درنگدھوران ،کشتواڑ میں صحت و صفائی پر توسیعی لیکچر کا اہتمام
کشتواڑ //آرمی کی جانب سے ضلع میں گورنمنٹ مڈل سکول اکھالہ، درنگدھوران میں صحت و صفائی پر توسیعی لیکچر کا اہتمام کیا گیا ۔اس پروگرام میں مقامی لوگوں کو پالی تھین لفافوں کے استعمال سے پید اشدہ اثرات پر جانکاری دی گئی۔پروگرام میں 55 مقامی لوگوں نے شرکت کی جنھیں روز مرہ زندگی میں پالی تھین کے استعمال پر پابندی کے فوائد کی جانکاری دی گئی۔مقامی لوگوں اور طلاب کو پالی تھین کے استعمال اور اسکا کرہ ارض ، پانی اور ہوا پر پیدا شدہ مُضر اثرات سے باخبر کیا گیا ۔لیکچر کا مقصدملحقہ علاقہ کے لوگوں کو اپنے ارد گرد کو صاف رکھنے کی اہمیت بیان کرنا تھا ۔مقامی لوگوں اور طلاب نے فوج کی جانب سے ایسا پروگرام منعقد کرنے کی ستائش کی اور اس اُمید کا اظہار کیا کہ اس پہل سے عام لوگوں کو حفظان صحت سے متعلق جانکاری فراہم ہوگی۔
چوکیدار نمبردار یونین ضلع ڈوڈہ کاجدوجہد شروع کرے کا اعلان
ڈوڈہ//چوکیدار نمبردار یونین ضلع ڈوڈہ کے صدر ضلع پورن چند شرما نے ریاستی حکومت کی طرف سے چوکیداروں نمبرداروں کے سلسلہ میں جاری اُس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے جدوجہد چلانے کا اعلان کیا جس اقدام میں ریاستی حکومت چوکیدارون نمبرداروں کو بلا پنشن ریٹائر کرنا چاہتی ہے۔ ڈوڈہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ اُن لوگوں نے پوری عمر حکومت و عوام کی خدمت گزاری میں گزاری ہے اور عسکری دور میں کئی نمبردار چوکیدار خدمت انجام دیتے وقت قربا ہوگئے جبکہ ہماری تنخواہیں قلیل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جس طرح ملک میں آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد یہ قانون جاری رہا ہے کہ ایک شخص تاحیات نمبردار چوکیداررہتا ہے اور اب ان کو بلا پنشن ریٹائرڈ کرنا ظلم و ناانصافی ہے جو ناقابل برداشت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بڑھاپے میں مُنہ کا نوالہ چھینے کی مترادف ہے جس کی مہذب سماج میں کوئی گنجائش نہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہماری خدمات کے عوض ہم کو جو پچاس روپے اجرت دیتی ہے اب وہ بھی چھیننا اہتی ہے اور مجبوراً ہم کو عدالتی طوالت میں ڈالنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہم کو کم از کم ماہانہ اُس حد تک تنخواہ دی جائے جو کہ ایک تربیت یافتہ لیبر کو ملتی ہے اور بجائے اس کے ہم سے نوالہ چھین لیا جارہا ہے جو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہوگی۔
ماہ رمصان میں بنیادی سہولیات
کو یقینی بنایا جائے :کچلو
رفیع چوہدری
کشتواڑ / / نیشنل کانفرنس کے لیڈر و ایم ایل سی کشتواڑ سجاد احمد کچلو نے موجود ہ مخلوط سرکار پر تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ خط چناب کی عوام بنیادی سہولیات کی عدم ستیابی کی و جہ سے سخت مشکلات میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماہ مبارک رمصان کا ماہ بھی جاری ہے لیکن درجنوں گائوں میں لوگ راشن ،گیس خاکی تیل ادویات جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیںلیکن انتظامیہ و سرکار مقامی عوام کی بنیادی سہولیات کو یقینی طور بحال کرنے کی طرف توجہ نہیں دی رہی ہے جس سے عوام اس مبارک ماہ میں سخت مشکلات میں ہے۔ کچلو نے کہاکہ ضلع انتظامیہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوئی چکی اورعوام کو بنیادی سہولیات فرام کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔کچلو نے انتظامیہ کے اعلی افسران سے اپیل کی ہے کہ مبارک ماہ رمصان میں خط چناب کے علاوہ ضلع کشٹواڑ کے عوام کی بنیادی سہولیات کو یقینی طور پر بحال کیا جائے تاکہ اس مبارک ماہ میں عوام کو اور مشکلات کا سامنا نہ ہو ۔
