وِجے کمار نے زخمی بریگیڈئیر اور ڈی آئی جی کی عیادت کی
نیوز ڈیسک
جموں//گورنر کے مشیر کے ۔وِجے کمار نے سری نگر کے 92 بیس ہسپتال جا کر کمانڈر 12 سیکٹر آر آر کے بریگیڈئیر ہر بیر سنگھ اور ڈی آئی جی ساوتھ کشمیر امیت کمار جو سوموار کوضلع پلوامہ کے پنگلن علاقے میں ایک تصادم کے دوران زخمی ہوئے تھے کی عیادت کی۔ صلاح کار نے بریگیڈیئر ہر بیر سنگھ اور امیت کمار کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور زخمی افسران کی خیریت دریافت کی۔
مضمون نویسی مقابلہ کا اہتمام
نیوز ڈیسک
ریاسی // ضلع کے گلاب گڑھ علاقہ میں فوج کی جانب سے دیہی علاقوں کے طلاب میں اعتماد بڑھانے اور انکے ٹیلنٹ کو فروغ دینے کیلئے ’تحریری ہنر میں بہتری کیلئے‘ایک مضمون نویسی مقابلہ کا اہتمام کیا گیا۔مقابلے میں کل ملا کر 19 طلاب نے جوش و خروش سے شرکت کی۔مقابلے کا مقصد طلاب میںتقابلی جذبہ کو فروغ دینا اور انکے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو نکھار دینا تھا۔طلاب نے اس پلیٹ فارم کو تخلیقی اور دل بہلائی کے طو ر پر منایا۔پروگرام میں ذہین طلاب نے اپنے ٹیلنٹ کا مظاہرہ کیا ۔پروگرام کے اختتام پر اعلیٰ تین پوزیشنیں حاصل کرنے والوں میں انعامات کی تقسیم کاری کی گئی،اسکے علاوہ شرکا کیلئے خصوصی حوصلہ افزائی انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔دیگر تمام شرکا کے حوصلہ کو فروغ دینے اور ان میں تقابلی جذبہ برقرار رکھنے کیلئے تحائف دئے گئے۔پروگرام فوج اور مقامی لوگوں کے درمیان رشتے مستحکم بنانے میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوا ،جس سے دور افتادہ علاقہ کے طلاب کے ٹیلنٹ کو کھوجنے میں مدد ملے گی۔
پننا پرمکھ سمیلن انتظامات کا جائزہ
بی جے پی دشمن کے ہمدردوں اور رشوت خور عناصر کو باہر نکالے گی: یدھ ویر سیٹھی
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکرٹری یدھ ویر سیٹھی نے ریاستی سیکرٹری ارویندگپتا اور کارپوریٹر جیت انگرال وپارٹی کے دیگر کارکنوں کے ہمراہ بھگوتی نگر میں منعقدہ ’’پننا پرموکھ‘‘ سمیلن کے لئے کئے جا رہے انتظامات کا جائزہ لیا،جسے پارٹی کے قومی صدر امت شاہ مورخہ24فروری کو خطاب کریں گے۔پارلیمانی انتخاب سے قبل امت شاہ کی یہ ریاست جموں و کشمیر میں سب سے بڑی ریلی ہوگی،جہاں بوتھ لیو ل کے ورکروں کو انتخاب کے لئے متحرک ہونے کو کہا جائے گا۔یدھ ویر سیٹھی نے جائے موقعہ کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کیڈر کو اس کیلئے تیار رہنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کو کہا۔پلوامہ ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حملہ کی سازش کرنے والوں کا خاتمہ کیا گیا ہے اور کہا کہ ملک اس قسم کے بزدلانہ حملوں سے نہیں جھُکے گا۔پارٹی ورکروں کو سمیلن کے لئے اچھے انتظامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمیلن کا مقصد بوتھ لیول کارکنوں کو بااختیار بنانا اور انہیں آنے والے جمہوری عمل میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کی جانب راغب کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہی فقط ایک ایسی پارٹی ہے جو ریاست اور مرکز میں بہترین سرکار دے سکتی ہے جو کہ پارٹی کی گذشتہ پانچ سال کی کارکردگی سے عیاںہے۔
پیس فورم کاگرفتار نوجوانوں کی رہائی کامطالبہ
