پٹوار ایسو سی ایشن کی علامتی ہڑتال کاتیسرادن
جموں//پٹوار ایسو سی ایشن کی طرف سے اپنے مطالبات کے حق میں شروع کی گئی چارروزہ علامتی ہڑتال تیسرے روزبھی جاری رہی۔۔ ڈی سی دفترجموں کے احاطے میںایسو سی ایشن کے عہدیداران بشمول ریاستی صدرپٹوارایسوسی ایشن سجادصدیقی، سینئر نائب صدر مشتاق احمدگنائی ،چیف آرگنائزیشن شاہ اقبال ،ونے کمار،صوبائی صدرفاروق ملک سابق ریاستی صدررمن راج شرما، صوبائی عہدیداران ، ضلع صدرجموں کلیم احمد، ضلع صدرسانبہ محمدامجدملک ودیگران نے احتجاج کیا۔اس سلسلے میں زعمائوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کے ساتھ کی جانے والی میٹنگیں ناکام رہی ہیں جس کے نتیجہ میں وہ اپنی مانگوں کو منوانے کے لئے ہڑتالی روش اپنانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کی مانگ ہے ہے کہ گریجویٹ پٹواریوں کی گریڈ پے 2400سے بڑھا کر 2800کی جائے، پچھلے چار برس سے پٹواریوں اورگرداوروں کی ڈی پی سی منعقدکی جائے، نائب تحصیلداروں کی راست بھرتی کا سلسلہ بند کیا جائے، ان کے الائونسوں میں اضافہ کرنے کے علاوہ جن مقامات پر پٹوار خانے تعمیر نہیں ہیں وہاں کرایہ پر عمارتیں مہیا کروائی جائیں ، محکمہ جاتی انکوائری سیل کو فعال بنایا جائے ۔
آنگن واڑی روکروں وہلیپروں کامسلسل دوروزبھی مظاہرہ
جموں//جے اینڈکے آنگن واڑی ورکرس اینڈہیلپرس یونین جموںکے بینرتلے آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں نے اپنی مانگوں کی حمایت میں دوسرے روزبھی پانامہ چوک جموں میںاحتجاجی مظاہرہ کیا۔اس دوران مظاہرین اپنے مطالبات مثلاً تنخواہوں میں اضافہ، ای ۔پی۔ایف ،ای ۔ایس۔آئی اورپنشن سکیموں کولاگوکرکے سماجی تحفظ،سرکاری ملازم کااعلان، مرکزسے معقول خوراک کی فراہمی وغیرہ کی حمایت میں نعرے باز ی کررہے تھے۔ اس دوران مظاہرین نے کہاکہ آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کاملک گیراحتجاج چل رہاہے اسی سلسلے کی کڑی کے تحت جموں میں بھی آنگن واڑی ورکروں اوہیلپروں نے مطالبات کے حق میں احتجاجی ریلی نکالی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارامطالبہ ہے کہ آنگن واڑی ورکروں کی کم ازکم ماہانہ تنخواہ 10ہزارجبکہ ہیلپروں کی ماہانہ تنخواہ چھ ہزارکی جائے ۔انہوں نے ورکروں کودہلی،پنجاب،اورہریانہ وغیرہ پڑوسی ریاستوں کے برابرمشاہراہ کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہاکہ جن ورکروں نے د س سال مکمل کرلیے انہیں مستقل کیاجاناچاہیئے ،اس کے علاوہ آنگن ورکروں اورہیلپروں کو 15 دن کی کیجول اور30دن کی ارنڈلیوسال میں دینے کی مانگ کی۔۔اس دوران مظاہرین سے خطاب کرنے والے لیڈران میںسمن کماری ریاستی صدر، رتنہ ،سورنا، وجے،نرمل شرما، مہہ جبین ،زاہدہ ،میرا، رویندر، پنکی بٹ، رنکوشرماوغیرہ شامل تھے۔
ایم ایل اے کرگل کی دُختر کی وفات پر
وزیر اعلیٰ ،حاجی عنایت علی،باقررضوی کااظہاردُکھ
جموں//وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ،قانون سازکونسل کے چیئرمین حاجی عنایت علی ،ایم ایل اے زنسکارمحمدسیدباقررضوی نے الگ الگ تعزیتی پیغامات میںایم ایل اے کرگل اصغر علی کربلائی کی دختر کے انتقال پر دُکھ او رصدمے کا اظہار کیا ہے ۔مرحومہ گذشتہ روز ممبئی میں انتقال کر گئی ۔وزیر اعلیٰ نے سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی ایصال ثواب کیلئے دعا کی۔واضح رہے کہ ایم ایل اے کی دختر زینب کربلائی چند روز پہلے گیس سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے زخمی ہوئی تھی اور انہیں بہتر علاج و معالجہ کے لئے ممبئی کے ایک ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسیں۔
