جانی چاہئیں تا کہ سالانہ5 کروڑ پودے تیار کئے جاسکیں۔وزیرنے مزید کہا کہ پچھلے برس2 کروڑ پودوں کی شجرکاری کی گئی جن میں30 فیصد پھلدار پودے بھی شامل تھے۔
سکاسٹ جموں میں منعقدہ دو روزہ کسان میلہ اختتام پذیر
ترقی پسند اور اختراعی کاشتکاروں کی عزت افزائی
جموں //سکاسٹ جموں میں آج دو روزہ کسان میلہ اختتام پذیر ہوا۔ وزیربرائے پشو و بھیڑ پالن اور ماہی پروری عبدالغنی کوہلی اس موقعہ پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔اس سال کسان میلہ کا موضوع تھا’’کسانوں کی آمدن دوگنا کرنے کیلئے دستیاب زرعی ٹیکنالوجی‘‘۔اس موقعہ پر وزیر موصوف نے میلے کے دوران لگائے گئے سٹالوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کسانوں کی بہبودی کے لئے اس طرح کے میلوں کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر جیسی سبز ریاست میں بھی80 سے90 کروڑ روپے مالیت کے بھیڑ اور انڈے ہمسایہ ریاستوں سے درآمد کرنے پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں پولٹری اور فشریز سیکٹر کو بڑھاوا دینے کے لئے منصوبے مرتب کئے گئے ہیں۔کوہلی نے مزید کہا کہ ریاست کو گوشت کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لئے یونیورسٹی اور متعلقہ محکموں کو باہمی اشتراک کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔وزیر موصوف نے اس موقعہ پر بہتری مویشی پالنے والوں میں ایوارڈ تقسیم کئے۔انہوں نے میلے کے دوران لگائے گئے بہترین سٹالوں کے حق میں بھی ایوارڈ تقسیم کئے۔سکاسٹ کے وائس چانسلر ڈاکٹر پردیپ کے شرما نے کسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کا ذکر کیا جو کسانوں کی بہبود کے لئے عملائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشو پالن شعبۂ کسانوں کی آمدن 2022 تک دوگنا کرنے میں ایک کلیدی رول ادا کرے گا۔اس موقعہ پر زرعی یونیورسٹی کے کئی دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔
رام گڑھ میں جے اینڈ کے گرامین بنک کا افتتاح
جموں // وزیر برائے صنعت و حرفت چندر پرکاش گنگا نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت این پی اے سے اوپر اُٹھ کر قرضوں کے شرح سود میں کمی لانے کی کوشش کرے گی۔وزیر نے ان باتوں کا اظہار رام گڑھ میں جے اینڈ کے گرامین بنک کی شاخ کے افتتاح کے موقعہ پر ایک تقریب کے دوران کیا۔وزیر نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ وقت پر اپنے قرضہ جات کی واپسی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بنک کے ا فسروں کو بنک کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے مبارک باد دی۔گنگا نے کہا کہ دُنیا اب ایک گلوبل مارکیٹ کے طور اُبھر رہی ہے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم وقت کے تقاضوں کے ساتھ چلیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی نظام میں بنکوں کا ایک اہم رول ہوتا ہے کیوں کہ بنک لوگوں کو قرضے فراہم کر کے اُن کی زندگیوں میں بہتری لانے کا کام انجام دیتے ہیں۔وزیر نے کہا کہ مرکزی حکومت پردھان منتری ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام اور ریاست وزیر اعلیٰ ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام کے ذریعے بے روز گار نوجوانوں کو کئی سکیموں کے تحت25 سے35 فیصد تک سبسڈی کے ساتھ قرضے فراہم کرتی ہے تا کہ یہ نوجوان اپنا کاروبار شروع کرسکیں اور دیگر بے روز گار نوجوانوں کے لئے بھی روز گار کی سبیل بن سکیں۔اس موقعہ پر دیگر اصحاب کے علاوہ چیئرمین آر کے چھبر، جنرل منیجر رمیش وید، انسپکشنز چیف جتیندر بردواج، ریجنل منیجر جموں کے ایل شرما، ریجنل منیجر کٹھوعہ رام دیو شرما کے علاوہ بنک کے عملے اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد اس موقعہ پر موجود تھی۔اس سے قبل وزیر نے ایک مقامی سکول کی سالانہ دن کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ایم ایل اے سانبہ ڈی کے منیال، سکول کے چئیرپرسن وجے پوری اور دیگر معزز شخصیات، والدین اور طُلاب بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔
گورنر اور خاتون اول نے ریڈکراس میلے کا افتتاح کیا
جموں //گورنر این این ووہرا جوجموں وکشمیر ریڈ کراس سوسائٹی کے صدر بھی ہیں اور خاتون اول اوشا ووہرا نے یہاں گلشن گراؤنڈ میں سالانہ ریڈ کراس میلے کا افتتاح کیا۔پچھلے چند مہینوں کے دوران ریڈ کراس سوسائٹی کی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ادارے نے لوگوں کی خدمت بہتر طور سے انجام دی ہے اور انہیں چاہئے کہ وہ ضرورت مند لوگوں کے لئے آئندہ بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں۔گورنر نے ان میلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے میلے ضلع سطح پر بھی منعقدکئے جائیں۔ فسٹ ایڈ تربیت پر زور دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ریڈ کراس کا عملہ سب سے پہلے کسی بھی آفات سماوی کی جگہ پر پہنچ جاتا ہے اور لوگوں کی جان کے تحفظ کے لئے تمام تر کاوشویں بروئے کار لاتا ہے۔گورنر نے ڈویثرنل کمشنر جموں ہمنت کمار شرما اور انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کے چئیرمین اور ان کی ٹیم کی ستائش کی کہ انہوں نے ریڈ کراس میلے کو احسن طریقے پر منعقد کیا۔اس سے قبل گورنر اور خاتون اول نے میلے کے مختلف سٹالوں کا دورہ کیا جنہیں سرکاری اداروں اور نجی تنظیموں نے قائم کیا تھا۔ انہوں نے طُلاب، افسروں اور متعلقین کے ساتھ بات چیت کی۔اس موقعہ پر ایک تمدنی پروگرام بھی پیش کیا گیا۔ڈویثرنل کمشنر جموں ہمنت کمار شرما نے اس موقعہ پر خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔جوائنٹ سیکرٹری آئی آر سی ایس نیشنل ہیڈ کوارٹر منیش چوہدری، آنرری جنرل سیکرٹری ایم ایس راتھر، آئی جی پی جموں ایس ڈی سنگھ جموال، آئی جی بی ایس ایف رام اوتار، ممبر نیشنل منیجنگ باڈی محترمہ روما وانی اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔
سکاسٹ آر ایس پورہ میں قانونی بیداری کیمپ اور قانون میلہ منعقد
جسٹس گگوئی کے نظریے کے تحت عوام کوبیداراور با اختیار بنانے پرزور
جموں // ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی جموں کی جانب سے سکاسٹ( جے) آر ایس پورہ میں جے اینڈ کے ایس ایل ایس اے کے سرپرست اعلیٰ اور جموں وکشمیر کے چیف جسٹس، جسٹس بدر دریز احمد کی ہدایات پر ایک قانونی بیداری کیمپ اور قانونی میلے کا انعقاد کیا۔قانونی بیداری کیمپ کا انعقاد چئیرمین ڈی ایم ایس اے اور پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ونود چیٹرجی کول کی نگرانی میں ہوا۔اس کیمپ کا انعقاد این اے ایل ایس اے کے نئے لیگل سروسز کیمپ ماڈیول کے رہنما خطوط کے تحت کیا گیا جس کی رو سے این اے ایل ایس اے کے ایگزیکٹو چئیرمین اور سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس رنجن گگوئی کے اُس نظریے کے تحت عوامی بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو با اختیار بنایا جائے گا۔اس پروگرام کا افتتاح جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی محمد ماگرے نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے ایک اور جج جسٹس ایم کے ہانجورہ کی موجودگی میں کیا۔