دھاروٹھ ہائی سکول میں عملہ کی عدم دستیابی
سکول بند ہونے کے دہانے پر، طلاب کا مستقبل مخدوش
ڈوڈہ//ضلع ڈوڈہ کے دور افتادہ گاؤں کے سرکاری اسکول بد حالی کا شکار ہیں جہاں پر آئے روز کہیں ٹیچر ڈیوٹی نہ دیتا ہے اورکہیں پر بچّوں کو بنیادی سہولیت سے محروم رکھا جا رہا ہے کی خبر سامنے آ رہی ہیں۔ ضلع صدر مقام ڈوڈہ سے محض پندرہ کلو میٹر دوری پر واقع تعلیمی زون بھاگواہ کلسٹر ہیڈ کاستی گڑھ سے منسلک گورنمنٹ ہائی سکول دھاروٹھ سِن 1966 میں قائم ہونے والا سکول بند ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکار جدید طرز کے آلات سرکاری سکولوں میں فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے کو پہلے کے مقابلے میں مستحکم کیا گیا ۔مختلف اسکیم کے تحت ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ کی بھرتی عمل میں لائی گئی ، جگہ جگہ اسکول کھول دئیے گئے ۔تاہم آج کی صورت حال یہ ہے کہ سکول اب عالیشان عمارت کا ہی نام رہ گیا ہے جبکہ تعلیم کا صرف نام ہے بچّوں کو انتہائی غیر معیاری تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ سکول میں اساتذہ کی اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی اور لاپرواہی ہے ۔اْس کے بعد اٹیچمنٹوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ موضع منڈول تحصیل کاستی گڑھ کے مختلف بستیوں سے آئے لوگوں نے ہائی سکول دھاروٹھ کا اچانک دورہ کیا جس دوران تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی بائیس اسامیوں والے سکول میں صرف دو ٹیچر ہی پائے گئے جبکہ اْن کے ہمراہ دیگر دو غیر تدریسہ عملہ ہی سکول میں حاضر تھا ۔مقامی لوگوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکول میں کس قدر تعلیم چل رہی ہے وہ صاف عیاں ہے اور سرکار کے محکمہ تعلیم پر کیا اثرات مرتب ہیں ۔لوگوں نے ماہرین تعلیم سے یہ سوال کیا ہے کہ دس کلاسوں کے مختلف مضامین کو دو اساتذہ کیسے پڑھا سکتے ہیں؟ اور کیا ایسا ممکن ہے بورڈ کے امتحانات میں یہ بچّے کہاں کھڑے ہیں؟ ۔ مقامی بزرگ و ریٹائرڈ ماسٹر جگت رام بھگت نے ہائی سکول میں ہندی ٹیچر کی عدم دستیابی پر نجی طور پانچ ہزار ماہانہ پر ہندی ٹیچر کو تعینات کیا ہے تاکہ سکول میں تعلیمی سرگرمی میں خلل پیدا نہ ہو۔ مقامی سرپنچ رشپال سنگھ نے بتایا کہ مذکورہ سکول کے لئے پانچ ماسٹر گریڈ بشمول ہیڈ ماسٹر کی اسامیاں خالی پڑی ہیں اور ہیڈ ماسٹر گزشتہ دو برس سے ہے ہی نہیں اور آٹھ ٹیچرز کی اسامیوں میں سے دو تاحال خالی ہیں لیکن جائے موقع پر صرف دو ہی ٹیچر سکول میں حاضر ہیں۔ رمیش سنگھ ،شمس دین ڈار ،و دیگر لوگوں نے بتایا کہ اْن کو سکول کی حالت دیکھ کر بہت دْکھ ہو رہا ہے اور وہ بچّوں کے مستقبل کو لے کر کافی فکر مند ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب سکول میں تدریسی عمل ہی متاثر ہے تو بچّوں نے امتحان میں کیا لکھنا ہے۔ اْنہوں نے بتایا کہ ہمارے بچّوں کے مستقبل کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ لوگ ہفتہ میں ایک دو دن کے لئے سکول میں سیر تفریح کرنے آتے ہیں اور باقی دِن آرام کے ساتھ اپنے بچّوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔ والدین کا کہنا ہے کہ ہم یہاں خون پسینے کی کمائی کرکے اپنے بچّوں کو سرکاری سکول میں بھیجتے ہیں جس کی بدولت اِن اْساتذہ کو بھاری بھرکم تنخواہیں ملتی ہے اور اس سب کی ذمہ داری متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ حکام کی ہے ، جن کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرکے یہ لوگ اپنا الّو سیدھا کر لیتے ہیں ۔