پانپور حلقہ میں نبارڈ کے تحت پروجیکٹوں کاجائزہ
میر ظہور کی ترقیاتی کاموں کوبروقت مکمل کرنے کی ہدایت
جموں//جنگلات و ماحولیات اور پشو و بھیڑپالن کے وزیر مملکت میر ظہو ر احمد نے تعمیراتِ عامہ محکمہ سے کہا کہ وہ پانپور حلقے میں نبارڈ کے تحت منظور کئے گئے پروجیکٹوں کے کاموں میں تیزی لا کر ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔وزیر موصوف نے اس حوالے سے منعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حلقے کے اُن علاقوں کا سروے کیا جانا چاہیئے جو ابھی سڑک رابطوں سے محروم ہے ۔انہوں نے کہا کہ بعد میں ان علاقوں کے تفصیلی پروجیکٹ رِپورٹ بھی تیار کئے جانے چاہیئے۔میٹنگ کے دوران وزیر موصوف نے متعلقین کے ساتھ کئی اہم سڑک پروجیکٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے رقومات کے منصفانہ تصرف کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے افسروں سے کہا کہ وہ مزید تن دہی اور لگن کے ساتھ کام کر کے علاقے میں سڑک رابطوں کو تقویت بخشے۔میر ظہور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی سرکار ریاست کے تمام علاقوں میں بہتر سڑک رابطے فراہم کرنے کی وعدہ بند ہے ۔
سکھ نندن کی صدارت میں پٹیشن کمیٹی کااجلاس
ارکان قانون سازیہ کی جانب سے تجاویزپیش
جموں//جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کی پٹیشنز کمیٹی کی ایک میٹنگ یہاں ایم ایل اے چودھری سکھ نند ن کمار کی صدارت میں منعقد ہوئی۔میٹنگ میں ارکان قانون سازیہ آر ایس پٹھانیہ ، گلزار احمد وانی اور اشفاق احمد شیخ نے کمیٹی کے کام کاج میں بہتری لانے کے حوالے سے اپنی تجاویز سامنے رکھیں۔اس موقعہ پر کمیٹی کے سامنے التوا میں پڑی پیٹشنز کے تیر تر نمٹارے کے حوالے سے امور کوبھی زیر بحث لایا گیا۔اس موقعہ پر فیصلہ لیا گیا کہ اے ڈی اے کے کی طرف سے لائی گئی پیٹشن پر اگلی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا جائے گااور بتایا گیا کہ کمیٹی کی اگلی میٹنگ 28؍ فروری 2018ء کو اسمبلی سیکرٹریٹ کے میٹنگ ہال میں منعقد ہوگی۔سیکرٹری اسمبلی ایم آر سنگھ، ایڈیشنل سیکرٹری اسمبلی نسیم جان کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔
درمیانہ درجے کے تودے گرنے کاامکان
ایس اے ایس ای نے وارننگ جاری کی
جموں//ایس اے ایس ای کی طرف سے ملی جانکاری کی بناپر بارہمولہ ، گلمرگ ، پھرکیاں ۔زیڈ گلی اور کپواڑہ ۔ چوکی بل ۔ٹنگڈار ، بانڈی پورہ اور گاندربل اضلا ع میں اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران درمیانہ درجے کے تودے گرآنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔اسی طرح اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران پونچھ ، راجوری ، ریاسی ، رام بن ، ڈوڈہ ، کشتواڑ، ادھمپور ، اننت ناگ ، کولگام ، بڈگام ، کرگل ، لیہہ اضلاع ، سرینگر ۔جموں قومی شاہراہ پر ہلکے تودے گر آنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے ۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے تودے گرا ٓنے والے علاقوں میںرہائش پذیر لوگوں کو احتیاطی اقدامات عملانے کی صلاح دی ہے ۔
جی ڈی سی مہانپور میں ترقیاتی کام
لال سنگھ نے اچانک معائینہ معائینہ کیا