جموں //جموں پیپلز پیس فورم ممبران کے ایک ہنگامی اجلاس میں پلوامہ و اقعہ میں ہلاک شدگان کو زبر دست خراج عقیدت ادا کیاگیا۔ایک پریس بیان کے مطابق فورم کے ممبران سے بات کرتے ہوئے فورم کے صدر پوتر سنگھ نے حملہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے سرکار سے اسے ملک میںمرو یا کرو کیلئے آخری کال قرار دینے کو کہا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے شہری مرکزی سرکار کی پالیسی کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور پوچھناچاہتے ہیں کہ کتنی دیر اور کب تک ملک کو اپنے سپاہی کھو نے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب بہت ہو چکا ہے اور وقت آیا ہے کہ دشمن ملک کو سبق سکھایا جا ئے ،جو کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ہر وقت مسائل پیدا کرنے میں کوشاں ہے۔اجلاس سے فورم کے کارگُذار صدر ایم ایس کٹوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے سپاہیوں پر چوتھا بڑا حملہ ہے لیکن مرکزی سرکار اس صورتحال کا توڑ کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر میں گُذشتہ پانچ دنوں سے کرفیو نافذ ہے اور لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے لیکن سرکار قوم دشمن طاقتوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے ان قوم دشمن عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے بلکہ ایک سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے ۔ انہوں نے سرکار کو متنبہ کیا کہ ان نوجوانوں کو فوری طور رہا کیا جائے بصورت دیگر حالات بد سے بد تر ہو جائیں گے۔اجلاس میں چیئرمین AJHALA اند رجیت کھجوریہ، ایم ایل شرما، اویناش بھاٹیہ، راجیو مہاجن، ریشم سنگھ جموال، سریندر ویر، گورمیت سنگھ، پورن چند شرما ،پر تھوی سنگھ،بلوان سنگھ، پروفیسر او پی شرما،کملا شرما ، پون سنگھ، اجے سنگھ ،امت شرما، پروفیسر درشن بھاٹیہ ،راجندر گپتا و دیگران نے بھی شرکت کی۔
جموں کشمیر ٹیچرز فورم کی نئی باڈی تشکیل
گنیش کھجوریہ مستعفی قیوم وانی کی جگہ چیئرمین مقرر
جموں //جموں وکشمیر ٹیچرز فورم کا اجلاس جموں میں منعقد ہوا جس میں صوبہ جموں ،کشمیر اور لداخ کے اراکین نے شرکت کی ۔اس اجلاس کے دوران اراکین نے فورم سابقہ چیئر مین عبدالقیوم وانی کے استعفیٰ کے بعد خالی پڑی چیئر مین کی نشست کو پُر کر نے اور نئی باڈی تشکیل دینے پر تفصیلی بات چیت کی ۔اس اجلاس کے دوران اراکین نے مشترکہ طور پر گنیش کھجوریہ کو جموں وکشمیر ٹیچرز فورم کا نیا چیئر مین نامزد کیا گیا جبکہ اکبر خان کو جموں وکشمیر ٹیچرز فورم کا ریاستی صدر نامزد کیا گیا ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے ان دونوں لیڈران نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ وہ ٹیچروں کی جائز مانگوں و مطالبات کو اجاگر کرنے کیلئے اپنا رول ادا کریں گے ۔اجلاس میں موجود تمام اراکین نے کہا کہ وہ نامزد شدہ لیڈران کی سرپرستی میں ٹیچر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرینگے ۔اس موقعہ پر صوبہ جموں کی نئی باڈی بھی تشکیل دی گئی جس میں گنیش کھجوریہ چیئر مین ،یوگ راج سنگھ سلاتھیہ نائب صدر ،سورت سنگھ طوفانی ریاستی سیکریٹری کے علا وہ راج سنگھ ،راجندر گپتا ،درشن شرما ،گوپال سنگھ ،حاجی محمد اقبال ،رویندر سنگھ ،سبھاش شرما کو بھی نئی باڈی میں شامل کیا گیا ہے ۔
انتظامیہ جبراًگھر واپس بھیجے گئے طلباء کے داخلوں کا انتظام کرے :حکیم محمد یاسین