مقامی لوگوں نے اتفاق رائے فیصلے لیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچّوں کو ہی سکول سے لے جائیں گے تاکہ بار بار پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور دو دِن کے اندر بچّوں کی سرٹیفکیٹ متعلقہ حکام سے طلب کی ہے اور تب تک بچّوں کو سکول نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرکار اس اسکول کو چلانے کے لئے ہر ماہ ساڑھے چار لاکھ سے زائد رقم خرچ کرتی ہے تو اس کے عوض فائدہ ایک پھوٹی کوڑی کا بھی نہ ہوتا ہے ۔مقامی لوگوں نے وزیر تعلیم چودہری ذولفقار علی ،وزیر مملکت شکتی راج پریہار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور مداخلت کرکے اس مسئلہ کا حل تلاش کریں ۔
رام بن میں دست قابو رکھنے کا پروگرام منعقد
رام بن //ضلع ہیلتھ سوسائٹی رام بن کی جانب سے ضلع ہسپتال میں intensified Diarrhoea Control پندرھواڑہ2018 پروگرام منعقد کیا گیا ۔پروگرام میںضلع ہسپتال رام بن کے میڈیکل افسروں ، عملہ ، نیم طبعی عملہ اور آشا ورکروں کے علاوہ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقعہ پر ایم ایل اے رام بن نلیم کمار لنگہے مہمان خصوصی تھے،جنھوں نے پروگرام کا افتتاح کیا۔چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر سیف الدین خان ،ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر اقبال بٹ،میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ،ڈی ایچ رام بن ڈاکٹر ڈی وی سنگھ بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔اس موقعہ پر اپنے خطاب میں ایم ایل اے نے آشائوں کی جانب سے اس پروگرام کا کامیاب بنانے میں نبھائے جا رہے کردار پر روشنی ڈالی،جو کہ 9 جون تک جاری رہے گا۔انہوں نے دیگر تمام سٹیک ہولڈروں یعنی کہ ہیلتھ، ایجوکیشن اور آئی سی ڈی ایس کو ضلع میں یہ پروگرام کامیاب بنانے کے لئے تعاون کرنے کی اپیل کی،تاکہ ضلع میں ایک بھی بچہ اس بیماری کی وجہ سے لقمہ اجل نہ بن سکے۔ایم ایل اے نے مقامی لوگوں کے مطالبات کے رد عمل میں اپنے حلقہ ترقیاتی فنڈز سے ضلع ہسپتال کے لئے ایک ایمبولنس منظور کردی اور سی ایم او سے اس سلسلہ میں لوازمات فوری طور مکمل کرنے کی ہدایت دی۔سی ایم او نے اور پروگرام سے متعلق کلیدی نوٹ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ بچوں میں دست کی بیماری 0سے5سال کی عمر تک کے بچوں کے لئے مہلک ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ intensified Diarrhoea Control پندرھواڑہ2018 کا مقصد لوگوں کو اس بیماری سے ہوئے موت کی جانکاری دینا تھا۔ ضلع ہیلتھ سوسائٹی رام بنintensified Diarrhoea Control پندرھواڑہ۔ 28 مئی سے9جون2018 تک منا رہی ہے۔انہوں نے اس دوران منعقد کی جارہی مختلف کاروائیوں کی جانکاری فراہم کی۔ڈپٹی سی ایم او نے اس بیماری کے وجوہات پر مفصل روشنی ڈالی اور اس کے احتیاطی تدابیر کی وضاحت بیان کی۔اس موقعہ پر گھر میں ORS اور اسکے استعمال کی جانکاری بھی دی گئی۔
پٹوار ایسوسی ایشن ڈوڈہ کی ہڑتال 15ویں روز بھی جاری
ڈوڈہ//آل جموں کشمیر پٹوار ایسوسی ایشن کی طرف سے اپنے مطالبات کے حق میں جاری کام چھوڑ ہڑتال کے 15ویں روز جاری رہی جس وجہ سے عام لوگوں کو زبر دست مشکلات کا بھی سامنا ہے ۔احتجاجی دھرنا پر بیٹھے پٹواریوں نے اپنے مطالبات کو لے کر شدید نعرہ بازی کی ۔ ایسو سی ایشن کے عہدیداروں نے خطاب کے دوران کہا کہ ہمارے جو بھی مطالبات ہیں وہ صرف ہمارے نہ ہیں بلکہ ان سے براہ راست عوامی مفاد جڑا ہے اور حکومت کے تسلیم شُدہ ہیں ۔مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پٹواری چونکہ گریجویٹ ہوتا ہے اس لئے اس کے لئے دیگر محکموں میں گریجویٹ ملازمین کا گریڈ ہونا چاہئے جس کو کم گیا ہے اسی طرح راست طور نائب تحصیلداروں کی بھرتی سے محکمہ کو کئی مسائل درپیش آتے ہیں ۔