جموں/جنگلات و ماحولیات کے وزیر چودھری لال سنگھ نے مہانپور ڈگری کالج کا اچانک معائینہ کر کے وہاں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ تعمیراتی کاموں میںتیزی لا کر پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کاموں کے معیار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وزیر نے کالج میں شجر کاری مہم میں بھی حصہ لیا ۔بعد میں وزیر نے گیسٹ ہاوس بسوہلی میں عوام کے مطالبات سنے جہاں کئی وفود نے انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیر موصوف نے وفود کے مطالبات غور سے سنے اور انہیں یقین دلایا کہ ان مطالبات کو مرحلہ وار طریقے پر حل کیا جائے گا۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ترقیاتی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔لال سنگھ نے کئی ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں سڑک رابطوں ، بجلی ، پانی ، صحت اور دیگر شعبوں کے پروجیکٹوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔
حکومت عوام کو دہلیزپرطبی سہولیات فراہم کرانے کیلئے کوشاں:گنگا
جموں/ریاستی حکومت لوگوں خاص طور سے دور دراز اور پہاڑی علاقوںمیں عوام کو ان کی وہلیز پر بہتر طبی سہولیات مہیا کرنے کی وعدہ بند ہے ۔ان باتوں کا اظہارصنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا نے سانبہ ضلع کے پٹی علاقے میں ماتا امر دے روٹری آنکھوں کے ہسپتال میں مفت بینائی کیمپ کا افتتاح کرنے کے بعد کیا۔اس موقعہ پر کئی دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت صحت شعبے کی ترقی کو بلند یوں تک لے جانے کی طر ف خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔انہوں نے دیہی علاقوں میں میڈیکل کیمپ منعقد کرانے کے لئے روٹری کلب کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ صحت خدمات عام لوگوں کے لئے اہمیت کی حامل ہے لہٰذا موجودہ حکومت بہتر طبی خدمات بہم کرانے کے لئے کوئی بھی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کیمپ ریاست کے دیگر علاقوں میں بھی منعقد کئے جانے چاہیئے۔اس سے پہلے وزیر نے آر ایس سی کی نیلامی کا بھی معائینہ کیا جس کا انعقاد جموں وکشمیر منلز لمٹیڈ نے جواہر لال نہرو ادھیو بھون میں کیا تھا اور اس دوران کورنڈم سفائیر کے 79لاٹس کو نیلامی کے لئے رکھا گیا تھا۔ وزیر نے اس موقعہ پر کہا کہ ریاست میں معدنیات کے کافی وسائل موجو د ہیں جن کی بدولت روزگار کے کافی وسائل پیدا ہونے کی گنجائش ہے ۔
صدر ٹرمپ کی ساتذہ کو بندوق دینے کی منطق پر بھیم سنگھ کو اعتراض
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے ،امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس تبصرہ پر جس میں انہوں نے اسکولوں کے اساتذہ کو بندوق دینے کی حمایت کی ہے، سخت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے اس تبصرہ کی تمام مذاہب کے وقار اورانسانیت کے پیغام کو قائم رکھنے کیلئے سبھی کو مذمت کرنی چاہئے۔پنتھرس سپریمو نے کہاکہ کیا امریکی صدر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسکولوں کے اساتذہ کو طلباکو قابو میں رکھنے کیلئے ایک ہاتھ میں چوک اور دوسرے ہاتھ میں بندوق رکھنی چاہئے۔انہوں نے تمام امن پسند ممالک سے صدر کے اس تبصرہ کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی جس سے دنیا کا سماج مفلوج ہوجائے گا۔پنتھرس سربراہ نے کہاکہ امریکی صدر نے اپنے دماغ کا اس طرح استعمال نہیں کیا جس سے لگے کہ وہ اس امریکہ کے صدر ہیں جو ایٹم بم کا مالک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بندوق سے طلبا کو قابو کرنا پوری انسانیت کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے امریکی صدر سے اپنا تبصرہ واپس لینے اور بلا اجازت ہتھیار رکھنے پر اسی طرح پابندی لگانے کی اپیل کی جس طرح ہندستان اور مہذب ممالک میں ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ اپنے ناقابل قبول بیان کو واپس لیں گے اور اسی طرح کام کریں گے جس طرح سابق امریکی صدور ابراہیم لنکن اور کنیڈی نے عالمی امن کے مفادمیں کیا تھا۔انہوں نے صدر ٹرمپ کو گنگاکے کنارے آنے کی دعوت دی جہاں سے سبھی کو بلا بندوق کے امن اور انسانیت کا پیغام دیا جاتا ہے۔
