عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//اجرتوں اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث دہلی، کرناٹک، ہریانہ اور اتر پردیش میں اے ٹی ایمز میں نقد رقم پہنچانے اور دیگر کیش مینجمنٹ خدمات عارضی طور پر متاثر ہو گئی ہیں۔ کیش مینجمنٹ اور لاجسٹکس کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت کے باوجود پرانے معاہدوں کے تحت خدمات جاری رکھنا معاشی طور پر ممکن نہیں رہا، جس کے نتیجے میں انہوں نے بعض خدمات کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کی ذمہ داری اے ٹی ایمز میں نقد رقم بھرنے، ایک مقام سے دوسرے مقام تک محفوظ ترسیل، کیش پراسیسنگ اور متعلقہ خدمات انجام دینا ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ملازمین کی اجرتوں، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتوں، گاڑیوں کے آپریشن اور سکیورٹی اخراجات میں نمایاں اضافے نے ان کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بینکوں کے ساتھ موجودہ معاہدوں میں ان اخراجات کے مطابق معاوضے میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ صنعتی ذرائع کے مطابق کیش مینجمنٹ کمپنیوں نے بینکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ نرخوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ خدمات کو پائیدار بنیادوں پر جاری رکھا جا سکے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اگر اخراجات اور ادائیگیوں میں توازن پیدا نہ کیا گیا تو مستقبل میں بھی ایسی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس عارضی تعطل کے باعث چاروں ریاستوں میں بعض اے ٹی ایمز میں نقد رقم کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