اس لئے راست نائب تحصیلدارون کی تعینات کا نظام ختم ہو اور جلد سے جلد نئے پٹوار حلقوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ کام میں آسانی ہو اور لوگوں کو فائدہ مل سکے۔ پٹوار خانوں کی تعمیر تک اور نجی مکانات میں چلائے جانے والے پٹوار خانوں کو مطابق مارکیٹ ریٹ کرایہ دیا جائے اور محکمہ جاتی ترقیوں کو وقت مقرر پر دینے کے لئے مضبوط ضابطہ اخلاق و قانون بنایا جائے اور پٹواریوں کو سائل خرچہ میں اضافہ ہو کہ موجودہ 110روپے انتہائی ناکافی اور مذاق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جاتی شکایتی سیل کا قیام اور جموں و سری نگر میں ایسوسیشن کو دفتر کمرہ ہال فراہم کیا جائے اور اگر یہ مطالبات جلد سے جلد تسلیم نہ ہوئے احتجاجی ہڑتال جاری رہے گی ۔دریں اثناء بیوپار منڈل ڈوڈہ کے صدر خواجہ کرامت اللہ نہرو نے احتجاجی پٹواریوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرکے جلد سے جلد معاملہ حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارے ہاں حکومت کا یہ معمول ہے کہ جب تک لوگوں سے قربانیاں نہ لی جائیں اُن کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پٹواری سماج کا اہم و بنیادی جُز ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ان کے بوجھ کو کم کیا جائے اورپٹواریوں کے بیشتر مطالبات عوامی مفاد کی تعریف میں آتے ہیں اور اگر چند یوم میں حکومت نے معاملہ حل نہ کیا تو سیول سوسائٹی اور زیادہ طاقت سے اس احتجاج میں شامل ہوگی۔
وائس چانسلر کا ڈگری کالج ڈوڈہ کا دورہ
ڈوڈہ //جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر آر ڈی شرما نیگورنمنٹ ڈگری کالج کا دورہ کیا،جہاں پر کالج کے پرنسپل، سٹاف اور طلاب نے شاندار استقبال کیا اور این سی سی افسر پروفیسر بابو رام کی زیر نگرانی گارڈ آف ہانر پیش کیا۔وائس چانسلر نے طلاب کو اخلاقی اقدار کے بڑھتے ہوئے مطابقت پر خطبہ دیا اور کالج کے سٹاف و طلاب کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔وی سی کو کالج کے مسائل کی جانکاری دی گئی۔اس دوران وی سی نے طلاب کی جانب سے اُٹھائے گئے سوالات کا جواب بھی دیا۔ وی سی نے کالج کے پرنسپل ،سٹاف اور طلاب کے کاوشوں کی ستائش کی اور ایک سود مند لیکچر دیا۔کالج اور سول سوسائٹی نیپروفیسر آر ڈی شرما کے پہلے دورے کی سراہنا کی اور اسے کالج کے لئے شاندار لمحہ قراردیا ۔اس سے قبل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شفقت حُسین رفیقی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔پروگرام میں نظامت کے فرائض پروفیسر زین العابدین بانڈے نے انجام دئے جبکہ پرو گرام کا اہتمام ڈاکٹر وحید خوار بلوان نے کیا تھا اور ڈاکٹر امتیاز احمد بھلیسی نے شکریہ کا ووٹ پیش کیا۔
چاس ،کشتواڑ میں تعلیم کی اہمیت پر توسیعی لیکچر
کشتواڑ//فوج نے نوجوان ذہنوں کو مستقبل سے جوڑنے کی کوششوں کے سلسلہ میں گورنمنٹ مڈل سکول دروبلی،چاس میں تعلیم کی اہمیت پر ایک توسیعی لیکچر کا ہتمام کیا۔لیکچر میں 58طلاب نے شرکت کی۔لیکچر کا مقصد اجتماع کو بھارت کے تعلیمی نظام سے واقف کرنا اور اسکا نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے میں نبھائے جا رہے کردار پر روشنی ڈالنا تھا ۔لیکچر کے ذریعہ سے طلاب کو کل ہُم ترقی کے لئے تعلیم کا جوری رکھنے کی ترغیب دی گئی۔مقررین نے گرل چائیلڈ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی کیونکہ اس کا سماج اور قوم کی فروغ پر انحصار ہوتا ہے۔ اجتماع نے لیکچر کا اہتمام کرنے کی کافی سراہنا کی۔