اصغرکربلائی کے دخترکی وفات پر شیعہ فیڈریشن کااظہارافسوس
جموں//ممبراسمبلی کرگل اصغر کربلائی کی جواں سال بیٹی کی موت پر شیعہ فیڈریشن نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے ہمدردی ظاہر کی ہے ۔ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں کہاکہ انہیں اس سانحہ پر گہرا دکھ پہنچاہے اور وہ اس گھڑی لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مرحومہ کی رو ح کی تسکین کیلئے دعائے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ۔ موصوف نے مرحومہ کی آخری رسومات کی ادائیگی میں بھی شرکت کی اور تدفین کا اہتمام بھی کروایا ۔ اس کے علاوہ فیڈریشن کے دیگر ارکان سرپرست اعلیٰ مولانا مختار حسین ، سینئر نائب صدر شیخ سجاد حسین ، فدا حسین رضوی ، انجمن حسینی بٹھنڈی کے صدر غلام محمد گنائی ، یوسف پٹھان ، قمر رضوی ، ذیشان علی خان ، کامران علی خان و صوبہ جموں کی مقامی انجمنوں کے صدور و عہدیداران نے بھی اس سانحہ پر دکھ کا اظہار کیاہے ۔
اشتہارات کی تقسیم کاری میں معقولیت لانے کیلئے ایڈیٹرس باڈیز کا تعاون طلب
محکمہ اختراعی اقدامات کے ذریعے ایک شفاف لائحہ عمل قائم کررہا ہے:ناظم اطلاعات
جموں //محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اخبارات کو سرکاری اشتہارات جاری کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عوام تک تقرریوں، پروگراموں اور سرکاری پالیسیوں و دیگر اقدامات کے بارے میں انہیں جانکاری پہنچائی جائے اور اس کا مقصد ان اشاعت کو مالی تعاون دینا نہیں ہے۔جموں وکشمیر پریس ایسوسی ایشن کے بیان کے رد عمل میں ناظم اطلاعات و رابطہ عامہ منیر الاسلام نے کہاکہ اشتہارات کی تقسیم کاری کا کام محکمہ کی طرف سے ایڈورٹائیزمنٹ پالیسی2016 میں وضح کئے گئے رہنما خطوط کے تناظر میں انتہائی شفاف طریقے سے عمل میں لائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کو3 مارچ2016 کو ریاستی انتظامی کونسل نے منظوری دی تھی۔ناظم اطلاعات نے ایڈورٹائیزمنٹ پالیسی2016 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کے1.3 مد میں واضح کر دیا گیا ہے کہ سرکاری اشتہارات کا مقصد کسی بھی ذرائع ابلاغ کو مالی معاونت فراہم کرنا نہیںہے بلکہ اس کا مقصد ذرائع ابلاغ کی ترقی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایک پیشہ وارانہ اور مقابلہ جاتی ماحول میں اس کی وسعت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کی تقسیم کاری میں انتہائی شفافیت کو برقرار رکھنے کے مقاصدکے تناظر میں محکمہ اطلاعات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حال ہی میں3 اہم اقدامات متعارف کئے گئے جن میں اشتہارات کی آن لائین تقسیم کاری، ہر ایک اخبار کو دی جانے والی رقومات کی تفصیلات ڈی آئی پی آر کی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنا اور منظور شدہ اخبارات کی زمرہ بندی کرنا شامل ہے تا کہ ہر ایک اشاعت کو اپنے میرٹس کی بنیاد پر اشتہارات کی تقسیم کاری ممکن ہوسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کچھ اخبارات نے ان اقدامات کے چلتے اپنے معیار اور مواد میں بڑھاوا کرنا شروع کیا ہے تو یہ ریاست میں مقابلہ جاتی پیشہ واریت کو فروغ دینے کے لئے ایک صحت مند کڑی ہے۔