جموں //پیپلز ڈیمو کریٹک فرنٹ کے صدر حکیم محمد یاسین نے ریاستی و مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ جموں اور دیگر مقامات پر کشمیری افراد کو نشانہ بنانے والے عناصر کیخلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بیرونی ریاستوں کے مختلف کالجوں سے جبرا ًگھر واپس بھیجے گئے طلباء کے داخلوں کیلئے اقدامات کو یقینی بنایاجائے تاکہ ان کا تعلیمی کیریئر دائو پر نہ لگ جائے۔موصوف نے کہا کہ کشمیری طلباء کو ملک کے کئی مقامات پر اپنے کرایہ کے کمروں سے جبرا نکالا گیا اور انہیںلگا تار دھمکیوں کا سامنا تھا ۔اس ہراسانی کی یہ انتہاء تھی کہ دہرا دون میں ایسے کشمیری بچوں کو ٹرانسپورٹروں کی جانب سے ٹرانسپورٹ سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئیں حتی کہ طالبات کو بھی بخشا نہیں گیا جو کہ ایک شرمناک عمل ہے ۔پی ڈی ایف سربراہ نے کہاکہ بیرونی ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کی تعلیم پر انتہائی برا اثر پڑا ہے ،وہ کب اور کیسے اپنی تعلیم پر توجہ دے سکتے ہیں جبکہ ان کی جانوں کو خطرہ ہے،حکومت کو چاہئے کہ وہ لازمی طور سنجیدہ اقدامات کرکے ان طلباء کو کشمیری کالجوں میں داخلہ دلائیں تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس سرینگر میں ایک ریجنل انجینئرنگ کالج ہے جسے 15برس قبل این آئی ٹی میں تبدیل کیا گیا،اس سے کشمیریوں کو کیا فائدہ ملا کیونکہ ان میں بیشتر طلباء بیرون ریاست کے ہیں ۔حکیم یاسین نے کہاکہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ چند کالج اور یونیورسٹیوں نے کشمیری طلباء کولینے سے انکار کیا جبکہ بعض نے انہیں زبردستی نکالا ،یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کشمیری طلباء کو اپنے ہی ملک میں بے گھر کردیا گیا،شرپسند عناصر ،جو جموں اور بیرون ریاستوں میں کو کشمیریوں پر حملوں کے مرتکب ہورہے ہیں،پر قابو کرنے کیلئے سخت اقدامات پر زور دیتے ہوئے حکیم یاسین نے کہاکہ ’’کشمیر میں پتھرائو کرنے کے الزامات میں کتنے لوگوں پر سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا ؟کشمیر میں اگر کوئی معمولی پتھرائو میں بھی ملوث ہو تو اسے پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے لیکن جموں اور دیگر مقامات پر یہ عناصر کھلی ڈھیل کیوں پارہے ہیں؟ان کے ساتھ سختی کے ساتھ کیوں نہیں نپٹا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایسے عناصر پر لگام کسی جانی چاہئے اور ریاست جموں وکشمیر میں بھائی چارے کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جانا چاہئے۔حکیم یاسین نے کہاکہ سرکاری ملازمین،تاجر اورطلباء جموں اور بیرونی ریاستوں میں انتہائی غیر محفوظ ہیں اور ان کا یہ احساس روز بروز بڑھ رہا ہے۔پی ڈی ایف سربراہ نے کہاکہ ملک کو اس وقت غم کی گھڑی میں متحد ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے کچھ مفاد پرست عناصر اس صورتحال کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں جن کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہئے جو لوگوں کو علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔
فرقہ پرست عناصر تقسیم کے درپہ :تاریگامی
سیول سوسائٹی جموں اور مکہ مسجد کمیٹی کا رول قابل ستائش