پروگرام میں ریاستی ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل سنجے دھر، ڈائریکٹر سٹیٹ جوڈیشل اکاڈمی عبدالرشید ملک اور جموں وکشمیر ایس ایل ایس اے کے ممبر سیکرٹری آر این واتل نے بھی شرکت کی۔ریاستی ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی محمد ماگرے نے اپنے خطبے میں اس سکیم اور این اے ایل ایس اے کے نئے ماڈیول کے تحت ہاتھ میں لئے گئے اُن اقدامات کا ذکر کیا جو ایگزیکٹو چئیرمین این اے ایل ایس اے اور سُپریم کورٹ آف انڈیا کے جج جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت میں اس طرح کے کیمپ منعقد کرانے کے لئے اُٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے سماج کے پچھڑے طبقوں تک پہنچنے اور ان میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مختلف سرکاری محکمے بشمول لیبر، سماجی بہبود، ایکسائز، تعلیم، باغبانی، ریاستی کمیشن برائے خواتین، فلوری کلچر، وائلڈ لائف، آئی سی پی ایس، صحت اور کئی دیگر اداروں نے بھی اس موقعہ پر سکیموں اور پروگراموں کے حوالے سے اپنے سٹال قائم کئے تھے۔ان اداروں میںایڈز کنٹرول سوسائٹی، نارکوٹیکس بیورو ٹیم جموں اور جے اینڈ کے بنک بھی شامل ہیں۔ اس دوران کافی تعدادمیں لوگوں کو ان سکیموں اور پروگراموں کے بارے میں روشناس کرایا گیا۔ریاست میں قانونی بیداری پیدا کرنے اور جانکاری فراہم کرنے کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیمپ اور قانونی میلہ تھا۔اس موقعہ پر ایک ثقافتی رنگا رنگ پروگرام بھی منعقد کیا گیا جس کی شروعات قومی ترانہ سے ہوئی۔ ہیری ٹیج سکول جموں، گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول بوائز آر ایس پورہ اور ایم ایچ اے سی ایس ناگ بنی جموں نے کئی موضوعات پر ثقافتی پروگرام پیش کئے۔اس موقعہ پر این اے ایل ایس اے کا موضوعاتی نغمہ بھی پیش کیا گیا۔س دوران شرکاء میں اسناد اور ٹرافیاں بھی پیش کی گئیں۔قانونی بیداری کیمپ اور قانونی میلہ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور سماج کے ایک بڑے طبقے نے وہاں پردستیاب سکیموں اور پروگراموں سے استفادہ کیا۔
ریاست کے رنگ روڈ پروجیکٹ
چیف سیکرٹری نے جاری تعمیراتی کام کا جائیزہ لیا
جموں //چیف سیکرٹری بی بی ویاس نے آج یہاں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران سرینگر اور جموں میں رنگ روڈ پروجیکٹ پر جاری کام کا جائیزہ لیا۔فائنانشل کمشنر ریونیو، ڈویثرنل کمشنر جموں، ڈائریکٹر این ایچ اے ون جے اینڈ کے، ڈپٹی کمشنر جموں اور ریاستی حکومت کے سنئیر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔ڈویثرنل کمشنر کشمیر، بڈگام، پلوامہ، سرینگر، بارہ مولہ، بانڈی پور اور گاندر بل اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے سرینگر میں رنگ روڈ پروجیکٹ کے لئے حصول اراضی کے سلسلے میں اُٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا جہاں اگلے ہفتے متعلقہ اراضی این ایچ اے ون کے عہدیداروں کے سپرد کی جائے گی۔جموں کے بارے میں میٹنگ میں بتایا گیا کہ90 فیصد اراضی این ایچ اے ون کے سُپرد کی گئی ہے۔چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ حصول اراضی کے سلسلے میں معاوضہ کے طور پر خرچ کی گئی رقومات کے بارے میں یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹ پیش کریں تا کہ باقی ماندہ معاوضہ واگذار کیا جاسکے۔انہوں نے این ایچ اے ون کے حکام سے کہا کہ وہ التواء میں پڑی معاوضہ کی رقم ڈپٹی کمشنروں کے حق میں واگذار کریں تا کہ زمین مالکان کے حق میں یہ رقومات تقسیم کی جاسکیں۔