ناظم اطلاعات نے کہا کہ اخبارات کو اشتہاراتی تعاون دینے کی غرض سے حکومت نے اشتہارات کا بجٹ سال2018-19 کے لئے35 کروڑ روپے کر دیا ہے جو سال2013-14 میں تقریباً22 کروڑ روپے تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ حکومت نے اخبارات کو دیئے جانے والے اشتہارات کے ریٹس میں ایک ہی بار 100 فیصد اضافہ کر دیا جبکہ پہلے ہر تین برس کے بعد اشتہارات کے ریٹس میں محض 10 سے20 فیصد کا اضافہ کیا جاتا تھا۔جموں وکشمیر پریس ایسوسی ایشن کے اس بیان کہ جموں وکشمیرایڈورٹائیزمنٹ پالیسی2016 میں وضح کئے گئے لوازمات ڈی اے وی پی میں بھی نافذالعمل نہیں ہیں۔ ناظم اطلاعات نے کہا کہ مرکزی سرکار کی طرف سے7 جون2016 کو جاری کی گئی پرنٹ میڈیا ایڈورٹائیزمنٹ پالیسی کی کلاز18 کی سب کلاز(iv ) کے مطابق اشتہارات کی تقسیم کاری کے لئے اخبارات کی زمرہ بندی کے لئے الگ نمبرات متعارف کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈی اے وی پی کی جانب سے وضح کئے گئے نکات میں اے بی سی/ آر این آئی کی طرف سے تصدیق شدہ سرکیولیشن ، یو این آئی یاپی ٹی آئی یا ہندوستان سماچار جیسی وائیر خدمات کی سبسکرپشن، ملازمین کی ای پی ایف سبسکرپشن، پریس کونسل آف انڈیا کی سالانہ سبسکرپشن کی ادائیگی، اپنی پریس میں چھپائی، ملازمین کی تعداد، شائع ہونے والے صفحات کی تعداد اور اخبار کا پیشہ وارانہ مقام جیسے امور شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈی اے وی پی نے ہر ایک زمرے کے اخبار کے حق میں جاری کئے جانے والے اشتہارات کی ایک حد بھی مقرر کی ہے جس میں چھوٹے اخبارات کے لئے15 فیصد، درمیانہ درجے کے اخبارات کے لئے 25 فیصد جبکہ بڑی اشاعت کے لئے50 فیصد اشتہارات شامل ہیں۔ناظم اطلاعات نے کہا کہ دراصل اس ہفتے کے اوائل میں محکمہ اطلاعات نے جموں وکشمیر پریس ایسوسی ایشن کے صدر غلام حسن کلُو کو دعوت دی اور اخبارات کی زمرہ بندی کے حوالے سے حکومت کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی کی طرف سے وضح کئے گئے رہنما خطوط پر اُن کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک شفاف اورمنضبط عمل ہے جس کی رو سے نہ صرف تمام زمروں کے اخبارات کے مالکان کا خیال رکھا گیا ہے بلکہ یہ اخبارات کے ملازمین کے موافق بھی ہے۔ناظم اطلاعات نے مزید کہا کہ اشتہارات کی تقسیم کاری کے عمل میں شفافیت لانے کے لئے محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کی ستائش کرنے کے بجائے ایسا لگ رہا ہے کہ جموں وکشمیر پریس ایسوسی ایشن پچھلے کئی برسوں سے محکمہ کی طرف سے چلائے جارہے اشتہارات کی تقسیم کاری نظام جاری رکھنے کی وکالت کر رہی ہے۔اخبارات کے دفاتر کو2014 کے سیلاب کے دوران ہوئے نقصانات کا معاوضہ دینے کے حوالے سے ناظم اطلاعات نے کہا کہ اس معاملہ کے ساتھ محکمہ اطلاعات کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اس حوالے سے تخمینہ لگانے اور معاوضہ دینے کا کام محکمہ مال ہے نہ کہ محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کا۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے ہوئی تباہی کا معاوضہ حاصل کرنے کے لئے جموں وکشمیر پریس ایسوسی ایشن کو محکمہ مال کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہئے۔اسٹیٹس محکمہ کی جانب سے اخبارات کو رہایش کی الاٹ منٹ کے بارے میں ناظم اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے پہلے ہی محکمہ داخلہ کے انتظامی سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکی دی ہے اور صحافیوں کو سرکاری رہایش الاٹ کرنے کا معاملہ اسی کمیٹی کے حد اختیار میں آتا ہے نہ کہ محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ کے دائرے میں۔مُنیر الاسلام نے مزید کہا کہ ایڈیٹرو ں سمیت 120 صحافیوں کے پاس اس وقت جموں اور سرینگر میں سرکاری رہایش ہے۔