جموں//سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہاہے کہ حادثات لوگوں کو متحد کردیتے ہیں لیکن بدقسمتی سے مفاد خصوصی رکھنے والی اور فرقہ پرست طاقتیں ایسے حالات کو فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں اور لوگوں کو مذہب اور فرقہ کے نام پر تقسیم کیاجاتاہے اور نفرت پھیلانے والے تقسیم کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ۔تاریگامی نے کہاکہ ایسے حالات میں امن پسند عوام کو سامنے آکر اپنی زبان کھولنی چاہئے اور انہیں خاموش نہیں رہناچاہئے ۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق تاریگامی نے مکہ مسجد بٹھنڈی کادورہ کرکے وہاں درماندہ کشمیریوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور مکہ مسجد کمیٹی کا انتظامات کیلئے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ خوش آئند بات ہے کہ مقامی مسجد کمیٹی نے مشکل وقت میں لوگوں کو سہارادیاہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ انتظامیہ کے کسی اعلیٰ افسر نے یہاں پہنچ کر درماندہ لوگوں کا حال جاننے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ان کو کشمیر منتقل کرنے کیلئے کوئی بندوبست کیا۔ ان کاکہناتھاکہ کسی کے پاس کرایہ تک نہیں اور لوگ مقامی کمیٹی کے ذریعہ خود ہی یہاں سے کشمیر جانے کا بندوبست کررہے ہیں جبکہ ایسا کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری تھی ۔ تاریگامی نے کہاکہ اس وقت جو بھی ہورہاہے یہ ریاست جموں و کشمیر کے مفاد میں نہیں ہے اور لوگوں کو فرقہ پرستوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو یہاں کے بھائی چارے اور سیکولر روایات کو نقصان پہنچاناچاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکام کو پہلے روز سے ہی جموں کے حساس علاقوں میں سیکورٹی کی اضافی نفری تعینات کرنی چاہئے تھی کیونکہ پلوامہ میں سی آر پی ایف کانوائے پر حملہ کے بعد ایسے حالات پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کئے جارہے تھے ۔سی پی آئی ایم رہنما نے کہاکہ حکومت کو ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے جو ریاست میں امن و فرقہ وارانہ بھائی چارے کو تباہ کرناچاہتے ہیں اوراس مرحلے پر سیاسی جماعتیں ، سیول سوسائٹی اور میڈیا اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کثرت میں وحدت والی ریاست ہے جہاں بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی قدیم روایات کو برقرار رکھنا ضروری ہے جس کیلئے یہ لازمی ہے کہ اس روایت کو نقصا ن پہنچانے والوں کے خلاف کڑی کارروائی ہو ۔ تاریگامی نے کہاکہ موجودہ حالات میں مکہ مسجد کمیٹی اور سیول سوسائٹی قابل ستائش اقدام کررہے ہیں اور انہی کی طرف سے ملک کے مختلف علاقوں سے آرہے کشمیریوں کو پناہ دے کر کھانا کھلایاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ انہیں بٹھنڈی میں انتظامات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور وہ مسجد کمیٹی کے ممبران کے بہت زیادہ مشکور ہیں ۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اس پر زور دیاکہ افسران کی ٹیم تعینات کرکے لوگوں کی مدد کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ سب سے بڑا مسئلہ بیرون ریاست سے آرہے کشمیریوں کیلئے جموں سے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرناہے ۔ تاریگامی نے کہاکہ انتظامیہ کو درماندہ لوگوں کا دھیان رکھناچاہئے اور انہیں حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیاجائے ۔
بفلیازکے حاجی فاروق خان کی والدہ کا انتقال
ناخوشگوار حالات کے باعث جموں میں ہی دفن کردیاگیا
پونچھ //حاجی فاروق خان چیئرمین ماڈل انسٹی ٹیوٹ آف ڈورگیاں بفلیازکی والدہ عالم بی گزشتہ سوموارحیدرپورہ جانی پورجموں میں رضائے الٰہی سے انتقال فرماگئیں۔جموں کے ناخوشگوارحالات کے پیش نظر مرحومہ کی میت کوبفلیازنہیں لے جایاجاسکااوران کی تجہیزوتکفین جموں میں کی گئی اورمرحومہ کی نمازجنازہ سروال جموں قبرستان میں اداکی گئی جس میں کثیرتعدادمیں لوگوں نے حصہ لیا۔مرحومہ ایک نیک ،صالحہ اورپرہیزگارخاتون تھیں۔واضح رہے کہ مرحومہ پہاڑی نیوزبلیٹن جے کے چینل کے اینکرپرسن ایڈوکیٹ یاسرفاروق خان کی دادی تھیں ۔عالم بی کی رحلت پرمختلف سیاسی ،سماجی اورمذہبی تنظیموں کے کارکنان بشمول محمدبشیرخان ،عاقب خان،ڈاکٹرانظرنوازخان، ارشدچوہدری چیئرمین کریسنٹ پبلک سکول جموں ،راہل شرما، ذوالقرنین چوہدری ایڈوکیٹ ،انجینئر اطہر نوازخان ،حاجی غلام محی الدین صدربیوپارمنڈل تھنہ منڈی ،حاجی لیاقت خان، ڈاکٹرنصیب علی چوہدری ،ایڈوکیٹ جہان زیب احمدحمال ، عبدالحمیدخان ریٹائرڈ رینج آفیسرودیگران نے غمزدہ خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی کااظہارکرتے ہوئے مرحومہ کیلئے دعائے مغفرت فرمائی ہے۔
ڈی سی پونچھ کاسرحدی دیہات کادورہ
عوامی مسائل اورتعمیراتی کاموں کاجائزہ لیا
پونچھ//ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ راہل یادونے حدمتارکہ کے قریبی دیہات دیگوار، تیڑواں اوربگیال درہ کادورہ کرکے عوامی مسائل اورتعمیراتی کاموں کاجائزہ لیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی سی پونچھ راہل یادونے پنچایت گھرمیں لوگوں کے ساتھ میٹنگ منعقدکی اورانہیں درپیش پریشانیوں سے آگاہی حاصل کی۔اس موقعہ پرلوگوں نے بتایاکہ یہاں پرنہ موبائل سروس اورنہ ہی لینڈلائن سروس ہے جس کی وجہ سے لوگ مشکل حالات میں انتظامیہ اوراپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کرپاتے ہیں اورعام دنوں میں بھی باہرکی دنیاسے کٹے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ ایمبولینس اوربجلی کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی جانکاری دی۔ اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنر نے لوگوں کومسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔اس دوران علاقہ میں تعمیراتی کاموں کی پیش رفت کابھی جائزہ لیاگیااورمتعلقہ محکمہ جات کوہدایت دی گئی کہ تعمیراتی کاموں کی رفتارمیں سرعت لائی جائے اورانہیں بروقت پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے۔
راجوری پونچھ کے سرپنچوں کادورہ ٔ پونہ
سیلف گورننس ماڈل کی عمل آوری کاجائزہ لیا
راجوری//کیپسٹی بلڈنگ دورے پرپونے،چنئی ،پانڈیچری اورنئی دہلی گئے جموں وکشمیرکے سرپنچوں نے مثالی گائوں ہوارے بازاراورریلے گائون سدھی پونے کادورہ کرکے وہاں پرپنچایت راج کے تحت سیلف گورننس ماڈل کی عمل آوری کاجائزہ لیا۔دورے کے دوران راجوری ،پونچھ کے کسانوں کوپانی کے تحفظ کی تکنیکوں ، ملازمت کے مواقعے پیداکرنے، صفائی ستھرائی ، حکومت کی طرف سے مختلف سکیموں کے تحت آنے والی رقومات کے منصفانہ استعمال ، سکل ڈیولپمنٹ میں اضافہ کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔اس دوران دورے میں شامل سرپنچوں کی ٹیم نے پوپٹ رائو پوارسرپنچ ہوارے بازارکے ساتھ مختلف امورات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